چارہ گھوٹالہ:لالو یادو کودو دفعات میں14سال کی سزا

رانچی،24۔مارچ،ہ س:چارہ گھوٹالہ معاملے میں راشٹریہ جنتا دل کے صدر اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو یادو کو دمکا گھوٹالہ کیس میں آئی پی سی اور پی سی کی دفعات کے تحت دو معاملوں میں سات سات سال کی سزا سنائی گئی ہے جس میں مجرمانہ سازش جیسی دفعات بھی شامل ہیں۔ ان پر تیس تیس لاکھ روپے کا جرمانہ بھی لگایا گیا ہے ۔ اس سے قبل بھی لالو پرساد یادو کو دو دیگر معاملوں میں پانچ سال اور ساڑھے تین سال کی سزا ہو چکی ہے اور وہ ہزاری باغ کے برسا منڈا جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں ۔
واضح رہے کہ یہ یہ دونوں سزا ایک۔ ایک کر کے کاٹنی ہوگی یعنی سات سال کی سزا کاٹنے کے بعد دوبارہ سات سال کی سزا کاٹنی ہوگی۔ اقتصادی جرمانہ نہ دینے کی صورت میں یہ سزا دو سال تک اور بڑھ جائے گی۔ جمعہ کو باقی پانچ قصورواروں کی سزا پر بحث مکمل ہونے کے بعد ہفتہ کو سزا کا اعلان ہونا تھا۔ گزشتہ دو دنوں میں لالو پرساد سمیت 14 قصورواروں کی سزا پرسماعت ہو چکی ہے۔دمکا خزانہ سے منسلک اس معاملہ میں سی بی آئی کورٹ نے 31 ملزمان میں سے لالو پرساد سمیت 19 کو قصوروار ٹھہرایا تھا جبکہ سابق وزیر اعلی جگن ناتھ مشرا، سابق ایم پی جگدیش شرما سمیت 12 کو بے قصور قرار دیا تھا۔چارا گھوٹالہ کا معاملہ 38 اے / 96 دمکا کے سرکاری خزانہ سے غیر قانونی طور پر تین کروڑ 97 لاکھ روپیے نکالنے سے متعلق ہے۔ اس معاملہ میں سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو اور جگن ناتھ مشرا سمیت 31 ملزم تھے۔ سی بی آئی نے اس معاملہ میں دو سابق وزیر اعلی مسٹر یادو اور ڈا کٹرمشرا اور تین سابق وزرا سمیت دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے 08 اکتوبر 1999 کو بہار کے اس وقت کے گورنر سورج بھان سے اجازت مانگی تھی۔ گورنر نے 03 نومبر 1999 کو یادو سمیت دیگر ملزمان کے خلاف سی بی آئی کو مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی تھی۔ لالو کے ساتھ 19دیگر ملزمین کو بھی دمکا چارہ گھوٹالہ کیس میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے ۔ اس میں خزانہ سے غیر قانونی طریقے سے 3.13کروڑ روپے کی غیر قانونی نکاسی کی گئی تھی ۔ اس وقت لالو بہار کے وزیرا علیٰ تھے ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com