مسلمانوں کے موجودہ مسائل اور انکا حل

مکرمی !

ہم اپنی زندگی میں بہت سے ایسے کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں ہماری نیک نامی یا بد نامی ہوتی ہے آج اگر کائنات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر ہو جاتی ہے کہ قوم مسلم پسماندہ ، سیاسی ،سماجی اور معاشی بحران کا شکار ہے جب ہم اس پسماندگی اور بحران کے اسباب پر غور و فکر کرتے ہیںتو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا فقدان اور اسلام سے دوری ہے دور حاضر میں مسلمان سماجی سیاسی اقتصادی اور معاشی غرض کہ ہر طریقے سے پریشان ہیں ،رواںصدی کے ابتداءسے ہی مسلمان سخت ابتلاءاور آزمائش کے شکار ہیں مسلمانوں کے درمیان خود غرضی ہے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو نیچا گرانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہیں آج ہم اپنے مسلمان بھائی کے قول و فعل پر نگاہ نہیں رکھے ہوئے ہیں ،ایک دوسرے کے گھر جانا پسند نہیں کرتے ،کسی بیمار کی عیادت کوجاناگناہ سمجھتے ہیں اور میت میں شرکت کرنا احسان جانتے ہیں یہ وہ مسائل ہیں جو صرف قوم کے درمیان حائل ہیں ۔مگر انکے علاوہ مسلمانوں کے چند وہ مسائل ہیں جو یا تو حکومت پیدا کرتی ہے یا آر ایس ایس ،وشوہندو پریشد یا دیگر بھگوا تنظیمیں پیدا کرتی ہے ،ان بھگو ا تنظیموںکی خباثت ذہنی کی وجہ سے ہیںمسلمانوں کو شدید پریشانیوں کا سامناہے ،ہندوستان میں مسلمان براد ر وطن کے ذریعہ اس قدر پریشان ہو گئے کہ خوف کے سائے تلے اپنی زندگی جینے پر مجبور ہیں کیونکہ اکثر ایسی خبریں موصول ہوتی رہتی ہے گائے کے نام پرفلاں جگہ فلاں مسلم نوجوان کا بہیمانہ قتل ،یا پھر لو جہاد کے نام مسلم نوجوان کا قتل،یا پھر جئے شری رام اور وندے ماترم نہ بولنے پر مسجد کے امام کی پیٹائی گزشتہ چند سالوں میںسیکڑوں مسلمانوں پر جان لیوا حملہ ہوا خاص کر نریندر مودی کی موجودہ حکومت میں ہر طرف مسلمانوں پر حملہ اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عام بات ہو چکی ہے۔
مسلمانوں کا قتل عام صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں یہاں تک کہ مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام کعبہ شریف بھی محفوظ نہیں گزشتہ سال کعبہ شریف کے قرب میں بم دھماکے کی خبر آئی اس کے علاوہ گاہے بگاے چھوٹی بڑی افسوسنا ک خبریں آتی رہتی ہے ۔کعبہ شریف کے علاوہ ،اور دیگر مسلم ممالک کا جازئہ لیں تو معلوم ہوگا اکثر ممالک اس طرح کی پریشانیوں سے چور ہیں جن میں پاکستان ،بنگلہ دیش ،یمن ،شام ،عراق،افغانستان وغیرھم ان ملکوں میں روزانہ بم دکھماکہ اور خودکش حملے ہوتے ہیں آج ان ممالک میںجانے سے سیاحوں کو بھی ڈر ستاتا ہے تاریخ کے اوراق پلٹے تو یہ وہی ممالک ہیں جو کسی زمانے میں سیاحوں کا مرکز ہوا کرتاتھا مگر آج وہ لاشوں کا مرکز ہیں ،خواص کر شام ،عراق ،فلسطین اور یمن کے باشندے ان ملکوں کو لاش کو کاندھا دینا عام بات ہیں ،جنگ اور دہشت گردی سے جو متاثر ہیں وہ سب کے سب مسلم ممالک ہیں ،غیر مسلم ممالک سے بہت ہی کم خودکش حملے کی خبر آتی ہے اس لئے یہ ایک بہت بڑی سازش لگتی ہے اور یہ حقیقت بھی عیاں ہے ان حملوں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ تنظیمیں کا م کررہی ہے کیونکہ دہشت گردی کا کوئی مسلک اور مذہب نہیں ہوتا ۔
