مفکرملت مولانا عبد الجلیل رحمانی رحمہ اللہ حیات و خدمات

نام کتاب: مفکرملت مولانا عبد الجلیل رحمانی رحمہ اللہ حیات و خدمات (1917،1986)
مرتب : ( ڈاکٹر) جمیل احمد علیگ
سن اشاعت : 2011ء
صفحات : 500
قیمت : 150
تبصرہ نگار : آفاق منظر سنابلی ، نئ دہلی
شائع کردہ : شعبئہ تصنیف و تالیف (دار العلوم ششہنیاں، سدھارتھ نگر، یوپی)

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بهلانے کے لیے ہیں
کسی کتاب پریہ میرا پہلا تبصرہ ہے،ہوسکتا ہے میں اپنے کم علمی اور عدم تجربہ کی وجہ سے تبصرہ کے تمام لوازمات کا احاطہ نہ کرسکوں،پھر بھی حتی المقدور کوشش ہے میرے قدموں کی چاپ تبصرہ کی تمام گھاٹیوں میں سنائ دےاور تبصرہ کا حق کسی قدر ادا ہوجائے. بہر حال اس کا فیصلہ قارئین ہی کریں گے کہ میں کتنا کامیاب ہوں.
گرتے ہیں شہشوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
کتاب کے مرتب مفکرملت مولانا عبد الجلیل رحمانی رحمہ اللہ کے خلف الرشید ،سب سے بڑےصاحبزادے ڈاکٹرجمیل احمدعلیگ ہیں۔ موصوف اپنے والد کی علمی خدمات اور ان کے کارناموں سے نسل نو کو واقف کرانے میں مصروف عمل ہیں۔ ۔سوانحی مجموعہ کے بعد مفکر ملت کے رشحات قلم سے نکلنے والے علمی فکری انقلابی مضامین، ادبی شہ پاروں کو بھی منظر عام پر لانے والے ہیں۔اللہ کرے جلد از جلد یہ مبارک کام پایہ تکمیل کو پہنچ جائے،ساتھ ہی ساتھ اللہ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور مفکر ملت کو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔آمین
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیون کر ہو
یہ سوانحی مجموعہ تقریبا ۵۰۰ صفحات پرمشتمل ہے. اس کتاب کے اندران لوگوں کےمضامین ہیں جنہوں نے مولانا کی تقریروں کو سنا ہے ،تحریروں کو پڑھا ہے، قوم و ملت کی تئیں مولانا کی خدمات اور اس کے مثبت نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھاہے،سفروحضر میں مولانا کے ساتھ رہے ہیں ؛
درس وتدریس کے اندازواسلوب سے واقف ہی نہیں بلکہ شاگردی کا شرف بھی حاصل کیا ہے ۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مفکر ملت کی زندگی کے مختلف گوشے )جو ملی ،سماجی، ملکی ،جماعتی خدمات پر مشتمل ہیں(بڑے ہی حسین پیرائے میں کھل کر ہمارے سامنے آگئے۔اس کتاب میں ابتدائیہ اور خود نوشت سوانح حیات کو چھوڑ کر آٹھ ہیڈنگیں ہیں(جیسا کہ آگے اس کا تذکرہ موجود ہے) اور ہر ہیڈنگ کے تحت مختلف لوگوں کے مضامین ہیڈنگ کی مناسبت سے درج کئے گئے ہیں ۔ ۔بطور علم کے
1-میری نظر میں آپ کے تلامذہ میں سب سے فائق مولانا عبد الحکیم مجاز رحمانی ہیں. شاید ڈاکٹر صاحب سے لاعلمی میں ان کا نام چھوٹ گیا۔مولانا عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ نے مولانا عبد الحکیم مجاز رحمانی پر جو مضمون قلم بند کیا ہے اس میں مفکر ملت کو ان کا استاذ بتایا ہے۔
2- مولانا عبد الحکیم مجاز رحمانی کی حوالہ سے مولانا عبد الحمید رحمانی کے مضمون میں مفکر ملت کا بھی تذکرہ تقریبا ایک صفحہ پر مشتمل ہے ۔اگر اگلی طباعت میں اس کو بھی شامل کر دیا جائے تو بہتر ہوتا۔مضمون مختصر مگر جامع ہے ۔اور اپنے دور کی ایک علمی شخصیت نے قلم بند کیا ہے۔ حاشیہ میں موجود ہے۔
مولانا عبد الجلیل رحمانی رحمہ اللہ (1986ء)

