قانونی لڑائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی جامعہ

اقلیتی کردار معاملہ پرجامعہ کے وائس چانسلرپروفیسر طلعت احمد نے فرضی اور بے بنیاد خبروں پر کیا برہمی کا اظہار

نئی دہلی ،27۔مارچ :جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے آج دو ٹوک انداز میں کہا کہ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھنے کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں جاری قانونی لڑائی میں جامعہ کوئی کسر باقی نہیں رکھے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے اندر اور باہر کمیونٹی میں کچھ لوگ فرضی ، بے بنیاد اور افواہوں پر مبنی خبریں پھیلارہے ہیں ایسی افواہیں کمیونٹی کے کچھ خود ساختہ لیڈر پھیلا رہے ہیں اور وہ یہ کام اپنے مفادات کی خاطر کر رہے ہیں جو نادرست۔
انھوں نے کہا میرے بارے میں کچھ لوگ پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں کہ میں ایک سال میں ریٹائرڈ ہونے جا رہا ہوں، مجھے کوئی بڑا عہدہ حاصل کرنے کی لالچ ہے اور اسی لئے میں جامعہ کا دفاع نہیں کر رہا ہوں، مجھے مختلف جگہوں پر کام کرنے کا موقع ملا ہے اور میں نے ہمیشہ تعلیم و تعلم کے رشتہ کو مقدم رکھاہے ، جامعہ سے اپنی میعاد مکمل کرنے کے بعد بھی میں تدریس سے ہی وابستہ رہوں گا ۔
ہر طرح کے الزامات کو رد کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ قانونی کارروائی کے ساتھ تبدیل شدہ حلف نامے کے خلاف اپنا مضبوط موقف رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے ریکارڈ یہ بتاتے ہیں کہ حکومت کے نظر ثانی شدہ حلف نامے کے بارے میں ایڈوانس نوٹس صرف درخواست گزار کے وکیل کو فراہم کیاگیا ، جامعہ کواس کی کوئی اطلاع نہیں گئی،یہ اصول اور قانون کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ کو جب نظر ثانی شدہ حلف نامے کے بارے میں عدالت کی جانب سے کوئی معلومات ہی نہیں فراہم کی گئی تو ہم کیسے اپنا اعتراض درج کراتے اور کس طرح جامعہ کے وکیل جرح کے لئے جاتے۔
وائس چانسلر نے یہ باتیں جامعہ کے سابق طلباءکی تنظیم آجمی کے پہلے اجلاس کے موقع پر کہیں۔انھوں نے کہاکچھ عناصر جامعہ اور اس کی انتظامیہ کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹ اور دروغ گوئی کی مہم چھیڑے ہوئے ہیںیہ نہ صرف اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ اس سے جامعہ اور کمیونٹی کی ساکھ بھی مجروح ہوگی۔
بتا دیں کہ دہلی ہائی کورٹ میں 2011 سے زیر التویٰ جامعہ ملیہ کے اقلیتی کردار کے معاملے پر انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت نے عدالت سے اپناحلف نامہ واپس لے کر اقلیتی کردار کی مخالفت کرنے والا ایک نیا حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں ان کی جانب سے جامعہ کے اقلیتی کردارکو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس بابت جامعہ نے باضابطہ طور پر وضاحت کی ہے کہ ہائی کورٹ میں یہ معاملہ ’باقاعدگی سے سماعت‘ کے تحت درج ہے، جسے چیف جسٹس کی بینچ سماعت کرے گی، تاریخ ابھی طئے نہیں ہے تاہم معاملہ ہائی کورٹ میں آتا ہے توجامعہ اپنے اقلیتی حیثیت کا دفاع کرے گی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com