اسمبلی انتخابات:تری پورہ میں بی جے پی کواکثریت،ناگالینڈکاحساب کتاب خراب،میگھالیہ معلق

کولکاتہ،03مارچ:مشرقی ریاستوں تری پورہ اور ناگالینڈ میں بی جے پی کو ملی شاندار کامیابی کے بعد پٹنہ سمیت بہار کے تمام اضلاع میں جشن کا ماحول ہے۔ بہار سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رہنما ان فتوحات کو بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈران کہہ رہے ہیں کے اب حقیقی طور ملک آزاد کانگریس کی راہ پر گامزن ہے۔ تری پورہ اور ناگالینڈ میں کمل کھلنے کے ساتھ ہی ملک کی 20 ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں آ گئی ہے۔دو صوبوں میں بی جے پی کو ملی فتوحات پر تبصرہ کرتے ہوئے بہار کے وزیر سڑک وتعمیرات اور بی جے پی کے سابق ریاستی صدر نند کشور یادو نے کہا کہ دو مشرقی ریاستوں میں بی جے پی کو ملی فتوحات وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی سرکار کی ترقیاتی کاموں اور پارٹی کے قومی صدر امت شاہ کے مضبوط پالیسی، نٹ ورک کی فتوحات ہیں۔ایک وقت تھا جب ترنمول کانگریس میں مکل رائے کے رہتے تری پورہ کے چھ کانگریس ممبر اسمبلی میں شامل ہوگئے تھے اور ترنمول تری پورہ اسمبلی یں اپوزیشن پارٹی بن گئی تھی لیکن مکل کے بی جے پی میں آتے ہی تری پورہ کے تمام ترنمول ممبر ان اسمبلی نے بی جے پی کا دھامن تھاملیا تھا ۔ آج عالم یہ ہےکہ تریپورہ اسمبلی الیکشن میں ترنمو ل امیدواروں کی جامنت ضبط ہو گئی ہے ۔ اس الیکشن میں بدھا ن نگر کے میئر سبیہ ساچی دت نے ترنمول کی جانب سے تری پورہ میں الیکشن تشہیر کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی ۔گزشتہ تین ماہ سے وہ تری پورہ میں محنت کر رہے تھے اور جیت کے امکانات والے زیادہ تر سیٹوں پر ترنمول نے امیدوار اتارا تھا ۔تری پورہ میں بڑی تعداد میں بنگالی زبان والے لوگ رہتے ہیں لیکن اس بار اسمبلی الیکشن نتائج میں ترنمول کی ضمانت ضبط ہو گئی ہے ۔ ایسی ایک بھی سیٹ نہیں ہے جہاں ترنمول نے ضمانت ضب ہونے کے طے حد سے زیادہ ووٹ پایا ہو۔یہاں تک کہ اگرتلہ کے اہم مرکز سے بھی ترنمول کو معدودے چند ہی ووٹ ملے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس الیکشن کے نتائج سے مغربی بنگال میں ترنمول سپریمو ممتا بنرجی کافی فکرمند ہیں اور بنگال کے اپنے گڑھ کو بچانے کے لئے نئے سرے سے پالیسی بنانے پر غورکررہی ہیں۔ مانا جا رہا پنچایت الیکشن کے بعد لوک سبھا الیکشن میں ترنمول اور سیپی ایم کے درمیان زبانی رجا مندی ہو سکتی ہے تاکہ ریاستمیں بی جے پی کے بڑھتے قدم کو روکا جا سکے ۔اسی طرح میگھالیہ میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن اقتدار کے جادوئی اندازے کو نہیں چھو پائی ہے ۔ ریاست میں بر سر اقتدار پارٹی کانگریس کو محض21سیٹیں ملی ہیں ۔ اس طرح سے ریاست میں دس سال سے قابض کانگریس کے ہاتھ سے اقتدار نکلتا نظر آ رہا ہے ۔ میگھالیہ میں عوام نے سہ رخی اکثریت دے کر سیاسی پارٹیوں کے لئے ایک بڑا چیلنج پیش کر دیا ہے ۔ شمال مشرقی ریاستوں کی تین ریاستوں میں اسمبلی الیکشن میں کانگریس نے سب سے زیادہ ترجیح میگھالیہ کو دیا تھا ۔ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کوپتہ تھا کہ تری پورہ اور ناگا لینڈ کانگریس پارٹی کی زمینی سطح مکمل طور سے ختم ہو چکی ہے ۔ یہی سبب تھا کہ کانگریس کے بڑے لیڈر ان دونوں ریاستوں کے دورے پر نہیں پہنچے ۔ اس کے سبب کانگریسی کارکنان کا حوصلہ بھی مکمل طور پر ٹوٹ گیا ۔ وہ کانگریس چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کی جانب رخ کر لیا۔ کانگریس پارٹی کے نو منتخب صدر راہل گاندھی نے میگھالیہ میں دو بار الیکشن کی تشہیر کی ۔ کانگریس ریاست میں سب سے بڑی پارٹی ضرور بن کر ابھری لیکن سرکار بنانے کی دہلیز سے کافی دور کھڑی نظر آ رہی ہے ۔ بی جے پی نے عیسائی اکثریت ریاست میں اپنی پوری طاقت جھونکی لیکن اس کے کاھتے میں صرف دو سیٹیں ہی آ پائیں۔ دوسری بڑی پارٹی کے طور پر نیشنل پیپلس پارٹی رہی۔ سابق لوک سبھا اسپیکر پی اے سنگما کے ذریعہ این پی پی کے چہرے کورناڈ سنگمانے بھی خوب محنت کی تھی ۔اس کی بدولت 19سیٹوں پر جیت حاصل کی لیکن سرکار بنانے کے جادوئی اکثریت کو این پی پی بھی نہیں پا سکی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com