کانگریس کی واپسی ہوکر رہے گی

مکرمی!
کہنے کو تو آل انڈیا کانگریس پارٹی میدان سیاست کی وہ سب سے قدیم پارٹی ہے جس کی قربانیاں ملک و قوم کے تئیں بےشمار بھی ہیں اور عظیم تر بھی، اسی لئے پارٹی کی قیادت و صدارت کی ذمہ داری نبھانے کےلئے ہمیشہ ایسے راہنماؤں کا انتخاب ہوتا رہا ہے جو ایک طرف تو طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہوں اور دوسری طرف دوراندیشی کی صفت سے بھی متصف رہے ہوں. رہا عروج و زوال، نشیب و فراز  کا سامنا کرنا یا ترقی و تنزلی سے افراد و جماعت کا واسطہ پڑنا تو یہ اداروں کے ساتھ پیش آتے ہی رہتے ہیں اور یہ چیزیں کوئی خاص معنی بھی نہیں رکھتیں اس لئے کہ جب بھی میدان میں دو پہلوان اترتے ہیں تو ان دونوں میں پہلوانوں میں سے ایک کے نصیب میں فتح اور دوسرے کے حق میں شکست سے دوچار ہونا لازمی ہوتا ہے ویسے ہی عروج و زوال اور نشیب و فراز سے انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے. کبھی کسی کو محنت شاقہ کی بنیاد پر عروج بخشا جاتا ہے تو وہیں مدمقابل کو زوال سے ہمکنار ہونا پڑتا ہے. اور پھر اس چلتی پھرتی کائنات میں نہ کسی کا عروج ابدی ہے اور نہ کسی کا زوال دائمی ہے بلکہ جو جیسا کرےگا ویسا پائےگا. کانگریس آج جن حالات سے گزر رہی ہے وہ اپنے کئے کی سزا بھگت رہی ہے اور آج اس کی جو گت بنی ہوئ ہے اور جن دشوار گزار مرحلوں سے گزر رہی ہے اس کا یہ حال کسی دانا و بینا سے مخفی نہیں بلکہ ہر کوئ یہی کہہ رہا ہےکہ کانگریس انہیں حالات و اسباب کی حقدار ہے. کیوں کہ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ایک وقت تھا جب مرکز سے لےکر ملک کی بیشتر ریاستوں کی زمام اقتدار اسی کے ہاتھوں میں ہوا کرتی تھی اور یہ اقتدار بھی بلاشرکت غیر اسے حاصل ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے ملک کے طول و عرض میں اسی کی طوطی بولا کرتی تھی تو اسے اپنے دور اقتدار میں یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ عوام نے اسے یہ اقتدار اس لئے حاصل نہیں کرایا کہ وہ جب چاہے، جہاں چاہے اور جس کے ساتھ چاہے ناانصافی برتے، ترقی کے نام پر بدعنوانی کے عفریت کو فروغ دے اور امن و امان کے نام پر مسلم نوجوانوں کو بلا دلیل و شواہد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دے یا ان کا انکاونٹر ہی کرادے؟ ایک وقت تھا جب اس کے مرکزی وزراء اور لیڈران ذاتی اغراض و مقاصد سے بلند ہو کر ملک اور ملک کے عوام کی خدمت کرنے اور زمینی سطح پر کام کرنے پر یقین رکھتے تھے اور ترجیحی انداز پر ان کی تکمیل کیا کرتی تھی لوگوں کے ساتھ خیر خواہی، ہمدردی اور قومی یکجہتی کے تئیں بیداری خاص کر دلت مسلم، کسان، جوان اور غریبوں کو درپیش مسائل کے حل کرنے میں مخلص و بےبہا ہوا کرتے تھے مگر جب سے کانگریس کی ہائ کمان نے خود کو ان امور سے دور کیا اور وقت کی نزاکت کو پیش خاطر رکھتے ہوئے اس نے بھی علاقائی پارٹیوں کے نقش قدم پر چلنا شروع کیا، رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت کا گراف گرتا چلا گیا اور اس کی کامیابیوں کی راہیں معدوم ہوتی چلی گئیں. اب جبکہ اسی آل انڈیا پارٹی کی قیادت و صدارت فی الحال نہرو گاندھی خاندان کے آخری چشم و چراغ اور آخری وارث سمجھے جانے والے جواں سال یوا جوش لیڈر راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے، یہ امید لگائ جانی چاہئے کہ پارٹی آئندہ سال 2019/ میں منعقد ہونے والے مرکزی الیکشن میں شاندار انداز پر واپسی کرےگی اور فتح کا جھنڈا پورے جوش خروش کے ساتھ ویسے ہی لہرائے گی جیسا کہ ایمرجنسی لگانے کی غلطی کرنے اور اس کی سزا بھگتنے کے بعد اندرا گاندھی نے واپسی کی تھی. آج کل پارٹی صدر راہل گاندھی جس بلند ہمتی اور اولوالعزمی کے ساتھ موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر گرفت کر رہے ہیں اور ان کو میڈیا میں بیان کر رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے موجودہ اقتدار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا من بنا لیا ہے اور یہ طے ہےکہ جہاں اقتدار بدلا وہیں اقتدار کانگریس کے پاس اس کے ہاتھوں میں ہوگا، عوام بھی اس بات کو کہنے لگے ہیں کہ ترقی کی جس راہ پر ملک کو کانگریس نے ڈالا تھا اور عوام کو ترقی کا جو نیا نظریہ اور ماڈل دیا گیا تھا موجودہ سربراہان نے انہیں اتنا ہی پیچھے ڈھکیل کر رکھ دیا جہاں سے ان کی شروعات کرنے میں وقت لگےگا.
محمد قاسم ٹانڈوی

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com