موجودہ وقت میں مسلمانوں کوپریشان اور ہراساں کرنے میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے ،الیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا کے منفی کردار اور انکی غیر ذمدارنہ حرکتوں نے بھی مسلمانوں کو عجب کیفیت میں ڈال دیا ہے ،خواص کر الیکٹرونک میڈیا والوں نے حکومت کی نظر میں خود کو سر خرو کرانے کے لئے کے لئے مسلم نوجوانوں کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر انہیں مجرم ثابت کرنے کے لئے حد درجہ مقابلہ آرائی کرتے ہیں اورایک دوسرے کو زیر کرنے کی فکر نے مسلم نوجوانوں کو معاشرے میں خوانخوار درندہ ثابت کر رہے ہیں،یہ سب کیوں ہیں ؟کس لئے ہیں ؟اس کا جواب تو نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ ہمیں چین سے دیکھنا نہیں چاہتے ،ہمیں امن و سکون سے زندگی بسر ہو تے نہیں دیکھ سکتے ۔دوستی اوردشمنی زندگی کے دو اہم پہلو ہیں دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کا دوست نہ ہو اور کوئی ایسا بھی نہیں جس کا دشمن نہ ہو اور ہندوستان میں لوگوں کا مکان ایک گھر سے سٹا ہوتا ہے تو ظاہر ہے آپس میں چھوٹی بڑی باتوں پر تلخیاں بڑھینگی ہی رنجیشیں ہونگی ہی تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ لوگ آپس میں جھگڑیں اور بغض و کینہ کو دل میں جگہ دے ،ہمارے درمیان انتشار کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم محلوں میں ذرا ذرا سی بات پر آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کردیتے ہیں ۔ہمارے رہبرو ں کو چاہئے ان چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر غور کریں آپسی لڑائی کیسے ختم ہو جب تک ہم آپس میں لڑتے رہییگنے ہمارا حقوق چھینا ہی جائے گا ہمارے بہیمانہ قتل ہوتا ہی رہے گا ہمیں وہ نشانہ بناتے ہی رہینگے ۔ اور متحد نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے آج ہم تعلیم سے دوری بناتے جارہے ہیںجبکہ زمانے قدیم میں ہمارے اسلاف کے پاس دور دراز کا سفر طئے کرکے غیر قوم علم کے حصول کے لئے آتے تھے مگر آج اس کا برعکس بھی نہیں ۔
ہم قول رسول ﷺکو بھولا چکے ہیں ہم آقا کی سنتوں پر نہیں چلتے ،آقاﷺکی فرمان کو بھولانے کی وجہ سے ہمیں اور آپ کوکتنا نقصان ہوا وہ ظاہر ہے بروز محشر تو حساب وکتاب تو ہوگا ہی مگر دنیا میں ہم اور آپ کس قدر پریشانی کے شکار ہیں ان تمام چیزوں کی وجہ کیا؟اسکی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم ار آپ اپنی زندگی کو سنت رسول ﷺکے مطابق نہیں بلکہ مغربی تہذیب کے سائے تلے زندگی بسر کرتے ہیں ہمارے درمیان مغربی تہذیب اور انکے طور طریقے شامل ہو چکے ہیں جس دن ہم اور آپ اسلامی طریقے پر زندگی بسر کرنا شروع کردینگے تو وہ دن بھی دور نہیں کے پھر سے ہمارا رعب و دبدبہ دہر میں عام ہوگا ۔

کمیل رضا قادری
ریسرچ اسکالر القلم فاﺅنڈیشن پٹنہ
رابطہ نمبر:7256876229

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com