ایودھیا تنازعہ:متنازعہ جگہ کو خوش دلی سے اکثریتی فرقہ کو سونپ دینا چاہئے

قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین سید غیو رالاحسن رضوی کی ’ہندوستھان سماچار‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو

جمیل انصاری
نئی دہلی،26۔اپریل،ہ س:ملک کے مسلمانوں کو منفی سوچ کو ترک کرکے مثبت سوچ اختیار کر موجودہ حالات کے مطابق عمل کرنا چاہئے تاکہ وہ اور ملک دونوں ترقی کے راستہ پر تیزی سے گامزن ہو سکیں۔ان خیالات کا اظہار قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین سید غیو رالاحسن رضوی نے ہندوستھان سماچار کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ملک کے مسلمانوں نے اپنی منفی سوچ کے تحت عمل کیا جس کے نتیجہ میں ان کے حالات بد سے بد تر ہوتے گئے اور اس منفی سوچ پرآج بھی عمل کرنے پران کے حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں، اس لئے عقل مندی کی بات یہ ے کہ اس منفی سوچ سے باہر آیا جائے اور مثبت سوچ اختیار کرکے خود کو اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جایا جائے ۔
قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین نے کہا کہ باری مسجد ،شاہ بانوں کیس اور تین طلاق کامعاملہ ملک کے مسلمانوں کی منفی سوچ کی پیدا وارہے ۔ ان معاملات کو اٹھا کر مسلمانوں نے ملک کے اکثریتی فرقہ کے لوگوں کو اپنا دشمن بنا لیا ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کاماحول خطرہ میں پڑ گیاہے جو ملک کے مسلمانوں کے لئے کسی بھی صورت میں مفید نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک باری مسجد کے تنازعہ کامعاملہ ہے اسے بحسن خوبی حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے تھی لیکن مسلم قیادت کی منفی سوچ کے سبب یہ تنازعہ آج تک حل نہیں ہوا جبکہ اس تنازعہ کے سبب ملک کے مسلمانوں کو نہ صرف بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ انہیں ذہنی اذیت سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ یہ مسلمانوں کی منفی سوچ کانتیجہ ہی ہے کہ یہ حساس ترین مسئلہ ابھی بر قرار ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنی منفی سوچ کو ترک کر کے مثبت سوچ اپنائیں اور ایودھیا میںمتنازعہ جگہ پر اپنے حق سے دستبردار ہوکر اسے اکثریتی فرقہ کو بخوشی سونپ دیں۔ انہیں یہ حقیقت تسلیم کرنا چاہئے کہ ایودھیا اکثریتی فرقہ کے لئے سب سے مقدس جگہ ہے جہاں ان کے مذہبی رہنما رام پیدا ہوئے تھے ۔اکثریتی فرقہ کے اس مقدس جگہ پر مسلمانوں کی جانب سے خود کا حق ماننا انہیں زیب نہیں دیتا۔اب جبکہ یہ تنازعہ اتنا حساس بن چکا ہے تو عقل مندی یہی ہے کہ اس تنازعہ کا حل خوش اسلوبی سے نکالا جائے اور اس کا راستہ یہی ہے کہ بات چیت کے ذریعہ اس تنازعہ کو حل کیا جائے نہ کہ عدالت کے فیصلہ کا انتظار کیا جائے ۔ جو لوگ اس تنازعہ کو عدالت کے فیصلہ سے حل کرانے کی بات کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت کاجو فیصلہ آئے گا انہیں وہ قابل قبول ہوگا۔ تو ایسے لوگوں سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر عدالت نے مسجد کے خلاف فیصلہ دیا تب کیا مسجد کے بارے میں شریعت کا یہ فیصلہ بدل جائے گا کہ ایک بار جہاں ایک مسجد بن جاتی ہے تو وہ قیامت تک زمین سے آسمان تک مسجد ہی رہتی ہے۔ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو اس تنازعہ سے متعلق نہ صرف مسلم فریقین بلکہ پورا مسلم سماج بھی مذاق کا موضوع بن جائے گا ۔اس صورتحال سے بچنے کے لئے اور ملک کے اکثریتی فرقہ کے دل میںعزت و احترام پیدا کرنے کے لئے اس متنازعہ جگہ کو خوش دلی سے اکثریتی فرقہ کے حوالہ کر دینا چاہئے۔اور اپنے بڑے دل کا اظہار کیا جانا چاہئے۔
