جامعہ ملّیہ اسلامیہ:تحریک، تاریخ اور کردار

مولانا ندیم الواجدی

ہمارے ہر دل عزیز وزیر اعظم اور ان کی حکومت نے طے کرلیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی پہلو سے مسلمانوں کو مضطرب اور بے چین کرتے رہیں گے، کبھی کبھی تو وہ دبی راکھ سے چنگاری کُریل کر لاتے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں میں آگ لگا دیتے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے حوالے سے فروغ انسانی وسائل کی وزارت نے 5 مارچ کو جو حلف نامہ داخل کیا اس کا مقصد یہی ہے، ویسے بھی یہ راگنیاں اس وقت زیادہ الاپی جاتی ہیں جب ملک میں کسی جگہ انتخابات کی آہٹ سنائی دیتی ہے، آنے والے چند مہینوں میں ملک کی پانچ ریاستوں میں الیکشن ہونے جارہے ہےں، ہندو ووٹ بنک کو مضبوط اور متحد کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی دل آزاری کا کچھ سامان ہوجائے، کرب والم سے وہ چیخیں گے، چلائیں گے، جلسے جلوس ہوں گے، دھرنے مظاہرے ہوں گے، جتنی شدت کے ساتھ یہ کام ہوں گے اسی سُرعت کے ساتھ ہندو ووٹ بی جے پی کے حق میں سمٹتا چلا جائے گا، یہ کہانی مسلسل دہرائی جارہی ہے، اور2019ءتک اسی طرح دہرائی جاتی رہے گی، اس لئے بہتر تو یہ ہے کہ اس معاملے پر زیادہ اُچھل کود نہ ہونی چاہئے، یوں بھی معاملہ کورٹ میں ہے، جہاں جلسے جلوسوں سے زیادہ ثبوت اور دلائل کام دیتے ہیں، فی الحال تو ملّت اس پر بھی سرپیٹ رہی ہے کہ اتنا بڑا واقعہ ہوگیا، جامعہ ملیہ کا اقلیتی کردار خطرے میں پڑ گیا مگر جامعہ کی طرف سے کورٹ میں دفاع کے لئے کوئی وکیل تک پیش نہ ہوسکا، کہنے والے اسے لاپروائی بھی کہہ رہے ہیں، اور مجرمانہ غفلت بھی، جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس معاملے میں جو کچھ کیا گیا ہے وہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے، بہ ہر حال اب عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مسلمانوں کے اس عظیم تعلیمی ادارے کا جس کو انھوں نے نامُساعد اور حوصلہ شکن حالات میں بڑی امنگوں اور آرزوو¿ں کے ساتھ قائم کیا تھا اور جسے انھوں نے اپنا خونِ جگر پلا کر پروان چڑھایاتھا؛ اقلیتی کردار باقی رہے گا یا ملک میں جاری فرقہ پرستی کے خوفناک اژدھے اس کو نگل لیں گے۔جامعہ ملّیہ اسلامیہ کا ذکر آتا ہے تو تحریک آزادی کے پہلو سے جنم لینے والی تحریکِ ترکِ موالات کا خیال ضرور آتا ہے جس نے جدوجہد آزادی کو نیا رنگ اور نیا آہنگ دیا اور جس نے اس جد وجہد کے ذریعے حصولِ آزادی کے ہدف کو قریب تر لانے میںمو¿ثر کردار ادا کیا۔یہ فروری 1920ءکی بات ہے، کلکتہ کے ٹاو¿ن ہال میں تحریک خلافت کا جلسہ منعقد ہوا، اس کے صدر مولانا ابو الکلام آزاد تھے، جلسے میں اعلان کیا گیا کہ اب انگریزوں کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا، ستمبر 1920ءمیں کلکتہ ہی میں کانگریس کا جلسہ ہوا جس میں گاندھی جی نے اس اعلان کی مکمل تائید کی، ان ہی کی رہ نمائی میں ترکِ موالات کا آغاز ہوا، اس تحریک کے اہم نکات یہ تھے کہ حکومت کے خطابات واپس کردئے جائیں، کونسلوں کی رکنیت سے استعفی دے دیا جائے، سرکاری ملازمتیں چھوڑ دی جائیں، تعلیمی ادارے سرکاری امداد قبول نہ کریں، مقدمات سرکاری عدالتوں کے بجائے نجی پنچایتوں میں پیش ہوں، انگریزی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، ان