مولانا عبد الجلیل رحمانی نے ابتدائ تعلیم مقامی مدارس میں اور اعلی تعلیم دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں حاصل کی ۔1355ھ میں دار الحدیث رحمانیہ سے فارع التحصیل ہوئے ،اساتذہ میں علامہ نذیر احمد رحمانی اور شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی وغیرہم ہیں فراغت کے بعد مولانا نے سات سال تک دارالحدیث رحمانیہ میں تدریس کی ذمہ داری سنبھالی ۔اس کے اعد اپنے وطن کی ضرورت اور یوپی کے شمالی علاقہ اور نیپال کے بارڈر اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے علماء و مفکرین کے شدید اصرار پر پنےوطن ششہنیاں ضلع بستی میں دارالعلوم قائم فرمایا اور اسی کے پلیٹ فارم سے اردو کا ایک معیاری ماہنامہ “المصباح” شائع کرنا شروع کیا جو تقریبا چار سال جاری رہا ۔تقسیم ہند کے دستور کی تشکیل میں انھوں نے اپنے دونوں اساتذہ مولانا نذیر احمد رحمانی اور شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی اور مولانا عبد الوہاب آروی کے ساتھ حصہ لیا اور اس کے بعد مرکزی جمعیت اہلحدیث کے جدید دستور کے تحت تشکیل یافتہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے اور 1971ء تک اس عہدہ پر فائز رہے ۔وہ ایک کامیاب مدرس فاضل مقرر اور اچھے مدبر اور منتظم تھے ۔ایک دور میں انہیں سیاست میں دلچسبی ہوئ اور ایم ایل کے الیکشن میں بھی کھڑے ہوئے اور علماء کے لئے جدید دور کی سیاست اور انتخابی جوڑ توڑنامناسب ہونےکی وجہ سے ناکام بھی ہوگئے ۔لیکن تقسیم ملک کے بعد جماعت کی تنظیم اور دستور کی تشکیل میں ان کا بڑا حصہ بھی رہا ۔مرکزی دارالعلوم بنارس کے سلسلہ میں بھی انھوں نے بڑی جدوجہد کی۔ اللہ تعالی ان کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے۔(مجموعہ مقالات عبد الحمید رحمانی جلد 2 شخصیات ص 427۔428)
مولانا مستقیم سلفی /استاذجامعہ سلفیہ بنارس نے بھی آپ کے حوالہ سے ایک مضمون قلم بند کیا ہے ۔(دیکھیں محدث بنارس اپریل 2016) file:///C:/Users/Majco3/Desktop/Mohaddis_Apr_2016.pdf
اس کتاب کو منصئہ شہود پرلانے میں جس نے جیسی بھی کوشش کی اللہ اسے اجر جزیل سے نوازے_ آمین.
کتاب کی جاسوسی کرنے والی سرخیاں
۱۔ ابتدائیہ ۲۔ خود نوشت سوانح حیات ۳۔ کلمات تبریک وارشادات ۴۔ تعزیتی پیغامات ۵۔ یادیں وتاثرات ۶۔ ملی،تنظیمی، دعوتی اور جماعتی خدمات ۷۔ علمی کارنامے ۸۔ منظومات ۹۔ خطوط کے آئینہ میں
۱۰۔ دارالعلوم ششہنیاں
ابتدائیہ: جو جناب ڈاکٹر جمیل احمد علیگ کے قلم سے قلم بند ہے ۔ انھوں نے مختصر لفظوں میں مفکر ملت کی جدائی کا غم ،ان کی جامع شخصیت کی ہلکی سی جھلک ،مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا اپنے محسن و قدرداں کی حیات و خدمات پر کوئ یاد گار مجلہ شائع نہ کرنے کا شکوہ ،اخیر میں مضمون نگاران، ترتیب کتاب میں معاون و مدد گار افراد کے لئے کلمات تشکروامتنان کا ایک حسین گلدستہ پیش کیا ہے۔
ترجمہ مولف: (خود نوشت سوانح حیات) مفکر ملت رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تالیف “شہداء احد” کے اندر ترجمہ مؤلف کے نام سے مختصراً اپنا تعارف حوالئہ قرطاس کیا ہے۔
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
تین حادثات
مفکر ملت جس وقت جامعہ رحمانیہ میں بحیثیت مدرس تھے اسی زمانہ میں آپ پر ابتلاء و آزمائش کا ایک سلسلسہ شروع ہوگیا ۔لگاتار دنیا کی بیش قیمت نعمتون میں سے تین نعمت سے آپ کو محروم ہو نا پڑا چنانچہ۔
10 مارچ1939 آپ کی رفیقئہ حیات کا انتقال ہوا اور 30 جنوری 1940۰ کو والد بزرگوار کا انتقال ہوا ۔پھر 10 اگست 1940 کو والدہ محترمہ کا انتقال ہوا.
