بیسویں صدی میں دکنی شاعری کا ارتقا

کتاب:بیسویں صدی میں دکنی شاعری کا ارتقا
مصنف : ڈاکٹرعظمت اللہ
قیمت: 156روپئے
ناشر:تنویرپبلیشر حیدرآباد
مبصر:ڈاکٹرعزیز سہیل

حالیہ عرصہ میں حیدرآباد کی جامعات سے جن تحقیق کاروں نے اپنی تحقیق مکمل کی اور ڈاکٹریٹ کی سندحاصل کی ۔ان میں ایک نام ڈاکٹرعظمت اللہ کابھی ہے جنہوں نے شعبہ اردو اورینٹل کالج عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے ڈاکٹرسیدفضل اللہ مکرم کی زیرنگرانی اپنی تحقیقی کام کوانجام دیا ہے۔ ڈاکٹرعظمت اللہ پیشے تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ فی الحال ناگرجنا گورنمنٹ ڈگری وپی جی کالج نلگنڈہ میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرارد وکی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹرعظمت اللہ کئی ایک صلاحیتوں کی حامل شخصیت کانام ہے ۔وہ ایک سنجیدہ شخصیت اور کامیاب محقق ہے وہ اپنے تحقیقی کام پرتوجہ دینے اورکام کی تکمیل میں سعی وجدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ڈاکٹرعظمت اللہ کی تصنیف ”بیسویں صدی میں دکنی شاعری کا ارتقائ“ منظرعام پرآئی ہے۔اس کتاب کا انتساب ڈاکٹرعظمت اللہ نے اپنے والد محترم کے نام معنون کیا ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ اردو کی متحرک اورفعال شخصیت ڈاکٹرسیدفضل اللہ مکرم نے لکھا ہے۔ ڈاکٹرفضل اللہ مکرم نے اپنے پیش لفظ میں ڈاکٹرعظمت اللہ کی شخصیت کوپیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ڈاکٹرعظمت اللہ نہایت ہی دیانتداری سے نہ صرف مواد اکھٹا کیاہے بلکہ اسے آسان زبان میں بھی پیش کیا ہے۔ مختلف شعراءکے کلام کے ساتھ تعارف کروایا ہے ۔یہ کتاب یقینا جدید دکنی ادب کی تحقیق وتنقید میں ایک اہم اضافہ ہے“۔ اس کتاب کے آغاز میں عظمت اللہ نے اپنی بات کے عنوان سے کتاب کے اشاعت کے مقصد کوبیان کیا ہے۔ اورانہوں نے لکھا ہے کہ دکنی زبان سے مجھے بے انتہا محبت ہے چونکہ یہ میری مادری زبان ہے اور یہ دکن کے وسیع وعریض خطہ میں بولی جاتی رہی ہے۔ پہلی بار مجھے اپنے ایم اے کی تعلیم کے دوران دکنی ادب کے خصوصی مطالعہ کاموقع ملا اور دکنی ادب کے مطالعہ کا شوق ملا اوردکنی ادب پر قلم اٹھانے کا حوصلہ مجھے میرے استاد محترم عالی جناب ڈاکٹرسیدفضل اللہ مکرم سے ملا۔ ان ہی کی حوصلہ افزائی نے مجھے اس کتاب کومنظرعام پرلانے کی ترغیب دی۔“ اس کتاب کے مشمولات میں چارابواب شامل ہیں۔پہلاباب بیسویں صدی کے اولین شعراءپرمحیط ہے جس میں رحیم صاحب میاں‘ علی سائب میاں ‘نذیر دہتقانی‘ اعجاز حسین کھٹا کے نام شامل ہیں۔ دوسرے باب کاعنوان سلیمان خطیب اوران کے ہم عصر شعراءکے عنوان سے شامل کیاگیا ہے جس میں سلیمان خطیب ‘ سرورڈنڈا‘ڈھکن رائچوری‘ حمایت اللہ‘پاگل عادل آبادی‘ غوث خواہ مخواہ‘ اشرف خوند میری‘ گلی نلگنڈوی‘ بگڑ رائچوری کے نام شامل ہیں۔ تیسرے باب کاعنوان عصرحاضر کے جدید دکنی شعراءدیاگیا ہے جس میں شمشیر کوڑنگلی‘ چچا پالموری‘ فرید انجم ‘ قاری سلطان اختر‘ رحیم الدین نیازی کریمنگری‘ نریندر رائے نریندر‘ ٹیپکل جگتیالی کے نام شامل ہیں اورآخری باب میں ”دکنی کے لوگ گیت اورڈھولک کے گیت“ پرمشتمل ہے۔ کتاب کا پہلا باب بیسویں صدی کے اولین دکنی شعرا کے عنوان سے شامل ہے جس میں مصنف نے دکنی ادب کی اولیت اور اہمیت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ماہرین ادیب اورعلمائے زبان اس بات سے متفق ہیں کہ اردو زبان کی ہرصنف سخن اور صنف نثر کا آغاز دکنی ادب سے ہوا ہے لیکن غیراردوداں طبقہ اور کم پڑھے لکھے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں شائد اس لئے جب دکن میں عرصہ دراز کے بعد بیسویں صدی اور جدید دکنی شاعری کااحیاءہوتا ہے تولوگ دکنی کا مذاق اڑاتے نظرآتے ہیں۔ ا س زبان کے بولنے اورلکھنے والے گنوار اوردیہاتی کہلائے جاتے ہیں لہذا یہاں اردوزبان وادب کا مختصرجائزہ لیاجانا ضروری ہے“۔ اس باب میں مصنف نے دکن میں اردو ادب کے آغاز کو بیان کیا ہے ۔ولی اور سراج دکنی کی شاعری کے حوالے پیش کئے گئے ہیں۔ خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ‘ اشرف بیابانیؒ‘ میراں جی شمس العشاق کی خدمات کوپیش کیاگیاہے۔ بہمنی اور قطب شاہی حکمرانی کے دورمیں اردوکاتذکرہ کیاگیاہے اور بیسویں صدی کے ابتدائی شعراءمیں رحیم صاحب میاں‘ علی سائب میاں ‘نذیر دہتقانی‘ اعجاز حسین کھٹا کا تعارف اور شعری خدمات کواجاگرکیاگیاہے۔  کتاب کے دوسرے باب میں سلیما ن خطیب اوران کے ہمعصرشعراءکی خدمات کوپیش کیاگیا ہے جن میں سرورڈنڈا‘ڈھکن رائچوری‘ حمایت اللہ‘پاگل عادل آبادی‘ غوث خواہ مخواہ‘ اشرف خوند میری‘ گلی نلگنڈوی‘ بگڑ رائچوری کے نام شامل ہیں۔ ڈاکٹرعظمت اللہ نے اس باب میں سلیمان خطیب کوبیسویں صدی کانمائندہ شاعرقراردیا ہے اورلکھا ہے کہ” جدید دکنی زبان اس قابل ہوگئی کہ اس سماج کی ضروریات کواپنے دامن میں سمیٹ لے۔ لہذا سلیمان خطیب اوران کے ہمعصر نے عین اپنے ماحول کے مطابق اس دور کے تقاضوں کوپورا کیا ہے۔ سلیمان خطیب اس دور متوسط کے قدآور اورنمائندہ شاعر ہیں ۔جن کی تقلید میں دکن کے سینکڑوں شاعروں نے دکنی زبان میں شاعری کرنی شروع کی“۔ سلیما ن خطیب کے ہمعصر شعراءجن کا تذکرہ کیاگیا ہے ۔ان شعراءکے یہاں حقیقت‘ سادگی‘برجستگی‘ روانی جیسی خصوصیات نظرآتی ہے اور تصنع ‘تکلف اور صنعتوں کا بے جا استعمال نظرنہیں آتا۔ اس باب میں عظمت اللہ نے ان تمام ہی شعراءکی حیات اورخدمات کوپیش کیاہے اوران کے منتخبہ کلام کویہاںشامل کیا ہے۔ یہ باب کافی اہم معلومات پرمشتمل ہےں۔ تیسراباب عصری حاضر کے جدید دکنی شعراءکے عنوان سے شامل ہے۔ جس میں مصنف نے عصرحاضر میں جدید دکنی شاعری کا تذکرہ کیا ہے اور عصری معنویت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” آزادی کے بعد شعراءکی ایک بڑی تعداد نے جدید دکنی زبان میں شعرکہنا اپنے لئے فخر کاباعث سمجھا۔ اس کی وجہ سلیمان خطیب اوران کے ہمعصر شعراءہیں جنہوں نے دکنی کوبے پناہ شہرت عطا کردی تھی۔ عصرحاضر کی دکنی زبان ‘لب ولہجہ اوراسلوب میں کافی فرق نمایاں ہونے لگا۔ قدیم دکنی زبان کے الفاظ معدوم ہوگئے ہیں اوران کی جگہ بول چال کے نئے الفاظ اورعام اردو کے الفاظ بھی دکنی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس زبان کوہم جدید دکنی زبان کانام دے سکتے ہیں“۔ ڈاکٹرعظمت اللہ نے اس باب میں جن شعراءکی حیات اور خدمات کواجاگرکیا ہے ان کے نام اس طرح سے ہے۔ شمشیر کوڑنگلی‘ چچا پالموری‘ فرید انجم ‘ قاری سلطان اختر‘ رحیم الدین نیازی کریمنگری‘ نریندر رائے نریندر‘ ٹیپکل جگتیالی ۔اس کتاب کے چوتھے اور آخری باب میں دکنی کے لوگ گیت اورڈھولک کے گیت پرروشنی ڈالی گئی ہے۔ زیرنظرکتاب کا آخری باب” دکنی لوک گیت اور ڈھولک گیت “کے عنوان سے شامل کتاب ہے۔ اس مضمون کی ابتداءمیں لوک گیت کے معنی ومفہوم اور تعریف کو بیان کیاگیا ہے ۔ساتھ ہی اس کے آغاز پربھی روشنی ڈالی گئی ہے اور قدیم لوک گیتوں سے متعلق لکھاگیا ہے کہ ” ان قدیم لوک گیتوں میں عوام کے جذبات واحساسات‘تجربات زندگی‘دلچسپیاں پوشیدہ ہوتی ہے۔یہ لوک گیت کبھی انہیں خوشی عطا کرتے ہیںجوکبھی ا ن کے غموں کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایسا درد وغم جوکسی سے بانٹ نہیں سکتے ‘یہ لوک گیت رسمی طورپرروایتی انداز میں گائے جاتے ہیں جو صدیوں سے اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں۔ دکن کاخطہ بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ یہاں کے دیہاتی لوگ ان قدیم نغموں کوروایتی طرز میں صدیوں سے سنتے اورگاتے آرہے ہیں“۔ اس باب میں عظمت اللہ نے ادب کے نظریہ کوبیان کیا ہے اور سلیمان خطیب کے لوک گیت ‘سرورڈنڈا کے لوک گیت ‘اشر ف کے لوک گیت کومثال کے طوپرپیش کیاہے۔ بیسویں صدی میں دکنی شاعری کا ارتقاءکے عنوا ن سے ڈاکٹرعظمت اللہ نے بہت ہی لائق تحسین تحقیقی کام انجام دیاہے جو دکنی اورمزاحیہ شاعری کے حوالے سے برسوں یاد رکھاجائے گا۔اس کتاب کی اشاعت کے ذریعہ ڈاکٹرعظمت اللہ نے اپنی ایک پہچان بنائی ہے۔ ڈاکٹرعظمت اللہ کواس عظیم تحقیقی کام پرمبارک باد پیش کی جاتی ہے اوران سے امید ہے کہ اردو ادب کے ایک سنجیدہ تحقیق کار کی حیثیت سے وہ ادبی دنیا میں اپنے تحقیقی تخلیقات کو وجود بخشتے رہیں گے ۔ اس کتاب کی اشاعت قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے مالی تعاون سے عمل میں آئی ہے۔ اس کتاب کے ناشر تنویرپبلیشر حیدرآباد ہیں۔ دیدہ زیب ٹائٹل ‘بہترین اور عمدہ پرنٹنگ ‘سفید کاغذ 279پرمشتمل اس کتاب کی قیمت 156روپئے رکھی گئی ہے جو ڈاکٹرعظمت اللہ اسسٹنٹ پروفیسر اردوناگرجنا گورنمنٹ ڈگری کالج نلگنڈہ سے فون نمبر 9491549259پرربط پیدا کرتے ہوئے حاصل کی جاسکتی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com