دنوں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی مالٹا کی جیل سے رہا ہوکر ہندوستان واپس تشریف لا چکے تھے، انھوں نے ترکِ موالات کی تائید میں قرآن وحدیث سے مستنبط دلائل سے مزیّن فتوے جاری کئے، ان فتووں کی گونج علی گڑھ میں بھی سنی گئی، جہاں سر سید کا قائم کردہ محمڈن کالج انگریزی حکومت کے سرمائے سے چل رہا تھا، وہاں کے قوم پرست طلبہ میں بے چینی پھیل گئی، علی گڑھ کے کئی ابنائے قدیم جن میں مولانا محمد علی جوہر سرفہرست تھے آگے آئے، انھوں نے علی گڑھ کالج کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ سرکاری امداد لینا بند کردے، مگر انتظامیہ نے یہ اپیل نہیں مانی، نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا محمد علی جوہر نے ان طلبہ کو جو تحریک کے ہم نوا تھے ساتھ لے کر 29 اکتوبر 1920ءکو جامعہ ملّیہ کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیاد ڈال دی جس کو مسلمان بچوں کے تعلیمی مقاصد کی تکمیل کرنی تھی، مگر حکومتِ انگلشیہ کے اثرات سے آزاد رہ کر، مزے کی بات یہ تھی کہ اس کا آغاز علی گڑھ میں ہوا اور اس مسجد سے ہوا جس کے زیر سایہ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے بانی سر سیّد آرام فرما رہے ہیں، جلسہ تاسیس میں پوری قوم پرست قیادت علی گڑھ میں موجود تھی، اور اس قیادت کے روحِ رواں حضرت شیخ الہند اپنی ضعف وناتوانی، پیرانہ سالی اور کثرتِ امراض کے باوجود اس جلسہ تا سیس کی صدارت کرنے کے لئے بہ نفس نفیس تشریف لائے تھے، اس موقع پر انھوں نے تاریخی خطبہ صدارت پیش کیا، اس کے ہر لفظ سے حب الوطنی اور جہاد حریت کی خوشبو پھوٹتی محسوس ہوتی ہے، کمزوری اور نقاہت کے باعث حضرت شیخ الہند یہ خطبہ خود نہ پڑھ سکے بل کہ ان کے شاگرد رشید علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھ کر سنایا، خطبہ کیا تھا صور اسرافیل تھا جو خوابیدہ ذہنوں کو بیدار کرتا چلا گیا، اس موقع پر ترکِ موالات کا فتوی بھی پڑھ کر سنایا گیا، خطبہ صدارت میں کہا گیا تھا کہ ”اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہئے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے غلام پیدا کرتے رہیں بل کہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں بغداد اور قرطبہ کی یونی ورسٹیوں کے اور ان عظیم الشان مدارس کے جنھوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا“ (شیخ الہند مولانا محمود حسن ایک سیاسی مطالعہ ص 192) حضرت شیخ الہند نے ایسی درس گاہوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جہاں علوم عصریہ کی تعلیم دی جائے، اس کے ساتھ ہی انہیں قومی محسوسات اور اسلامی فرائض سے بھی باخبر رکھا جائے، اس ضمن میں انھوں نے فرمایا: ”اس لئے اعلان کیا گیا ہے کہ ایک آزاد یونی ورسٹی کا افتتاح کیا جائے جو گورنمنٹ کی اعانت اور اس کے اثر سے بالکل علیحدہ اور جس کا تمام تر نظامِ عمل اسلامی خصائل اور قومی محسوسات پر مبنی ہو (حوالہ سابق)۔علی گڑھ کے جو طلبہ نیشنل اسلامی یونی ورسٹی (جامعہ ملّیہ اسلامیہ) کے پہلے طالب علم بنے ان سے پویس کے ذریعے مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کا ہوسٹل خالی کرایا گیا، اور یہ نومولود جامعہ کرائے کے مکانمیں منتقل ہوگیا۔