پیروملت کے تھے روشن دلیل
آہ وہ علامہ عبد الجلیل
کلمات تبریک وارشادات : جو صفحہ نمبر ۲۳ سے لے کر صفحہ نمبر ۳۸ تک پر مشتمل ہے۔ اس کے اندر دس لوگوں کے کلمات تبریک موجود ہیں۔
خطیب الاسلام مولانا عبدالرؤف جھنڈانگری رحمہ اللہ اپنے کلمات تبریک کے میں مفکر ملت رحمہ اللہ کےتعلق سے رقمطراز ہیں “حضرت مولانا کی شخصیت گوناں گوں صفات وخصوصیات، علمی وفنی کمالات سے متصف تھی، ان کی دینی، تبلیغی، اصلاحی، تنظیمی، وجماعتی خدمات ہمہ گیر ہیں۔ انھوں نے خداداد ذہانت وفراست سے کام لے کر جماعت کی بھر پور خدمات انجام دیا”۔
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
بقیۃ السلف ڈاکٹرعبدالحفیظ رحمہ اللہ نے کلمات تبریک میں مفکر ملت رحمہ اللہ کے حسن انتظام کے حوالہ سے لکھاہے “نومبر 1961ء میں جب نوگڑھ میں تاریخی آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس منعقد ہوئی جس میں میں بھی شریک تھا۔ اسی میں مولانا رحمہ اللہ نے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے اتنا اچھا انتظام وانصرام کیا جو جماعت اہلحدیث کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔”
مولانا حبیب الرحمان صاحب سلفی رحمہ اللہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں مفکر ملت کے حوالہ سے لکھا یے “مولانا کی شخصیت جماعت اہلحدیث کے لئے بڑی اہمیت کی حامل تھی سنہ 1947 ء کے بعد جماعت اہلحدیث دو حصوں منقسم ہو گئ اور اس کا تنظیمی ڈ ھا نچہ بگڑ گیا ایسے نازک وقت میں جماعت کی کشتی کو ساحل مراد تک لے جانے میں مفکر ملت کے معتدل ذہن و فکر اور ان کے مواج و سیال قلم نے بڑا کام کیا۔ حضرت مولانا عبد الوہاب آروی جمعیت کے صدر اور مولانا رحمانی ناظم اعلي مقرر ہو ئے “.
تعزیتی پیغامات:
اس کو بے مہرئ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر گئے ہم تو زمانہ نے بہت یاد کیا
جو صفحہ نمبر 43 سے لیکر 75 تک پر مشتمل ہے ۔اس میں 28 لوگوں کے تعزیتی پیغامات درج ہیں ۔
مولانا عبد المبین منظر نے تعزیتی پیغام میں مفکر ملت کی وفات پر افسوس کا اظہار کر نے کے بعد جماعت ،قرب وجوار کے لوگوں کی مولانا سے بے اعتنائی اور ان کی نا قدری کا تذکرہ کیا ہے ۔
شکوہ گر لب پہ آتا ہے تو معذور ہیں ہم
سچائی بھی یہي ہے جس طرح دیگر مسالک میں اپنے اسلاف کی قدر و منزلت کا اہتمام ہے اس کا عشر عشیر بھی ہمارے یہاں نہیں ہے ۔ ہم شخصیات کو دفنانے کے ساتھ ان کے کارناموں کو بھی دفنا دیتے ہیں. کم سے کم ان کے کارناموں سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لئے ایک متحرک و فعال کمیٹی ہمارے پاس ہوني چاہئے. جو اسلاف کی زندگی کو قلم بند کرے ۔تنہا ایک فرد یہ کام کرے تو اتنے اچهے ڈهنگ سے نہیں ہو سکتا جتنا اجتماعی طور پر ہو سكتا ہے۔پر افسوس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سُنتا ہے
یہ لفظ، یہ لہجہ ،یہ بیاں، کون سنے گا
ہم دشت میں دیتے ہیں اذاں کون سنے گا
صفحہ نمبر ۵۰ اور ۵۱ پر ذاکر سکندرآبادی کا تعزیتی پیغام نظم کی شکل میں درج ہے۔ اس كے دو مصریہ قابل تعليق ہیں۔ بہتر ہوتا اگر اس پر مختصراً تعلیق بھی چڑھا دی جاتی.
