اسرائیلی مخالفت کے باوجود پولینڈ کی سینیٹ میں ’ہولوکاسٹ بل‘ منظور

وارسا :پولینڈ کی سینیٹ نے ہولو کاسٹ کے نام سے ایک بل منظور کر لیا ہے۔یہ بل بیرون ملک پولینڈ کے دفاع اور اس تشخص بہتر بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے لیکن اس مقصد کے حصول سے قبل ہی مشرقی یورپ کے اس ملک کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔
العربیہ کے مطابق جمعرات کو پولش پارلیمان کے ایوان بالا کے 57 ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا ،23 نے مخالفت کی ہے اور دو ارکان رائے شماری کے وقت غیر حاضر رہے تھے۔اس بل کے تحت جو کوئی بھی نازی جرمنوں کے موت کے کیمپوں کو پولش قرار دے گا یا تھرڈ ریخ جرائم کو پولینڈ کے کھاتے میں ڈالے گا تو اس کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک جیل کی سزا سنائی جاسکے گی۔

پولش پارلیمان کے ایوان زیریں نے گذشتہ جمعہ کو اس بل کی منظوری دی تھی ۔پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پولینڈ کی حکمراں دائیں بازو کی قانون اور انصاف پارٹی کی اکثریت ہے۔

اب پولش صدر آندرزیج ڈوڈا کے دستخطوں کے بعد یہ بل قانون بن جائے گا۔انھیں 21 دن میں اس پر دستخط کرنا ہوں گے۔اس دوران میں وہ اس کو ویٹو بھی کرسکتے ہیں لیکن انھوں نے سوموار کے روز ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ’’ہم یقینی طور پر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ہمیں تاریخی سچائی کے دفاع کا حق حاصل ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ انھیں اسرائیل کے جارحانہ اور مخالفانہ ردعمل پر صدمہ پہنچا ہے۔

اسرائیل نے پولینڈ سے اس بل کو منظور نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ اس کے نزدیک اس بل کی ایک شق سے نازی جرمنی کے تعذیبی کیمپوں میں یہودیوں کی نسلی تطہیر کے عمل میں پولینڈ کے کردار سے انکار کی کوشش کی گئی ہے۔صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ ہم سچ کو مسخ کرنے اور تاریخ کو ازسرنو لکھنے یا ہولو کاسٹ سے انکار کو برداشت نہیں کریں گے‘‘۔

اسرائیلی پارلیمان الکنیست کے ارکان نے ہولو کاسٹ سے انکار سے متعلق قانون میں ترمیم کے لیے بدھ کو ایک مجوزہ بل کا مسودہ تیار کیا ہے تاکہ نازیوں کے یہود کے خلاف جرائم کی مدد کرنے والوں کے کردار سے انکار یا اس کو محدود کرکے پیش کرنے والوں کو قید کی سزا دی جاسکے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com