بہار کے غیرمستقل ٹیچرس کی عرضی پر 12جولائی کو آخری سماعت

نئی دہلی، 27مارچ،ہ س:بہار کے 3.5لاکھ غیر مستقل ٹیچرس کو یکساں کام یکساں تنخواہ کے معاملہ پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے اس پراسکیم لانے کے لئے چار ہفتہ کا وقت مانگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ، بہار حکومت کو اس معاملہ میں کتنی مدد کر سکتی ہے۔ اس پر منصوبہ بناکر دے گی۔ اس کے بعد جسٹس آدرش کمار گوئل اور جسٹس آر ایف نریمن کی بینچ نے اس معاملہ پر آخری سماعت 12جولائی کو کرنے کا فیصلہ کیا۔
آج اس معاملہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے میڈیا گراﺅنڈ میں بہار سے آئے اساتذہ کی کافی تعداد جمع ہوئی۔ ان اساتذہ پر نظر پر نظررکھنے کے لئے سپریم کورٹ میں کئی جگہوں پر سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔
گذشتہ 15مارچ کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بہار حکومت کی رپورٹ پر ناراضگی ظاہر کی۔ جسٹس آدرش کمار گوئل اور جسٹس یویوللت کی بینچ نے رپورٹ پر بے اطمینانی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب چپراسی کی تنخواہ 36ہزار روپے ہے تو غیر مستقل ٹیچرس کی تنخواہ 26ہزار روپے کیوں ہے۔
گذشتہ 13مارچ کو بہار کے چیف سکریٹری کی سربراہی میں تشکیل کردہ 3رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی۔ 15صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن کے ذریعہ ایک امتحان کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس امتحان میں پاس ہونے والے ٹیچرس کو ہی 20فیصد بڑھی ہوئی تنخواہ دی جائے گی۔ امتحان پاس کرنے کے لئے غیر مستقل اساتذہ دکو موقع دیئے جائیںگے۔
گذشتہ 29جنوری کو سپریم نے بہار حکومت سے پوچھا تھا کہ اساتذہ کو لے کر تقرری کا عمل کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے یکساں تنخواہ یکساں کام کے حکم پر روک لگانے سے منع کرتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری کی صدارت میں ایک کمیٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں مرکزی حکومت کو بھی ایک فریق بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ بہار حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ دو طرح سے غیر مستقل اور مستقل تقریاں ہوتی ہیں۔ ان ساڑھے تین لاکھ ٹیچرس کی غیر مستقل طور پر تقرری ہوئی ہے۔ ایسے میں ان اساتذہ کو مستقل ٹیچرس کے تحت فائدہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو بجٹ 28ہزار کروڑ روپے بڑھ جائے گا۔ ابھی یہ بجٹ دس ہزار کروڑ روپے کا ہے۔
بہار کے غیر مستقل ٹیچرس کی تنظیم نے پٹنہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر یکساں کام اور یکساں تنخواہ کا مطالبہ کیا تھا۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے 31اکتوبر 2017کو بہار حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر مستقل ٹیچرس کو یکساں کام کے بدلے یکساں سہولت فراہم کریں۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف بہار سرکار نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com