آپ علم وعمل میں تھے یکتا
دوسرا ثانی ہو نہیں سکتا
دوسروں کے یہاں تو چل سکتا ہے لیکن ہمارے یہاں قطعی نہیں۔ یہاں تک کہ علامہ ابن تیمیۃ، ابن قیم الجوزيه، ابوالکلام آزاد رحمہم اللہ اوران جیسے تاریخ اسلام کے سرکردہ شخصیات کے لئے اس طرح کہنا سلفی منہج کے خلاف ہے ۔
یادیں و تاثرات:
جس شخص کے جیتے جی پوچھا نہ گیا ثاقبؔ
اس شخص کے مرنے پر اٹھے ہیں قلم کتنے
جو صفحہ نمبر ۷۹ سے لیکر ۲۰۸ تک ہے ۔ ۱۸ لوگوں کے مضامین شامل ہیں۔
سب سے پہلا مضمون مولانا عبد الحسیب رحمانی کا ہے ۔صاحب مضمون نے اپنے مضمون کے میں مفکر ملت کے حوالہ سے تین اہم باتیں ذکر کی ہیں .
۱:” مولانا کو بچوں کی دیدنی تعلیم و تربیت سے انتہائ دلچسبی تھی موجودہ مسلم معاشرہ اور سیاسی حالات کے پس منظر میں بچوں کی دینی تعلیم وقت کا اہم ترین تقاضہ سمجھتے تھے ۔ چناچہ دیدنی تعلیم کے سلسسلہ میں جہاں کہین کوئ تحریک چلی مولانا نے اس کو لبیک کہنے میں پش و پیش نہیں کی انجمن تعلیمات دین سے وابستگی جذبہ اندرونی کے تحت تھی “۔
۲ :”مسلکی تنگ نظری کےدھبوں سے مولانا کا دامن صاف تھا”۔ اس سلسلہ میں صاحب مضمون نے اپنا ایک واقعہ ذکر کیا ہے جسے پڑھنے کے لائق ہے۔
۳:”مفکر ملت کاموں کے ہجوم سے گھبراتے نہیں تھے بلکہ غور و فکر کے كاموں كي ایک فہرست تیارکرتے پھران کی تکمیل کے لئے انتھک محنت کر تے اور یہ کام ذاتی نہیں بلکہ ملت کی فلاح و بہبود کے لئے ہوا کر تے تھے”۔
خطیب الاسلام مولانا عبد الرؤف جھنڈا نگری رحمہ اللہ نے مفکر ملت کے حوالہ سے کئی باتیں ذکر کی ہیں ۔بطور خاص کچھ باتیں .
۱” : مولانا عبد الجلیل کا میرا شاگرد ہونا ان کے لئے کچھ بھی باعث عار نہیں ہے انہون نے کسی ایسے استاذ سے شرف تلمذ نہیں کیا جو گمنام اور حقیر و فقیر شمار ہوتا ہو البتہ میں نے جن جن طلبہ کو پڑھایا ہے ان میں مولانا رحمانی سب سے فائق تھے”۔
۲ : مفکر ملت کی تحریر کے حوالہ سے لکھتے ہیں “آپ کی جچی تلی تحریريں حشو و زائد سے پاک ہوا کرتی تھیں۔ فصیح و بلیغ،مطلب خیزاور عام فہم ہوا کرتی تھیں “اس سلسلہ میں آپ کا جارہ کردہ مجلہ “المصباح” کے پچھلے شمارے دیکھے جا سکتے ہیں . “رشحات قلم” اور “تسہیل القرآن “کی سرخیوں میں آپ ہی علم کے دریا بہا تے تھے.