اس تفصیل سے صاف ظاہر ہے کہ یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام نہ تھا بل کہ اس تحریک حریت کو آگے بڑھانے کا عمل تھا جس کی آندھی پورے ملک میں چل رہی تھی، یہ ادارہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے مقابلے میں اس لئے قائم کیا گیا تھا تاکہ یہاں سے ایسے افراد نکلیں جو ایک طرف عصری علوم میں یگانہ روزگار ہوں تو دوسری طرف ان کے دل ودماغ اور ذہن وفکر کی تربیت خالص اسلامی بنیادوں پر کی گئی ہو، سر سید کا نظریہ بھی یہی تھا مگر حکومت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے سبب وہ کالج کو اس راستے پر نہ ڈال سکے جس راستے پر وہ اسے ڈالنا چاہتے تھے، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے متعلق اس کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا تھا: ”جامعہ کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کی آئندہ زندگی کا ایک ایسا نقشہ تیار کرے جس کا مرکز مذہب اسلام ہو اور اس میں ہندوستان کی قومی تہذیب کا وہ رنگ بھرے جو عام انسانی تہذیب کے رنگ میں رنگ جائے، جامعہ کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی آئندہ زندگی کے اس نقشے کو سامنے رکھ کر ان کی تعلیم کا مکمل نصاب بنائے اور اس کے مطابق ان کے بچوں کو جو مستقبل کے مالک ہیں تعلیم دے، علم محض روزی کی خاطر جو ہمارے ملک کی جدید تعلیم کا اصول ہے اور علم محض علم کی خاطر جو قدیم تعلیم کا اصول تھا دونوں نظرئے بہت تنگ اور محدود ہیں، علم کو زندگی خاطر سکھلانا جامعہ کا مقصد ہے جس کے وسیع دائرے میں مذہب، حکمت، اور صنعت، سیاست اور معیشت سب کچھ آجاتا ہے۔ (جامعہ ملیہ اسلامیہ، تحریک، تاریخ، روایت ص33)۔پانچ سال کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ نے علی گڑھ سے ہجرت کرکے دہلی کو اپنا مستقل ٹھکانہ قرار دیا، یہاں اُسے حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسے بے لوث خادم ملے جنھوں نے اپنے خون جگر کا آخری قطرہ تک اس ننھے پودے کو تناور درخت بنانے میں صرف کردیا، آج یہ ایک عظیم اسلامی یونی ورسٹی کی صورت میں جلوہ گر ہے، جامعہ ملیہ اسلامیہ ملک کی مرکزی یونی ورسٹیوں میں چھٹے اور ملک کی تمام یونی ورسٹیوں میں بارہویں نمبر پر آچکا ہے، عالمی درجہ بندی میں دنیا کی ایک ہزار یونی ورسٹیوں میں اور ایشیا کی دوسو یونی ورسٹیوں میں اسے شامل کرلیا گیا ہے۔قیام جامعہ کے اسباب ومحرکات اور بعد از قیام کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جامعہ کا قیام خالص مسلم بچوں کی دینی اور دنیوی تعلیم کے لئے عمل میں آیا تھا، اس ادارے کے بانی وہ تمام قوم پرست مسلمان لیڈر ہیں جنھوں نے تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اس ادارے کو روز اول سے گاندھی جی کی تائید وحمایت حاصل رہی ہے، جب بھی موقع ملتا گاندھی جی جامعہ تشریف لے جاتے، وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے ”جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک مسلم اور قومی درس گاہ ہے، سیاسی اختلافات کی فضا میں اپنے تہذیبی کردار کو باقی رکھتے ہوئے اسے اپنی راہ چلنے کی آزادی ہونی چاہئے، ایک موقع پر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے کسی قریبی ساتھی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ”اسلامیہ“ نکالنے کی تجویز رکھی ہے تو انھوں نے کہاکہ اگر اسلامیہ کا لفظ نکال دیا گیا تو انہیں اس ادارے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی “ (حوالہ سابق، مضمون پروفیسر محمد مجیب ص 203)۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مہاتما گاندھی کے اس وطن میں قوم پرست مسلمانوں کے قائم کردہ اس ادارے کے روایتی اور حقیقی کردار کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، جب کہ گاندھی جی اس کا کردار باقی رکھنے کے زبردست حامی تھے، انہیں تو اس کے نام سے اسلامیہ نکالنا بھی منظور نہیں تھا، قیام کے چالیس برسوں کے بعد 1963ءمیں اس ادارے کو معنوی یونی ورسٹی کا درجہ ملا، 1988ءمیں پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے اس کو باقاعدہ یونی ورسٹی بنا دیا گیا، 2011ءمیں نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس نے اس کو اقلیتی ادارے کا درجہ دے دیا جس کو اس وقت کی حکومت نے تسلیم کیا، موجودہ حکومت اپنی پیش رو حکومت کے موقف کو مسترد کررہی ہے، یہ ملک کی اقلیتوں کے ساتھ تعصب، نا انصافی اور ظلم وزیادتی کی انتہا ہے۔مرکزی حکومت نے جامعہ کے اقلیتی کردار کے خاتمے کے لئے دو دلیلیں دی ہیں ایک تو یہ کہ 1968ءمیں سپریم کورٹ عزیز پاشا بنام حکومت ہند یہ تسلیم کرچکا ہے کہ جو یونی ورسٹی پارلیمانی قانون کے تحت وجود میں آئی ہو اسے اقلیتی ادارہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا، سوال یہ ہے کہ جس وقت یوپی اے کی حکومت نے 2011ءمیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی ادارہ تسلیم کرنے کا حلف نامہ عدالت میں داخل کیا تھا اور عدالت نے اسے منظوری دی تھی کیا اس وقت حکومت اور عدالت کے پیش نظر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہیں تھا، ویسے بھی نئی یونی ورسٹی قائم کرنے اور کسی قدیم تعلیمی ادارے کو یونی ورسٹی کا درجہ دینے میں بڑا فرق ہے، دوسری بات یہ کہی جارہی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کبھی بھی اقلیتی درجہ حاصل نہیں کرسکتا، کیوں کہ اسے پارلیمنٹ کے ایک نوٹی فیکشن کے ذریعے قائم کیا گیا تھا نیز اس کو مرکزی حکومت کی طرف سے باقاعدہ فنڈ جاری کئے جاتے ہیں، یہ دلیل بھی مسترد کئے جانے کے قابل ہے کیوں کہ یہ ادارہ مسلمانوں کے ذریعے وجود میں آیا ہے، آئین ہند کی دفعہ 30 شق 2 میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ مملکت تعلیمی اداروں کو امداد دینے میں اس بنا پر امتیاز نہیں برتے گی کہ وہ کسی اقلیت کے زیر انتظام ہےں خواہ وہ اقلیت مذہب کی بنا پر ہو یا زبان کی بنیاد پر۔ابھی مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے اقلیتی کردار کی بقا کے لئے لڑائی جاری تھی کہ اب مسلمانوں کو ایک نیا چیلنج دے دیا گیا ہے، اب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے تحفظ کے لئے لڑیں گے جسے ان کے آباو¿ واجداد نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے مسلم بچوں کی عصری اور دینی تعلیم کے لئے قائم کیا تھا، جدو جہد آزادی کی تاریخ میں اس ادارے کے قیام کا شان دار باب موجود ہے جسے حرفِ غلط کی طرح مٹایا نہیں جاسکتا، امید ہے عدالت سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو انصاف ملے گا اور حکومت اپنے ارادوں میں ناکام ہوگی۔

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com