سانحہ قندز کے مصوم شہدا کے نام 

 عبدالجبار خان دریشک 

حمزہ اور عبداللہ آج بہت خوش تھے وہ مدرسے سے چھٹی کے بعد خوشی سے بھاگتے دوڑتے اور اٹکلیاں کرتے گھر کی جانب جارہے تھے، حمزہ نے عبداللہ سے کہا کہ اگلے ہفتے مدرسے میں جو بڑا پروگرام ہوگا اس کے لیے استاد صاحب نے کہا ہے کہ سب بچے سفید رنگ کے سوٹ سلوا لو اور ایک ایک سفید پگڑی بھی خرید لو ، ہو سکے تو جوتے بھی نئے خرید لینا، عبداللہ تم کہاں سے لو گے نئے کپڑے ، تمہارا بابا تو مر گیا ہے۔ یہ بات سن عبداللہ کے چلتے قدم ٹھہر گئے ، عبداللہ اپنی ایک انگلی میں دبا کر کھڑا ہو گیا تو حمزہ نے کہا کیا سوچ رہے ہو عبداللہ ، نہیں میں تو کچھ نہیں سوچ رہا ، عبداللہ نے حمزہ کو نہیں بتایا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ وہ سوچا رہا تھا کیسے ماں کو جا کر بتاو کہ مجھے نئے کپڑے بنوا دے گھر میں تو کچھ بھی نہیں ہے جب سے بابا مرا ہے ہم نے تو نئے کپڑے بھی نہیں خریدے ، چھوٹا بھائی بھی کئی دن ہو گئے ہیں بیمار ہے۔ اتنی ہی دیر میں جب حمزہ نے آواز دی تو عبداللہ بھی چل پڑا ، دونوں بچے کے اک ساتھ گھر کو چل دیے ، گھر کے راستے میں جب یہ ایک قبرستان کے قریب پہنچے تو عبداللہ نے حمزہ سے کہا تو چل میں آ جاو ¿ گا ، حمزہ نے اسرا کیا تجھے یہاں کیا کام ہے لیکن عبداللہ نے دوبارہ کہا تو چل میں بس آیا۔
عبداللہ حمزہ کو روانہ کرنے کے بعد قبرستان میں داخل ہوتا ، اور سیدھا اپنے بابا کی قبر پر جاتا ، عبداللہ اپنے بابا کی قبر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے کہ بابا میرا آپ کے بغیر دل نہیں لگتا ، مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے ، ماں بھی سارا دن روتی رہتی ہے ، اور یوسف (عبداللہ کا چھوٹا بھائی) بھی آپ کو یاد کرتا ہے اور رو رو کے بیمار ہو گیا ہے۔ عبداللہ اپنی آنکھیں صاف کر کے بولتا بابا میں نے قرآن پاک حفظ کر لیا ہے، ہمارے استاد جی نے کہا ہے اگلے ہفتے مدرسے میں بڑا پروگرام جس میں تم سب سفید سوٹ اور سفد پگڑی پہن کر آنا، بابا میں کیا کرو ماں کے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ عبداللہ اپنے بابا کی قبر پر باتیں کرنے میں مشغل تھا کہ حمزہ نے آواز لگائی عبداللہ تمہاری اماں تجھے بلا رہی ہے ، عبداللہ جلد سے اٹھا کر گھر کا رخ کرتا ہے۔
ماں نے کہا عبداللہ تم کدھر چلے گئے تھے تمہیں پتہ ہے میں کتنی پریشان ہوتی ہوں کیوں کدھر چلے جاتے ہو، حمزہ کتنی دیر کر دی تم نے حمزہ کب کا آگیا ہے ، ماں میں بابا کے پاس گیا تھا ، عبداللہ تمہیں کتنی مرتبہ سمجھوں اکیلے قبرستان نہ جایا کرو تم ابھی بچے ہو ، وہاں جنات ہوتے ہیں۔ تمہیں کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گی۔ تمہارے بابا تو نہیں ریے اب تم ہی میرے بڑھاپے کا آسرا بنو گے۔ وعدہ کرو اب اکیلے قبرستان نہیں جانا ماں وعدہ اب نہیں جاو ¿ گا۔ اچھا حمزہ بتا رہا تھا تمہارے مدرسے میں پروگرام ہے سب بچے جو قرآن حفظ کر گئے ہیں ان کی دستار بندی ہوگی اور بڑے عالم آ کر بچوں کو سند دیں گے کیا سچ ہے۔ جی امی مجھے نیا سفید سوٹ بھی سلوانا ہے پگڑی اور نئے جوتے بھی لینے ہیں۔ پر امی ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں میں کیسے بنواں گا ماں نے عبداللہ سے کہا بیٹا تو فکر نہ کر میں ہوں نہ ،