۳: آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس نوگڑھ کے انعقاد میں مولانا مرحوم کا مرکزی کردار رہا ہے اور اس پر قدر تفصیل سے مولانا نے گفتگو کی ہے ۔
مفکر ملت کے فرزند ارجمند جناب ڈاکٹر جمیل علیگ نے اپنے والد کے حوالہ سے بہت کچھ ذکر کیا ہے ،چند باتیں بطور خاص ۔
مولانا عبد الرّؤف ندوی نے اپنے مضمون کے اندر ملا فاضل عبد الغفور کے اس قصیدے کا تذکرہ کیا ہے اور بطور مثال کے ایک دو پیش بھی کیا ہے . جس میں دار العلوم ششہنیاں اور مفکر ملت کے حسن انتظام کا تذکرہ بڑے ہی دلنشیں انداز میں کیا گیا ہے
ایک ہیڈنگ آپ نے “آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس کی نظامت علیا ” قائم کیا ہے آپ نے اس کے اندر 1906 سے لیکر 1991 تک کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے اور مفکر ملت کی خدمات کو بھی جماعت کی تئیں بیان کیا ہے ۔”
عبد العزیز شاہین نذیری حفظہ اللہ کا مضمون پڑھنے کے قابل ہے ۔ایک واقعہ آپ نے موتی لال نہرو کے حوالہ سے ذکر کیا ہے ۔ جسے مفکر ملت نے ایک اجتماع میں بیان کیا تھا۔ جو اس دور کے لیڈران کے لئے باعث عبرت ہے ۔
عبد الباقی مظہر کا مضمون اپنے اندر بہت کچھ سموئے ہو ئے ہے۔ خصوصا “تذکرہ جلیل “کے نام سے جو ہیڈنگ قائم کی ہے اسے ان حضرات کو ضرور پڑهنا چاہئے جو دارالحدیث رحمانیہ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔مزید دار الحدیث رحمانیہ دہلی کی تاریخ ( تاریخ وتعارف مدرسه دارالحدیث رحمانیہ دہلی،مولانا اسعد اعظمی ۔)۔کی طرف رجوع کریں ۔
ملی ،تنظیمی،دعوتی اور تبلیغی خدمات:
اس کے تحت ان لوگوں کے مضامین كو شامل کیا گیا ہے جو مفکر ملت کے ان حسین گوشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں جن کا تعلق ان کے ملی ،تنظیمی دعوتی اور تبلیغی خدمات سے ۔یہ صفحہ نمبر ۲۱۳سے ۳۷۵ تک پر مشتمل ہے اس کے اندر سات لوگون کے مضامین ہیں۔
علمی کارنامے :
اس کے اندر مولانا کےان علمی کارنوموں کا تذکرہ ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں انجام دیا ۔یہ صفحہ نمبر 385 سے لیکر 430 تک پر ہے.پانچ لوگوں کے مضامین درج ہین۔آپ کو شہدائے محد پر ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کا خوبصورت کا تبصرہ نطر آئے گا۔مولانا مطیع اللہ سلفی حفظہ اللہ نے آپ کے شعری ذوق کا بھی تذکرہ کیا ہے۔بطور مثال کے آپ کے ترانہ ملی کو بھی پیش کیا ہے ۔جو ماہ اگست 1936 میں محدث میں شائع ہوا تھا۔
منظومات:
مفکر ملت کو ان کی وفات کے بعد مختلف شعراء نے اپنے شاعرانہ اسلوب میں جہاں ایک طرف ان کو خراج عقیدت پیش کیا وہیں ان کی ملی ،تنظیمی،دعوتی اور تبلیغی خدمات کو بھی بیان کیا ہے ۔یہ 437 سے لیکر 467 تک پر ہے ۔اس کے اندر 14 شعراء کے اشعار درج ہیں ۔
خطوط کے آئینہ میں:
اس کے اندر مفکر ملت کے چند ان خطوط کا تذکرہ ہے جسے آپ نے مختلف مواقع پر مختلف لوگوں کو لکھا تھا ۔ان خطوط کو پڑھ کر مولا نا کے اس بے چینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو گھر سے لیکر قوم کی اصلاح نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے تئیں ان کے دل میں موجود رہا کرتا تھا۔ ۔یہ 473 سے لیکر 490 تک پر ہے ۔خطوط کی تعداد 23 ہے۔
دار العلوم ششہنیا ں :
یہ صفحہ 491 سے لیکر 501 تک پر مشتمل ہے ۔مولانا نے اپنے علاقہ سے شرک و بدعت کے خاتمہ اور نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کر نے کے لئے ایک مدرسہ بھی کھولا تھا ۔پر افسوس جماعتی مصروفیات کی بنیاد پر اس کی دیکھ ریکھ باحسن طریقے سے نہ کر سکے ۔پھر بھی اس کی بھی اپنی خدمات ہیں جسے یاد کیا جائے گا ۔آخری مضمون اسي کے تعارف پر مشتمل ہے ۔ جسے مطیع اللہ سلفی حفظہ اللہ کے قلم نے قلم بند کیا ہے ۔
آخر میں خوشخبری کے نام سے ایک ہیڈنگ ہے ۔اس کے اندر مولانا کے بکھرے ادبی علمی شہ پاروں کو جلد ہی منصَہ شہود پر لانے کی مزدہ جافزاں سنائی گئی ہے واضح رہے کہ یہ سارے کام مولانا مطیع اللہ سلفی حفظہ اللہ کے زیر نگرانی انجام دئے جا رہے ہیں.
زمانہ قدر کر ہاں قدر کر ہم کج کلاہوں کی
کہ پیدا اس نمونے کے جواں ہر دم نہیں ہوں گے

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com