سر سید نہ ہوتے تو مسلمان جانے کہاں ہوتے:طلعت احمد، وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ

ابوالفیض اعظمی

نئی دہلی 2، فروری،آکاش ٹائمز: سر سید کی عصری معنویت کے موضوع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سہ رورزہ بین الاقوامی سیمینار کے افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ملک وبیرون ملک سے آئے دانشوروں کا خطاب کیا۔ اس موقع پر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر سمیت اساتذہ کے کتابوں کی رسم رونمائی عمل میں آئی ۔ پروفیسر کوثر مظہری کے مضامین ’ارتسام ‘ اورڈاکٹر ندیم احمد کی کتاب ’ترقی پسندی ،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا اجرا جا معہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد کے ہاتھوں ہوا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ سرسید کے تو بہت سے مقاصد تھے لیکن میں یہاں دواہم مقاصد (تعلیم اور گنگا جمنی تہذیب)کے تعلق سے کچھ بات رکھنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ تعلیم سرسید کے یہاں سب سے اہم تھی وہ پوری قوم کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتے تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی اگر دیکھا جائے تو یہ بھی علی گڑھ کا ہی ایک حصہ ہے ۔ سرسید یہ بھی چاہتے تھے کہ ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارہ قائم رہے اور اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب جس پر یہ ملک ہمیشہ سے ناز کرتا رہا ہے وہ مجروح نہ ہونے پائے ۔ جوتعلیمی صورت حال ہے اس میں دیکھا جائے تو اگر سر سید نہ ہوتے تو مسلمان جانے کہاں ہوتے۔
پروفیسر افتخار عالم خان نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرسید کی سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ عوام کے درمیا ن دین ودنیا کا صحیح تصور واضح ہو سکے ۔انہوں نے عقیدے اور معاشرت کے فرق ساتھ ساتھ دین اور دنیا کے فرق کو بھی واضح کیا ،جس میں انہیں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔
فرانس سے آئے ہوئے مہمان خصوصی آل دیزیوز نے کہا کہ گارساں داتاسی 1930ء میں پہلا شخص ہے جس نے بھارت کے علاوہ پوری دنیا میں پہلی مرتبہ اردو کی بڑی پوسٹ حاصل کی ۔وہ اپنی زندگی میں ہندوستان نہ آ سکا ۔
ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگویجزپروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ سرسید نے ایک لغت تیار کی تھی ،گارساں دتاسی پہلا شخص ہے جس نے اس پر مدلل مقالہ لکھا اور اس کی اہمیت کے بارے میں بتایا ۔انہوں نے مزید کہا کہ سرسید اپنے عہد کے مجدد تھے یہ ایسا دور تھا جس میں نئی اور پرانی روشنی کے درمیان ایک کشمکش تھی ۔ کسی کے پاس کستی تھی تو ساحل نہیں تھا اور کسی کے پاس ساحل تھا تو کشتی نہیں تھی ۔سر سید نے ایسے وقت میں دونوں کے سہارے کا کام کیا ۔
واضح رہے کہ سہ روزہ سیمنار میں ملک اور بیرون ملک کے بہت سے مقالہ نگار اپنے مقالے پیش کریں گے ۔پروگرام کے دوران شعبہ ارددو کے سالانہ مجلہ ارمغان کے نئے شماے کے علاوہ پروفیسر کوثر مظہری ،ڈاکٹر ندیم احمد اور دو رسرچ اسکالر کی کتابوں کی اجرا کی رسم بھی پوری کی گئی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com