عبداللہ کی ماں گھر کے کچھ قیمتی برتن فروخت کرنے کے لیے بازار لے گئے جن کو فروخت کرنے کے بعد اس نے عبداللہ کے لیے سوٹ خرید ، جسے بعد میں اس نے اپنے ہاتھوں سے سلائی کر کے عبداللہ کا سوٹ تیار کیا ، ادھر حمزہ اور اس شہر کے دوسرے بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ دوکانوں سے سفید سوٹ خریدنے کے بعد سلائی کے لیے درزی کو دے رہے تھے رش کی وجہ سے درزی بھی بہت مصروف تھے ، حمزہ کے بابا کو درزی نے کہا جناب ہمارے پاس تو پہلے بھی کافی بچوں کے سوٹ آئے ہوئے ہیں ، وقت پر سوٹ دینا مشکل ہے پر حمزہ کے بابا نے درزی کو کہا حمزہ کے سوٹ ہمیشہ آپ ہی سلائی کرتے ہیں ہم آپ کے پکے گاہک ہیں مہربانی کریں، اچھا جناب آپ پروگرام سے ایک دن پہلے سوٹ لے جانا، پورے شہر میں اس پروگرام کی وجہ سے کافی گہما گہمی تھی بچے بار بار اپنی چیزیں دیکھتے اور رکھ دیتے ، چھوٹے چھوٹے بچے اپنے دل میں مصوم سی خواہشات لیے اپنی سوچوں اور خیالوں گم رہتے ، کھیل کود میں بھی ایک دوسرے کی تیاری کا پوچھتے رہتے
عبداللہ کی امی نے سوٹ تیار کر لیا اور سفید پگڑی اس کے بابا کی دھو کر تیار کردی ، اس کے لیے جوتے تو نہ خرید سکی پر ان کو صاف ستھرا کر نئے جیسا بنا دیا ، مدرسے کے ساتھ والے گرونڈ میں شامیانے ایک دن پہلے لگانے شروع کردیے گئے مدرسے کے مہتم نے کہا دو ہزار لوگوں کا انتظام کرنا ہے ، دن گزر گیا شام ہوئی تو تمام بچے خوشی کے مار سو ہی نہ رہے ہوں ، رات بھر کروٹ بدل بدل کر سوچتے رہے پروگرام کیسے ہوگا ، بڑے عالم صاحب سے سند لینے کے بعد کیسے خوشی سے دوڑ کر گھر آئیں گے۔ جیسے رات گزری ماں نے عبداللہ کو اٹھایا بیٹا نماز کا وقت ہوگیا ہے اٹھ جا ، عبداللہ نماز کے بعد تیار ہوتا ہے ماں عبداللہ کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کھلایا باپ کی سفید پگڑی سر پر باندھی ماتھ چوما اور عبداللہ کو گھر سے روانہ کیا عبداللہ نے اپنے دوست حمزہ کو آواز لگائی جو اس کے گھر کے پاس رہتا تھا، حمزہ اپنے بابا کے ساتھ گھر سے باہر نکلا ، اب عبداللہ ، حمزہ ،اور حمزہ کا بابا مدرسے کے اس گرونڈ میں پہنچتے ہیں جہاں شامیانے لگائے گئے تھے ، پنڈال میں کافی سارے لوگ آ چکے تھے اور کچھ آ رہے تھے بچوں کے ساتھ بڑے بھی بہت خوش تھے، سب بچے تیار ہو کر گھروں سےآئے ہوئے تھے سب نے سفید کپڑے زیب تن کر رکھے تھے اور چھوٹے بچوں کے سر پر سفید پگڑیاں بہت خوب صورت لگ رہی تھیں
عبداللہ کی ماں گھر کے کام کاج میں مصروف تھی پر خوشی کے ساتھ اس کا دل پتہ نہیں کیوں بوجھل تھا اور وہ پریشان بھی تھی کیونکہ کچھ دن پہلے عبداللہ نے ایک بھیانک خواب دیکھ ، ایک رات وہ سوتے ہوئے چیخ کر اٹھ بیٹھا تھا تو ماں نے کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا عبداللہ میرے لعل کیا ہوا۔ عبداللہ کے چہرے پر خوف تھا اس نے بتایا کہ اماں میں نے خواب دیکھا کہ بابا ایک چار پائی پر سویا ہوا ہے بابا نے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور بابا کی چار پائی کے ساتھ ایک اور چار پائی پر میں سویا ہوا ہوں ، میں نے بھی سفید رنگ کپڑے پہنے ہوئے ہیں میرے سر پر سفید پگڑی ہے اور گلے میں ہار ہیں ، اماں پتہ نہیں پھر کیا ہوتا ہے بہت سارے لوگ میرے اور بابا کے اوپر مٹی ڈال رہے یوتے ہیں ، اماں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ عبداللہ کی ماں اس خواب سے اور بھی پریشان تھی اللہ خیر کرے آج تو خوش کا دن ہے پر میرا دل کیوں اداس ہے۔ وہ دروازے تک آتی اور گلی میں نگاہ دوڑاتی کہیں عبداللہ تو نہیں آ رہا۔
