دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور میں23 حفاظ کی دستاربندی

مولانا اسرارالحق قاسمی ، مولانا صدیق اللہ چودھری ودیگر علمائ،ائمہ و دانشوران کا خطاب

کلکتہ،24۔مارچ:مسلمانوں نے احکامِ نبوی اور قرآن کریم سے اپنا رشتہ توڑلیاہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان ہر محاذپرناکامی سے دوچار اور ذلیل و خوار ہو رہے ہیں،اس خطرناک صورت حال کو بدلنے کے لئے ہمیں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی ایم پی نے حفظ و تجوید کے معروف ادارہ دارالعلوم اسراریہ فقیر پاڑہ،جولہ ،سنتوشپور میں منعقدہ جلسہ دستار بندی سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ آج ہمارا سماج عملی سطح پر مختلف برائیوں میں مبتلاہے،جن سے پرہیز کرکے مضبوطی کے ساتھ قرآن و سنت کادامن تھامناضروری ہے۔ ریاستی وزیروصدرجمعیة مولانا صدیق اللہ چودھری نے اپنے سبق آموزخطاب کے دوران کہاکہ اس مدرسہ کے کم عمرطلباءنے علماء، ائمہ اور ہزاروں کے مجمع میں ٹھوس یادداشت اور صحت قواعد و مخارج کے ساتھ مختلف سوالات کے جوابات دیے،جس سے قلبی خوشی ہوئی ،جس کے لئے میرے شاگرداور اس مدرسہ کے مہتمم مولانا نوشیراحمد اور یہاں کے قابل اور محنتی اساتذہ کرام لائق مبارکباد ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہراور سہولتوں سے دور پسماندہ آبادی میں قائم اس طرح کے اداروں پر خا ص توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ہمیں اپنے معاشرہ کو تعلیم یافتہ و دین دار بنانے کے لئے ایسے مزید ادارے قائم کرنا چاہئے۔ٹیپو سلطان مسجد کے امام مفتی عبدالشکور مظاہری نے کہاکہ یہاں نورانی قاعدہ اور تجوید کی رعایت کے ساتھ حفظ قرآن کا ٹھوس نظام ہے بلکہ ضرورت کے مطابق عصری علوم انگریزی ،حساب وغیرہ کی بھی معیاری تعلیم دی جاتی ہے،جو خوش آئند بات ہے۔گلبرگہ سے آئے مولانا عبدالمقتدر الیاس نے کہاکہ مجھے یہ جان کر دلی مسرت ہوئی کہ یہاں کے بچے آل کولکاتہ و بنگال اور کل ہند سطح کے مسابقہ¿ حفظ و تجوید میں اول ،دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرکے اپنے والدین اور مدرسہ کانام روشن کررہے ہیں۔ بلگچھیا کے امام حکیم مولانا عبدالرحمن جامی نے بچوں کی ٹھوس یادداشت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے بچے حفظ مکمل کرنے کے بعدبغیر دورکئے ہوئے بھی تراویح سنانے کی صلاحیت رکھتے ہیںاسی طرح بائیس یا پچیس پارہ کے حافظ بھی تراویح سناتے رہے ہیں جو یقینا ایک خوش آئندپہلوہے۔مٹیابرج سعودیہ مسجد کے امام علامہ صابر القادری نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہاں آکر مجھے محسوس ہواکہ طلبہ کرام کو سنتِ نبوی اور بزرگان دین سے محبت کرنے کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے کی عملی مشق بھی کرائی جاتی ہے ،انہوں نے کہاکہ حفظ قرآن کی تکمیل کرنے والے طلبہ زیادہ تردس بارہ سال کی عمرکے ہیں جنہوں نے نہایت مختصر عرصہ میں پوراقرآن یاد کرلیا،میں ان بچوں کی یادداشت کودیکھ کر کافی متاثر ہوا ہوں۔ قبل ازاں معززمہمانوں کے ہاتھوں 23حفاظ کی دستار بندی عمل میں آئی ،اس موقع پر ان طلبہ سے قرآن کریم کے مختلف مقامات سے سوال جواب بھی کیاگیااور بچوں نے مختلف علمی موضوعات پر رنگارنگ پروگرام پیش کرتے ہوئے اردو، عربی، بنگلہ ،انگریزی زبان میں تقاریر ومکالمہ کے علاوہ نماز کے سنن و فرائض اور مستحبات،مسنون دعائیں اور نعت رسول بھی پیش کئے جنہیں حاضرین نے دلچسپی سے سنااور دادوتحسین سے نوازا ۔اس جلسہ کے شرکاءمیںاے ایم یواولڈبوائز کے جنرل سکریٹری انجینئر وقار احمد خان،الحاج شمیم اختر جاوید،چاندنی کے امام مولانا مشتاق مظاہری ، امام مفتی خلیل کوثر ،تانتی بگان کے امام مولانا ابوطلحہ جمال ، رپن اسٹریٹ کے امام مولانا عبدالسبحان ندوی ، دھرم تلہ کے امام مولانا ریحان ،، ملی کونسل کے جنرل سکریٹری حاجی شہود عالم،پروفیسر مستقیم ،امام مولانا ندیم ندوی،امام مولانا مشرف حبیبی ،امام مولانا معظم ندوی،امام مولانا اسعدالحسینی،کمرہٹی کے امام مولانا مظہر،توپسیہ کے امام مولانا ناظم ،مومن پور کے امام مولانا اشرف علی،کاشی پورکے امام ڈاکٹر واجد علی،چاپدانی کے غلام محمد،ماسٹر زین العابدین،حاجی جمشید علی ملا ،مٹیابرج کے شکیل انصاری ،ماسٹر شوکت علی،حاجی محمود عالم،حاجی شمشیر عالم زمزم ہوٹل اور پورنیہ کے امام مفتی عبدالمعیذ اور دیگر علماءو ائمہ کے نام قابلِ ذکر ہیں، جبکہ اس اجلاس میںدوردرازسے ہزاروں مردوخواتین نے شرکت کی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com