آخری رسول کی آخری وصیت اور سعودی حکومت

مکرمی

اللہ تعالٰی کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جن پر قرآن جیسی عظیم کتاب نازل ہوئی ، آپ کی باتوں اور اعمال کو حدیث کا نام دیا گیا ، آپ کی سیرت و سنت پر عمل کے نتیجے میں دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ، آپ کی باتوں پر عمل نہ کرنے والا اور آپ کی تعلیمات اور و وصیتوں کا گلا گھونٹنے والا شخص دنیا و آخرت دونوں میں ناکام و نامراد ہوگا ، جب کہ جس شخص نے آپ کی تعلیمات اور وصیتوں پر عمل کی کوشش کی تو اس کے لئے کامیابی و کامرانی یقینی ہے_ وصیت کہتے ہیں کہ سفر کو جاتے وقت یا موت کے قریب آخری نصیحت کرنا کہ میری موت کے بعد ایسا کرنا یا ایسا نہ کرنا ، یعنی آخری نصیحت ، کسی عام انسان کی بھی آخری وصیت کی تکمیل میں اس کی اولاد ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار رہتی ہے ، اگر وصیت سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو تو اس پر عمل کرنے والوں کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے رخصت ہونے کا آخری وقت تھا اور آثار ظاہر ہو رہے تھے کہ آپ عنقریب موت کے قریب ہیں ، اس وقت آپ کی حالت انتہائی کمزور تھی ، کمزوری کا عالم یہ تھا کہ مسواک چبانے کی بھی طاقت نہیں تھی ، صحابہء کرام آپ کو ٹیک لگا کر مسجد لے جاتے تھے ، مگر ان سب کمزوریوں کے باوجود بھی آپ نے تمام جسمانی طاقتوں کو اکٹھا کر کے امتِ اسلامیہ کو مدینہ کی سرزمین پر آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے وصیت کرتے ہوئے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر ، جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ، خبر دار تم لوگ ایسا نہ کرنا ، تم لوگ میری قبر کو عید گاہ نہ بنانا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خالقِ حقیقی سے ملنے سے چند گھنٹے پہلے صحابہء کرام کے سامنے امتِ اسلامیہ کو آخری وصیت کر رہے ہیں کہ میری قبر کو عید گاہ نہ بنانا ، میری قبر کو بھیڑ بھاڑ ، شرک و بدعت و گمراہی سے دور رکھنا ، یہی میں تمہیں آخری وصیت کر کے جا رہا ہوں

مدینہ منورہ میں موجود دوسرا حرم شریف یعنی مسجد نبوی سے متصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ہے ، مدینہ منورہ سعودی عرب میں شامل ہے ، جہاں آل سعود کی حکومت ہے ، جہاں کے فرماں روا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان ہیں ، سعودی حکومت کی نگرانی میں آپ کی قبر مبارک مکمل محفوظ ہے ، حکومت نے ہر قسم کی گمراہی ، بھیڑ ، شرک و بدعت سے آپ کی قبر کو محفوظ کر رکھا ہے ، برصغیر اور دوسرے ممالک سے جانے والے افراد آپ کی قبر کے پاس بدعتی عمل انجام دینے کی کوششیں کرتے ہیں_ مگر سعودی فوج ان کو سختی سے روکتی ہے ، عید میلاد النبی جیسی بدعت کے موقع پر بھی مسجدِ نبوی اور آپ کی قبر کے پاس شرک و بدعت والے اعمال کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں_ مگر بت پرستوں اور اسلام کے دشمنوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت پر سعودی حکومت مکمل طور پر عمل پیرا ہے ، جس کے لئے وہ اہلِ توحید اور عالمِ اسلام کی طرف سے مبارک باد کی مستحق ہے

قارئین کرام !! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگ کی آخری سانسیں لے رہے ہیں ، موت کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں ، ایسے وقت میں آپ نے فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر ، جنھوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا. (بخاری)_ اسی طرح سے آپ نے امتِ اسلامیہ کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ میری قبر کو بت نہ بنانا_ اس وصیت پر عمل میں سعودی حکومت کامیاب ہے ، اور شرف کی بات ہے کہ آپ کی آخری وصیت کی مستحق سعودی حکومت ہے ، بت پرستوں اور مشرکوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ بنایا جائے_ اور اس کو شرک و بدعت کا مسکن قرار دیا جائے ، مگر انھیں کبھی کامیابی نہیں مل سکی ہے اور نہ ہی مل سکے گی. ان شاء اللہ_ شرک و بدعت کے حاملین جہاں مدینہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے منہ لٹکائے واپس آ جاتے ہیں ، قیامت کے دن بھی یہی لوگ شفاعتِ عظمی’ اور حوضِ کوثر سے محروم ہوں گے…

محمد وسیم ، ایم- فل ، اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com