بشارالاسد نے الغوطہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ

دبئی،19۔ مارچ ، ہ س:شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ شامی آبزرویٹری کے مطابق شامی حکومت کی فوج نے الغوطہ الشرقیہ کے شمالی حصّے کو بم باری کا نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ آبزرویٹری کو دوما شہر کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیاروں کے 17 سے زیادہ فضائی حملوں کا معلوم ہوا ہے۔ اس کے علاوہ فوجی ہیلی کاپٹروں کی جانب سے شہر میں مزید بیرل بم گرائے گئے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں بشار الاسد پر شدید مہلک اور بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ میزائل اور گرینیڈز استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جن میں ناپام ، کلسٹر اور کیمیکل بم شامل ہیں۔
تنظیم نے الغوطہ میں بین الاقوامی مبصرین تعینات کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ دنوں میں الغوطہ الشرقیہ سے 25 ہزار شہری فرار ہو چکے ہیں جب کہ خبردار کیا گیا ہے کہ بم باری جاری رہنے کی صورت میں یہ تعداد 2 لاکھ کے قریب ہو جائے گی ۔ شام میں یونیسف کے نمائندے وران ایکویزا کے اعلان کے مطابق تنظیم بچ جانے والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی 50 ہزار افراد تک کی گنجائش ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں کہ الغوطہ الشرقیہ سے آنے والے 2 لاکھ افراد تک کا خیر مقدم کر سکیں ۔ دوسری جانب بشار الاسد کی حکومت اور روس کے جنگی طیاروں نے چند روز کی خاموشی کے بعد دوما شہر پر پھر سے بم باری کرتے ہوئے تقریبا 20 فضائی حملے کیے۔ اس کے نتیجے میں درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com