ایران حزب اللہ کی مالی مدد کیسے کرتا ہے؟

ایجنسیاں

ایران کے انقلاب کو برآمد کرنے کی کوشش کے تناظر میں حزب اللہ ایرانی انقلاب کی جائز اولاد ہے ۔ اس کی پیدائش شام میں ایرانی سفیروں کے ذریعہ کی گئی۔ ان ایرانی سفیروں میں علی مہتثمی اور محمد حسن اختری شامل ہیں۔ ان میں سے محمد حسن اختری کا کہنا ہے کہ حزب اللہ حماس اور ( اسلامی) جہاد ایرانی انقلاب کے جائز اولاد ہیں۔ 1980میں اس کے وجود میں آنے کے بعد سے اس کی مالی مدد ایران کی جانب سے شروع کردی گئی تھی۔ حالانکہ بعد میں حزب اللہ نے خود ہی مالی ذرائع پیدا کرلئے اور یہ ذرائع منی لانڈرنگ اور ڈرگ کی سپلائی ہیں۔ اس کے باوجود ایران کی مالی مدد ان کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ ایران کے ذریعہ حزب اللہ کو سالانہ60سے100ملین ڈالر دی جاتی ہے۔ یہ اندازہ مغربی ممالک کے سفیروں اور لبنان تجزیہ نگاروں کا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ 2002 میں ایران کی جانب سے حزب اللہ کی جو مدد کی گئی وہ 200 سے300 ڈالر تک تھی ۔ مستقبل میں دہشت گردی، پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ولید فیرس کا کہنا ہے کہ 2008 میں ایران کی جانب سے حزب اللہ کی مالی مدد 400 ملین سے لے کر ایک ہزار ملین سالانہ تک پہنچ گئی تھی ۔ ایران سے اتنی بڑ ی مقدارمیں مالی مدد پاکر حزب اللہ اس پوزیشن میں آگئی تھی کہ اس نے لبنان میں اپنے مخالفین اورمغربی جمہوریہ کے حامیوں اور دنیا بھر میں اعتدال پسند عرب کا خاتمہ کرنے کا اہل بنا دیا ۔ متعدد رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2012 سے 2016 کے درمیان حزب اللہ کو ایرانی مالی مدد 800 ملین ڈالر تک پہنچ گئی اس کی وجہ حزب اللہ کا شام کے مسئلہ میں ملوث ہونے اور ایرانی نیوکلیائی پروگرام کے سلسلہ میں مذاکرات کرنا تھا۔
ایران مختلف ذرائع سے حزب اللہ کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کے مالیاتی محکمہ کے مطابق قدس فورس کے مالیاتی افسر ہشنگ داد اللہ حزب اللہ حماس اور اسلامی جہاد موومنٹ کو رقم کی تقسیم کا کام خود دیکھتے ہیں ۔ لبنان میں حزب اللہ کو ایرانی مالی مدد کا ذریعہ ایرانی خیرات بھی ہے۔ امریکہ کے مالیاتی محکمہ کے مطابق ایران کمیٹی کا استعمال لبنان کی تعمیرنو کے ذریعہ حزب اللہ کی مدد کرتا ہے۔ اسے2006میں ایران کے ذریعہ اس لئے قائم کیا گیا تھا تاکہ حزب اللہ کی مدد کی جاسکے۔ حزب اللہ کی مدد اسکے ڈھانچہ کی تعمیرنو اس کے مواصلاتی نیٹ ورک کو بہتر بنانے اور اس کی اسلحہ کے صنعت کو قائم کیا جاسکے۔ اسکے علاوہ 1980 میں لبنان میں قائم کیا گیا امام خمینی ریلیف فنڈ بھی حزب اللہ کومالی امداد پہنچانے کا ذریعہ ہے ۔ یہ ادارہ حزب اللہ کے ذریعہ چلایا جاتا ہے جو لاکھوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرتا ہے اور حزب اللہ کے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مرکز چلاتا ہے۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے عوامی طور پر کہا ہے کہ لبنان میں واقع امام خمینی ریلیف فاؤنڈیشن لبنان میں سرگرم ہے اور اس کی مدد ایران کرتا ہے۔ فاؤ نڈیشن کے برانچ ڈائریکٹرعلی رزاعق بھی عوامی طور پر کہہ چکے ہیں کہ فاونڈیشن حزب اللہ چلارہا ہے۔ حزب اللہ کو ایرانی مدد ایک اہم بات ہے لیکن یہ بہت الجھا ہوا معاہدہ ہے لیکن مانا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی ایران سے متعلق نئی حکمت عملی علاقہ میں ایران کے بڑھتے اثر کو روکنے کے مدنظر بنائی گئی ہے کیونکہ اس حکمت عملی کے تحت حزب اللہ کی مالی مدد پر روک لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے مستقبل میں حزب اللہ کا بجٹ اور علاقہ میں اس کے اثر ورسوخ کو یقینی طور پر متاثر کرے گا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com