سعودی عرب میں خرابیاں ہیں_ مگر اچھائیاں بھی ہیں

مکرمی

سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے ، جہاں پر حرمین شریفین موجود ہیں ، دنیا کے تمام مسلمانوں کو ان جگہوں سے جذباتی لگاؤ ہے ، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں کوئی غلط چیز ہو جائے تو پوری دنیا کو خبر ہو جاتی ہے_ مگر اپنے ہی ملک میں اسلام کا تماشا بنا دیا جائے ، مسجدوں کو شہید کر دیا جائے ، مسلمانوں کو ذبح کر دیا جائے ، ایک مجلس میں تین طلاق اور حلالہ کے بہانے عورتوں کے ساتھ زیادتی کر کے سماج کو فحاشی کی طرف ڈھکیل دیا جائے ، اور سماج میں زنا جیسی برائی کا رواج دیا جائے_ مگر ان حرام اور غلط چیزوں کی خبر کسی کو نہیں ہوتی ہے ، اور نہ ہی اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے ، 1400 سالہ اسلامی تاریخ میں کبھی عورتوں نے سڑکوں پر نکل کر اور نہ ہی میدان میں احتجاج کیا ، مگر ہندوستان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبرانوں نے یہ کارنامہ انجام دے کر قوم کی رسوائی کا سبب پیدا کیا ، تین طلاق کے معاملے میں انھوں نے قوم کے کروڑوں روپے برباد کر دئے ، حکومتوں سے ملے ، منبر و محراب کو استعمال کیا ، یونیورسٹیوں میں گھوم گھوم کر ایک مجلس میں تین طلاق کے حق میں نعرے لگائے_ بالآخر ان ہی کی ہار ہوئی ، اور اب یہ عورتوں کو میدان میں لا کر اسلام و شریعت کی فتح دیکھنا چاہتے ہیں
سعودی عرب یہ وہی سرزمین ہے ، جہاں سے اسلام کی روشنی دنیا کے کونے کونے تک پہونچی ، اسلام کے دفاع کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہء کرام میدان جنگ میں کفار سے بھی نبرد آزما ہوئے ، عرب کی سرزمین کا ذرہ ذرہ صحابہء کرام کی قربانیوں کا گواہ ہے ، آج بھی توحید کی خوشگوار ہوائیں عرب سے ہی چلتی ہیں ، شرک و بدعت جیسے عظیم گناہوں سے عرب کی سرزمین پاک ہے ، یہ وہ اسباب ہیں کہ اللہ کی رحمت آج بھی وہاں نازل ہوتی ہے_ گزشتہ چند مہینوں سے سعودی عرب کا نام عالمی میڈیا میں بڑی تیزی سے گردش کر رہا ہے ، پل پل کی خبر دکھائی جاتی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک توحید پر قائم ہیں اور اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں تمام ممالک میں اللہ کی رحمتیں ہر وقت نازل ہو رہی ہیں ، جب کہ سعودی عرب میں شرک و بدعت اور ہر طرف برائی عام ہو گئی ہے ، سعودی عرب کے خلاف ایک خبر پھیلائی جاتی ہے پھر وہ جھوٹی نکلتی ہے ، مسلمانوں کے وہ طبقے جو ضعیف حدیثوں پر عمل کر کے اسلام سمجھتے ہیں، وہی سعودی عرب کے خلاف ہر جھوٹی خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لئے صدقہء جاریہ خیال کرتے ہیں
محمد بن سلمان کے سعودی عرب کا ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب میں کافی تبدیلیوں کی خبریں آ رہی ہیں ، سنیما گھر ، عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت وغیرہ ، ان غلط فیصلوں کی وجہ سے عالمِ اسلام میں بے چینی ہے ، اور ظاہر ہے کہ یہ چیزیں غلط بھی ہیں ، ہم قرآن و حدیث کے پابند ہیں ، کسی حکومت کے غلط فیصلوں کے نہیں ، مگر افسوس تو تب ہوتا ہے کہ جب ہندوستان میں عورتوں کو سڑکوں اور میدانوں میں جمع کرنے والے ، عورتوں کی حکمرانی کا جواز بخشنے والے لوگ ہی سعودی عرب میں عورتوں کے گاڑی چلانے پر زمین و آسمان ایک کئے ہوئے ہیں اور سعودی عرب کے خلاف دن رات تنقید کر رہے ہیں ، ایسے لوگوں کی عقلوں پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے ، عورتوں کو سڑکوں پر لانے والے ، حلالہ کرنے والے ، متعہ کو انجام دینے والے اور عورتوں کی حکمرانی کی حمایت کرنے والے سعودی عرب میں عورتوں کے گاڑی چلانے پر اعتراض کر رہے ہیں ، اسلام مخالف عمل کی مخالفت ضروری ہے_ مگر ایک مجلس میں تین طلاق دینے والوں ، عورت کی حکمرانی ، عورت سے متعہ کرنے والوں کے خلاف بھی تحریک چلائی جائے ، مزاروں اور درگاہوں پر عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں منا کر ایمان کا سودا کرنے والوں کو بھی سماج سے بائیکاٹ کیا جائے
قارئینِ کرام ! سعودی عرب کفر و شرک اور بدعت سے پاک ملک ہے ، فخر کی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب کی پولیس بھی شرک و بدعت کے کام انجام دینے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سختی سے نپٹتی ہے ، جب کہ ہمارے ملک کے علمائے کرام اپنے مسلک کی برتری کے لئے حرام چیزوں کو بھی جائز سمجھتے ہیں_ اور شرک و بدعت کے خلاف کبھی تحریک نہیں چلاتے ، سعودی عرب کا قانون آج بھی قرآن و سنت کے مطابق ہے ، اسی لئے وہاں کوئی پارلیمنٹ نہیں ہے ، وہاں پر جو امن و خوشحالی اور عوام و علماء کی اسلام پر عمل پیرا ہونے کی Spirit(روح ، ہمت ، حوصلہ ، جوش) ہے ، اس کا مقابلہ دنیا کے کئی ممالک بھی مل کر نہیں کر سکتے_ چند مہینوں سے سعودی عرب میں اسلام مخالف چیزوں کو جو جواز دینے کی بات ہو رہی ہے ، تو وہ غلط ہے_ مگر آج بھی سعودی عرب میں اگر نیکیوں اور عوام کی اسلام سے محبت کا احاطہ کیا جائے تو برائیوں کے مقابلے میں اچھائیوں کا پلڑا بھاری ہوگا_ اس لئے دنیا کے انصاف پسندوں اور حق کے علمبرداروں سے یہی گزارش ہے کہ غلط چیزوں کو برا سمجھیں ، جھوٹی خبروں کو پھیلا کر سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ، اچھائیوں کی تعریف کریں_ اور سعودی حکومت کی توحید پرستی کو عوام کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کریں ، کیوں کہ انسان ہی حکومت کر رہے ہیں_ اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی میں برائیاں ہیں_مگر اچھائیاں بھی ہیں۔

محمد وسیم ، ایم- فل ، اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com