ادھر پروگرام میں تمام لوگ آ چکے تھے بڑے علماء سٹیج پر بیٹھ گئے، پروگرام کا آغاز ہو ، جن بچوں نے قرآن پاک مکمل حفظ کر لیا وہ سب سے پہلی قطار میں بیٹھے تھے۔ سب بچوں کے چہرے ایسے چمک رہے تھے جیسے نور کی برسات میں بھیگ کر آئے ہوں۔ ایک بچے کو سٹیج پر بلا کر سند دی جاری تھی ساتھ ہی گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے جارہے تھے، اب عبداللہ کا نام پکارہ گیا ، عبداللہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا ، آگے بڑھتے قدم روک کر ایک نظر پیچھے پنڈل میں دوڑائی دیکھا سب بچوں کے بابا آئے ہوئے ، پر کوئی وہاں نہیں تھا تو عبداللہ کا بابا ، عبداللہ دل کو قابو میں رکھتے ہوئے سٹیج کی طرف بڑھ رہا تھا تو عجیب غریب آوازہں سب کے کانوں میں گونجنے لگی کہ جیسے کوئی جہاز نیچی پرواز پر اڑ رہا ہو ، ایسے لگ رہا تھا جیسے پنڈل کے قریب ہوں ، ان خوفناک آوازوں سے سب بچے ڈر جاتے ہیں سپیکر پر اعلان ہوتا ہے سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں ، گھبرائیں نہیں کچھ نہیں ہو گا۔
جہاز مزید قریب آرہے تھے اور وہ ہیلی کاپٹر تھے ان کے پروں کی ہوا کی وجہ سے شامیانے اڑنے لگے عبداللہ سند لے کر لوٹ رہا تھا اور حمزہ سٹیج کی طرف جارہا تھا کہ ہیلی کاپٹروں نے پنڈل پر فائر کھول دیے ، ہر طرف سے چیخ پکار شروع ہوگئی۔ فائرنگ کے ساتھ ان ہیلی کاپٹروں نے چار راکٹ بھی فائر ، یہ ظالم انتہائی درندگی سے بچوں اور بڑوں پر فائرنگ کرتے رہے جب تک ان کو تسلی نہیں ہوئی کہ ان میں سے کوئی نہیں زندہ بچہ ہوگا تب تک واپس نہیں گئے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں سفید کپڑوں میں ملبوس بچے جن کے چہر نور کی برسات منور تھے خون سے بھیگ چکے تھے ، مصوم بچے ظالموں کے ان گولوں کا کیا مقابلہ کرتے بڑی تعداد میں بچے شہید ہو چکے تھے ، جو زخمی تھے ان کی حالت بہت تشویشن ناک تھی ، عبداللہ کی ماں نے دھماکوں آوازیں سنی تو دوڑتی ہوئی پنڈال کی طرف آئی تو دیکھ وہاں سب کچھ اجڑ چکا تھا ہر طرف بچوں اور بڑوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ عبداللہ میرا لعل تو کدھر ہے یہ پکارتے ہوئے سٹیج والی طرف جاتی ہے تو سٹیج کے ساتھ ہی عبداللہ خون میں لتھ پت زمین پر لیٹا تھا اس کے ہاتھ میں خون آلودہ مدرسے کی سند تھی ، لیکن عبداللہ شہید ہو چکا تھا عبداللہ کے کچھ فاصلے پر حمزہ کی لاش موجود تھی۔
پورے شہر میں قیامت کا منظر تھا ہر گھر سے رونے شاق قطار رونے کی آوازیں آرہی تھیں ہر گھر میں جنازہ موجود تھا ، ظالموں نے ڈیڑھ سو سے زائد بچے شہید کردیے جن میں سے اکثر کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا۔ عبداللہ کو اس کے بابا کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔ حمزہ کو جب دفنایا جارہا تھا تو اس نے بابا کا ہاتھ پکڑ لیا حالانکہ وہ شہید ہو چکا تھا اس کی روح پروز کر چکی تھی پر کہتے ہیں شہید زندہ ہوتے ہیں۔ حمزہ جیسے کہے رہا ہو بابا میں آپ کے بغیر وہاں کیسے رہوں گا۔
جس جگہ ان بچوں کو شہید کیا گیا وہاں آج بھی مصوم پھولوں کی قرآن پاک پڑھنے کی آواز محسوس کی جاتی ہے۔ یہ تمام مصوم شہید ہیں اور شہید کبھی مرتے نہیں

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com