تعلیم انسانی زندگی کا جزو لا ینفک ہے ہر انسان تعلیم کے بغیر ادھورا ہے:کلب جواد

مغربی بنگال کے تعلیمی کو حل کرنے میں پیش رفت امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی تعلیمی کانفرنس میں گور و خوض 

کلکتہ،12مارچ: امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی تعلیمی کانفرنس کا نعقاد العالمین انٹر کالج (کلکتہ) میں ہوا جس میںمگربی بنگال کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر طلبا و طالبات کا تعلیمی مقابلہ بھی ہوا اور منتخب طلبا و طالبات کو انعامات و اسناد سے نوازا گیا کانفرنس میں بڑی تعداد میں علمائے کرام اور دانشوران ملت نے شرکت کی۔ جنرل سکریٹری مولانا علی حسین قمی نے کہا کہ ٹرسٹ کا مقصد مگربی بنگال میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کی تدابیر پر غور کرنا ہے ، انھوںنے طلباءو طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات بھی تقسیم کیے کانفرنس میںلکھنو¿ دہلی ، پٹنہ کے علاوہ کلکتہ کے علماءاور دانشوروں نے تعلیم کی اہمیت پر تقریر کی۔ لکھنو کے امام جمع مولانا کلب جواد نے کہا کہ تعلیم انسانی زندگی کا جزو لا ینفک ہے ہر انسان تعلیم کے بغیر ادھورا ہے انسان کواہ جتنی بھی تعلیم حاصل کرلے ہہ دعوا نہیںکرسکتا کہ ہم نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ہے انسان جتنی بھی تعلیم حاصل کرتا جائے گا اتنی ہی اس کی ترقی کے رساتے کھلتے جائیں گے اس لیے ہماری نوجوان نسل کو تعلیم حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہےے۔ مولانا غضنفر نواب نے مغربی بنگال کی تعلیمی پسماندگی پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تعلیم پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے ، مجولانا نذر علی (پٹنہ) نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے نوجوانوںکو تعلیم کے میدان میں ترقی پر زور دینا چاہےے ، سوامی سارنگ (لکھنو) نے کہا کہ ہر حکومت تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی بات کرتی ہے لیکن ابھیبھی ملک مین تعلیم کی بہت کمی ہے ، مولانا صادق علی (دہلی) نے بھی کہا کہ مگربی بنگال میں تعلیم پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کلکتہ کے مولانا شکیل احمد ، مولان اجواد، مولانا سید محمد ذکی، مولانا شبیر علی وارثی، محسن علی شیرازی ، عقیل احمد، پرنس ہمایوں مرزا، سردار جعفری، رشید احمد اور جاوید حسین نے تعلیم کی اہمیت پر تقریر کی۔ مقررین نے ٹرسٹ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترسٹ نے ریاست کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے میں پیش رفت کی ہے لیکن اب ضرورت ہے کہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے۔ کانفرنس کے اختتام پر مولانا کلب جواد کو مولانا ابوالکلام آزاد ایوارد ، مولانا علی حسین قمی کو سر سید ایوارڈ اور محسن شیرازی کو میر تقی میر ایوارڈ، سوامی سارنگ کو بیگم حضرت محل ایوارڈ دیے گئے، یہ ایوارڈ بزم وحشت کی جانب سے دیے گئے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com