این آئی اے کے ذریعہ سیل کردہ مکان کو کھولنے کا حکم

ملزم کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی، سیل کردہ مدارس کو بھی کھلوانے کی کوشش جاری: گلزار اعظمی

ممبئی ،23۔اپریل:مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ کی جیل میں مقید دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ایک ملزم کے گھرجسے این آئی اے نے تفتیش کے نام پر گذشتہ کئی سالوں سے سیل کرکے رکھا تھا کو خصوصی این آئی اے عدالت نے اسے کھولنے اور ملزم کے اہل خانہ کے حوالے کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے نے اخبار نویسوں کو دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم فیض الحق کے مکان کو قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے سیل کردیا تھا ا ور اس کے گھر سے جہادی لیٹریچر، ہتھیاروں کو چلانے کی کتابیں، غیر ممالک سے منتقل ہوئے سرمایہ کی تفصیلات وغیرہ ضبط کیئے جانے کا دعوی کیا تھا ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم فیض الحق کے گھر کو قومی تفتیشی ایجنسی نے سیل کردیا تھا جس کی وجہ سے اس کے والدین اور دیگر اہل خانہ سڑکوں پر زندگی گذارنے پر مجبور تھے ، ملزم کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء سے رابطہ کرکے اس کے گھر کو کھلوانے کے لیئے کوشش کیئے جانے کی گذارش کی تھی جس کے بعد ایڈوکیٹ سلیم کے توسط سے خصوصی این آئی اے عدالت میں عرضداشت داخل کرکے سیل شدہ گھر کو کھول کر اسے ملزم کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کی گذارش کی گئی تھی ۔
دوران سماعت ایڈوکیٹ سلیم نے عدالت کو بتایا کہ اب جبکہ اس معاملے کی تفتیش تقریباً مکمل ہوچکی ہے ملزم کے گھر سے جو حاصل کرنا تھا تحقیقاتی دستہ حاصل کرچکا ہے ملزم کے گھر کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردینا چاہئے کیونکہ ملزم کے اہل خانہ سڑکوں پر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد خصوصی این آئی اے جج گھر کو اس شرط پر کھولنے اور ملزم کے اہل خانہ کے حوالے کیئے جانے کی اجازت دی کہ وہ گھر کو فروخت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کی جائے گی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں ابتک 26 ملزمین کو گرفتار کیاجاچکا ہے جن کی پیروی کے لیئے جمعیۃ علماء نے سینئر ایڈوکیٹ شاہدامام کی سربراہی میں ایک وکلاء کی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ایڈوکیٹ ابو سلیم، ایڈوکیٹ فضل احمد، ایڈوکیٹ شاہجان، ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان و دیگر وکلاء شامل ہیں نیز عدالت میں ابتک 11 سرکاری گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں ۔
گلزار اعظمی نے کہاکہ اس معاملے میں تفتیش کے نام پر این آئی اے نے مغربی بنگال کے کئی ایک مدرسوں کو بھی سیل کیا تھا جنہیں کھلوانے کے لیئے کوشش کی جارہی ہے اور امید ہیکہ جلد ہی اس تعلق سے مثبت فیصلہ حاصل ہوگا۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ استغاثہ کے مطابق 2 اکتوبر 2012 ء کو مغربی بنگال کے شہر بردوان کے کھاگرا گڑھ نامی علاقے میں واقع ایک گھر میں بم سازی کرتے وقت بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو لوگوں کی موت ہوگئی تھی جس کے بعد پولس نے اس گھر کی دو خواتین سمیت دیگر ملزمین کو گرفتار کیا تھا ، حالانکہ خواتین اور دیگر ملزمین کا کہنا ہیکہ بم دھماکہ نہیں ہوا تھا بلکہ گیس سلنڈر پھٹا تھا لیکن این آئی اے نے انہیں دہشت گردانہ معاملات کے تحت ملزم بنا کر پیش کیا ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com