جناب رضوی نے کہا کہ اس حساس معاملہ کو وقار کا معاملہ نہیں بنانا چاہئے بلکہ ملک کے مفاد کو سامنے رکھ کر اس متنازعہ جگہ پرسے اپنا حق چھوڑ دینا چاہئے۔ اس لئے بھی کہ ایودھیا میں متنازعہ جگہ پر مندر بن چکا ہے اور وہاں پوجا پاٹ بھی جاری ہے ۔ایسی صورت میں وہاں مسجد کی تعمیر ممکن نہیں ہے ۔اس حقیقت کو بھی مسلمانوں کو خصوصاً اس تنازعہ سے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑ کا کر اس سے فائدہ اٹھانے والے مسلم قائدین کو سامنے رکھنا چاہئے۔اس کے علاوہ مسلم قائدین سے یہ بھی سوال ہے کہ وہ بابری مسجد کے معاملہ کو اٹھا کرمسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں جبکہ دہلی میں آثار قدیمہ کے تحت جو 121مساجد ہیں اور جہاں نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے ،ان کی واپسی کے لئے کوئی تحریک کیوں نہیں چلائی جاتی ؟ مسلم قائدین کا یہ دوہرا رویہ کیوں؟
اسی طرح تین طلاق کا معاملہ بھی مسلم قائدین کی منفی سوچ کی دین ہے۔ اس معاملہ کو الجھانا نہیں چاہئے۔جہاں تک تین طلاق کامعاملہ ہے قرآن میں اس کاکہیں ذکر نہیں ہے ۔اس کے باوجود مسلم قائدین تین طلاق کے معاملہ کو جائز ٹھہراتے رہے اور اس معاملہ کوعدالت میں لاکر جگ ہنسائی کرائی۔ اس معاملہ میں بھی وہ اپنے نقطہ نظر کے تئیں عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے جس کے نتیجہ میں عدالت نے ایک ساتھ تین طلاق کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اگر مسلم قائدین نے مثبت سوچ اختیار کیا ہوتا اور تین طلاق کو غلط قرار دیا ہوتا تو عدالت تک یہ معاملہ پہنچتاہی نہیں اور شریعت کی جگ ہنسائی نہ ہوتی۔جب قرآن میں ایک ساتھ تین طلاق کی اجازت نہیں ہے تو اس پر مثبت سوچ اختیار کرنے میں مسلم قائدین کو کیا قباحت تھی؟
قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین نے کہا کہ مسلم قائدین کی جانب سے مسلمانوں میں منفی سوچ پیدا کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ مرکز میں اور متعدد ریاستوں میں بر سر اقتدار بی جے پی حکومتوں کومسلمان اپنا دشمن سمجھتے ہیں جو مسلمانوں کے لئے بالکل فائدہ مند نہیں ہے ۔ اگر بی جے پی مسلمانوںکی دشمن ہوتی تو مرکز میں بر سر اقتدار مودی حکومت مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کوئی خیال نہیں کرتی لیکن معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔
مودی سرکار نے اس بار اقلیتی وزارت کو اب تک کا سب سے زیادہ بجٹ دیا تاکہ ملک کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیموں کو بہتر طریقہ سے نافذ کیا جا سکے۔یہ مودی حکومت کی مسلمانوں کی فلاح و بہبود میںدلچسپی کا ثبوت ہے کہ مرکزی اقلیتی وزارت کی جانب سے اس وقت ایک سو اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں تاکہ ملک کے مسلمانوں کو سماجی تعلیمی اور اقتصادی میدان میں ترقی کے اس منزل تک لے جایا جا سکے جہاں اکثریتی فرقہ موجود ہے کیونکہ مودی حکومت ’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس ‘ کے نعرے پر عمل کر رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب ملک کا ہر طبقہ اور ہر فرقہ قدم سے قدم ملا کرترقی کرے ۔ مودی حکومت ماضی کی غیر بھاجپائی حکومتوں کی طرح مسلمانوں کی منہ بھرائی کی پالیسی پر نہیں بلکہ انہیں سماجی تعلیمی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط بنانے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے ۔اسی پالیسی کے تحت مرکزی اقلیتی امور کی وزات کی جانب سے مسلم خواتین کو اقتصادی لحاظ سے مضبوط بنانے کے لئے نئی روشنی ،غربت کی وجہ سے اسکولی تعلیم کو درمیان میں ہی چھوڑ دینے والے بچوں کو دوبارہ تعلیم دلانے اور انہیں بر سر روز گار بنانے کے لئے نئی منزل ،اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم بچوں کو آئی اے ایس ، پی سی ایس وغیرہ کے امتحانوں کی تیاری کے لئے ’نیا سویرا‘ وغیرہ پروگرام چلائے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں اقلیتی اکثریتی آبادی والے ایک سو شہروں میں سینٹرل اسکولوں کے طرز پر نودیہ اسکول کھولے جا رے ہیں جہاں اقلیتی فرقوں کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ان اسکولوں سے اکثریتی فرقہ کے بچے بھی مستفیض ہو سکتے ہیں ۔
اقلیتی امور کی وزارت ’ہنر ہاٹ‘ لگا رہی ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں موجود ہنر مند طبقہ کی ترقی ہو سکے ۔اس سلسلہ میں ایک ہنر ہاٹ ممبئی میں اور ایک دہلی میں لگایا جا چکا ہے ۔اس ’ہنر ہاٹ‘ میں ملک بھر کے ہنر مند طبقہ کو مدعو کیا جاتا ہے ۔انہیں مفت میں اسٹال فراہم کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ونہیں دن بھر کا اخراجات بھی دیا جاتا ہے ۔ اس ہنر ہاٹ کا فائدہ یہ ہو رہاہے کہ ہنر مند طبقہ کے لوگوں کو اس ہاٹ کے ذریعہ ان کے دست کاری کے آئٹم کے لئے سال بھر کام کرنے کے آر ڈر مل رہے ہیں۔ مودی حکومت کے ان کاموں کے پیش نظر ملک کے مسلمانوں کو اس حکومت کا بھر پور تعاون کرنا چاہئے ۔
جناب رضوی نے قومی اقلیتی کمیشن کی کار کردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ان کے ذریعہ چیئر مین کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اس کے کام کاج میں کافی سدھار آیا ہے ۔ اقلیتوں کی شکایات کو نمٹائے جانے کی ایک ماہ کی مدت طے کر دی گئی ہے ۔ پہلے کسی شکایت کے نمٹارے کی کوئی مدت طے نہیں تھی۔شکایتیں فائلوں میں گھومتی رہتی تھیں۔ اب کسی کی شکایت کے موصول ہونے پر اس کا نمٹارہ ایک ماہ کے اندر کر دیا جاتا ہے ۔قومی اقلیتی کمیشن کو سب سے زیادہ شکایت بینکوں سے لون نہ ملنے کے سلسلہ میں ملتی تھیں۔اس سلسلہ میں ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر کو خط لکھا گیا جنہوں نے بینکوں کو ہدایت دی کہ مسلمانوں کولون دیئے جانے میں کوئی ٹال مٹول کا رویہ نہ برتا جائے۔اس سلسلہ میں ابھی حال میں لکھنو¿ میں اتر پردیش کے مختلف اضلاع کے بینکوں کے مینیجروں کی میٹنگ کی گئی جس سے ریزرو بینک آف انڈیا کے افسر بھی شامل ہوئے اور بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ سرکاری اسکیموں کے تحت اپنا کارور بار شروع کرنے والے مسلمانوں کو فراخ دلی سے لون دیں۔
قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین نے اس بات کو اقرار کیا کہ کمیشن کو آئینی درجہ نہ ملنے کے سبب اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ وہ اتنے موثر انداز اور تیز رفتاری سے کام نہیں کر پاتا جیسا کہ اسے کرنا چاہئے۔اسے آئینی درجہ حاصل نہ ہونے کے سبب افسران بے خوف رہتے ہیں اور نتیجہ میں کمیشن اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو رہے ۔ انہوں نے بتایاکہ انہوں نے مرکز ی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو خط لکھا ہے کہ کمیشن کو آئینی درجہ دیا جائے تاکہ یہ اپنا کام بہتر اور موثر انداز میں انجام دے سکے ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com