ضمنی انتخابات: کس کا ہوگا امیدوار، ایس پی-بی ایس پی، آر ایل ڈی میں گھمسان

نئی دہلی،28اپریل ،ہ س:آنے والے28مئی2018کو جن چار لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہونے والا ہے، ان میں سے ایک اترپردیش کا کیرانہ لوک سبھا حلقہ بھی ہے۔ یہ سیٹ بی جے پی کے سینئر لیڈر حکم سنگھ کی موت کے بعد خالی ہوئی ہے۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اس سیٹ پر حکم سنگھ کی بیٹی مرگانکا کو امیدوار بنائے گی، جو گزشتہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی امیدوار تھیں لیکن الیکشن ہار گئی تھیں۔ بی جے پی اگر مرگانکا کو امیدوار بناتی ہے تو ان کے والد کی مقبولیت اور ہمدردی کا بھرپور فائدہ ملے گا۔ بی جے پی ریاست اور مرکز دونوں جگہ حکومت میں ہے اس کا فائدہ بھی ملے گا۔ اس لئے لوگ کہہ رہے ہیں کہ مرگانکا کی جیت کا امکان زیادہ ہے۔ لیکن اس سیٹ پر اگر ایس پی – بی ایس پی اتحاد نے کوئی مضبوط اور مقبول عام امیدوار کھڑا کردیا تو لڑائی سخت ہوجائے گی۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ضمنی الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑا نہیں کرنے کی بات کہی ہے اور انہوں نے ایس پی کو حمایت دینے کا اشارہ دیا ہے۔ ایسے میں ایس پی-بی ایس پی اتحاد نے اگر ایس پی کے کسی مضبوط امیدوار کو میدان میں اتارا تب بی جے پی کے امیدوار کے لئے الیکشن مشکل ہوجائے گا۔ لیکن ایک صورت ایسی بھی بن رہی ہے جس میں بی جے پی کی امیدوار کی جیت آسان ہوجاے گی۔ایسی صورت راشٹریہ لوک دل کے سربراہ اجیت سنگھ پیدا کررہے ہیں۔وہ کیرانہ ضمنی الیکشن میں بیٹے جینت چودھری کو کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اس کے لئے انہوں نے ایس پی اور بی ایس پی لیڈروں سے بات کررہے ہیں کہ آپ لوگ جینت چودھری کے لئے یہ سیٹ چھوڑیئے۔ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ ایس پی، بی ایس پی کے ساتھ راشٹریہ لوک دل بھی رہے تو آپ لوگ جینت چودھری کو ٹکٹ دیجئے۔ حلقہ میں جاٹوں کی تعداد اچھی ہے، اس لئے ایس پی بی ایس پی کے تعاون سے یہ سیٹ آسانی سے نکالی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ جینت کے نام پر راضی نہیں ہوئے تو راشٹریہ لوک دل کانگریس کے ساتھ مل کر جینت چودھری کو امیدوار بنانے کا اعلان کردے گی۔ سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ اگر راشٹریہ لوک دل نے جینت چودھری کو اپنا امیدوار بنایا تو کیرانہ پارلیمانی حلقہ کے ضمنی الیکشن کی لڑائی سہ رخی ہوجائے گی۔ یہ ہونے پر بی جے پی امیدوار کے لئے جیت کا راستہ مشکل ہوجائے گا۔
ادھر ایس پی لیڈروں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر مسلم اور دلت ووٹروں کی تعداد اچھی ہے۔ اگربی ایس پی کے حمایت سے ایس پی اچھا امیدوار کھڑا کرتی ہے جس کے لئے ایس پی پرعزم ہے تو راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ بھلے ہی اپنے بیٹے کو یہاں سے کھڑا کریں تو بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ایس پی امیدوار کاپلڑا بھاری رہے گا۔ جہاں تک کانگریس کا راشٹریہ لوک دل کے ساتھ جانے کا سوال ہے یہ مستقبل بتائے گا۔ معلوم ہوکہ204کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے راشٹریہ لوک دل سے اتحاد کی تجویز پیش کی تھی ان کے لئے کچھ سیٹوں اور مرکز میں اجیت یا ان کے بیٹے کو وزارت کا عہدہ کا وعدہ کررہی تھی۔ لیکن اجیت اور زیادہ سیٹیں مانگ رہے تھے جس پر بات نہیں بنی اور باب اور بیٹے دونوں ہی لوک سبھا الیکشن ہار گئے۔ بیٹے جینت چودھری2014 میں متھرا لوک سبھا پارلیمانی حلقہ سے لوک سبھا الیکشن لڑے تھے لیکن بی جے پی لہر میں بہہ گئے۔ ان کے والد اجیت سنگھ اپنے والد چرن سنگھ والی لوک سبھا سیٹ باغپت سے الیکشن لڑے تھے۔ وہ وہاں ممبئی پولس کمشنر رہے بی جے پی کے ستیہ پال سنگھ سے ہار گئے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com