وہابیت کیا ہے؟

بدر الامیر ۔ عکاظ

ولی عہد ووزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے اٹلانٹک کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہابیت کیا چیز ہے ؟ ہم اسے نہیں جانتے، نہ ہی کوئی اس کی صحیح تعریف کر سکتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ وہابیت کی اصطلاح سعودی عرب کی جغرافیائی اور فکری حدود سے باہر کی پیداوار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز باہر کی پیدا وار ہے اس کا اطلاق سعودی عرب پر کیسے ہوسکتا ہے؟باہر کی پیداواری اصطلاح دراصل سعودی عرب پر الزام تراشی اور بہتان بازی کے ضمن میں لگائی گئی تاکہ سعودی عرب کو دہشت گردی اور اس کی منحرف فکر سے جوڑ دیا جائے۔
فکری کتابوں میں وہابیت کی اصطلاح اُس دینی تحریک کےلئے استعمال ہوتی ہے جس کا آغاز امام محمد بن عبد الوہاب نے کیا اور جس کی مدد اور پشت پناہی امام محمد بن سعود نے کی۔جب یہ اصطلاح کسی فکر پر لگائی جاتی ہے تو اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ وہ فکر بہت زیادہ شدت پسندی پر مبنی ہے اور جو اپنے سوا کسی دوسرے مکتب ِ فکر کو نہیں مانتی۔عمومی طور پر عالم اسلام بلکہ دنیا کے مفکروں کے نزدیک یہی وہابیت ہے مگر میں آپ کو عرب مفکر محمد عابد الجابری کا ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں جنہوں نے وہابیت کی مختلف تعریف کی ہے، وہ لکھتے ہیں:
وہابی دعوت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خالص دینی دعوت ہے جس کا لب لباب بدعتوں کےخلاف ہے ۔یہی بدعتیں ہیں جو عقیدہ¿ توحید کی شکل بگاڑ کر آدمی کو اللہ کے سوا دوسرے سے وہ صفات وابستہ کرواتی ہیں جو شرک کی بنیاد بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ کے سوا دوسرے کی قسم کھانا، شرعی حدود سے باہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ دینا، قبروں پر بدعتیں کرنا اور مُردوں سے دعا مانگنا وغیرہ۔ اس میں تعویذوں پر یقین اور جنات سے مشکلات کے حل میں مددمانگنا بھی شامل ہے۔خالص توحید پر مبنی وہابی دعوت جو سلف صالحین کے عقیدہ کے مطابق ہے صوفی فکر کے مخالف ہے۔عثمانی ریاست کے دور میں صوفی فکر کو پروان ملا اور یہ معاشرے کا جزلا ینفک بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی فکر نے سب سے زیادہ وہابی فکر کی مخالفت کی۔وہابی دعوت کو اس لئے مقامی طور پر پذیرائی ملی کیونکہ اس کی حریف غیر ملکی طاقت عثمانی سلطنت تھی۔
میرا خیال ہے کہ وہابی دعوت کو علمی طور پر پرکھنے کا موقع نہیں ملا۔شیخ عبد الوہاب کی دعوت سیاسی نہیں تھی مگر اسے عثمانی سلطنت کے توسط سے سیاسی مخالفت کاسامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے وہابی دعوت کو ایک طرف سیاسی رنگ دیا گیا تو دوسری جانب اسے قومی لبادہ اوڑھا دیا گیا۔ عثمانی سلطنت نے اسے اپنی ریاست کےلئے خطرہ تصور کرلیا تھا۔ وہابی دعوت دیگر دینی دعوتوںکی تحریکوں کی طرح ہے جو اسلامی ممالک میں پیدا ہوئیں یا متعارف ہوئیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دیگر دینی تحریکوں اور دعوتوں کو سیاسی رنگ نہیں دیا گیاورنہ انہیں بھی اسی طرح کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا جس طرح کی مخالفت وہابی دعوت کو پیش آئی۔
واضح رہے کہ صرف ایک دینی تحریک ایسی ہے جو بعد میں سیاسی رنگ اختیار کرکے ریاست میں ضم ہوگئی اور وہ ہے خمینی تحریک ۔ تاریخی حوالوں اور عرب مفکروں کے تجزیوں سے یہ حقیقت واضح رہی کہ وہابی تحریک کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ محض اصلاحی تحریک کے طور پر اس کا آغاز ہوا تھا اور اسکے پیدا ہونے کی ضرورت تھی کہ اُس وقت لوگ بدعتوں میں الجھ گئے تھے۔کوئی تحریک یا دینی دعوت ہو وہ زیادہ وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ وہ سیاسی وجود میں خود کو نہ بدل دے جیسے اخوان المسلمون کی تحریک ہے جس کا آغاز محض دینی دعوت کے طور پر ہوا مگر بعد میں اس کا سیاسی وجود ہوگیا۔وہابی دعوت کو سیاسی رنگ دیا گیا ورنہ اس کا سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ وہابیت کے ساتھ جو فکری بحران ہے وہ دیگر تمام دینی دعوتوں سے مختلف نہیں۔آج سعودی عرب میں بڑی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور ریاست جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہورہی ہے تو ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم اپنے ملک کی تاریخ کی ایک حقیقت کو جھٹلائیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کا دوبارہ جائزہ لیں اور تحقیقی نگاہ ڈالیں۔

بشکریہ:اردو نیوز

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com