تلوجہ جیل زدو کوب معاملہ: تحقیقات آئی جی یا مجسٹریٹ سے کرانے کی گذارش

ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت سے ملزمین کے تحفظ کا مطالبہ کیا

ممبئی،5۔مئی:ممبئی کے تین مختلف مقامات ،زویری بازار، اوپیرا ہاؤس اور دادر کبوتر خانہ میں 13 جولائی 2011 ء ہوئے بم دھماکے 13/7 بم بلاسٹ کیس میں ماخوز ملزم ندیم اختر اشفاق احمد شیخ جسے گذشتہ دنوں تلوجہ جیل انتظامیہ نے بلا کسی وجہ کے شدید زدو کوب کیا تھاکے معاملے میںآج عدالت میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کے وکیل شریف شیخ نے زبردست بحث کرتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملزمین کے تحفظ کو یقینی بنائے نیز معاملے کی غیر جانبدار تفتیش انسپکٹر جنرل (جیل) یامجسٹریٹ سے کرائے جانے کے احکامات جاری کرے ۔
آج سیشن عدالت کے جج ایس ایم بھوسلے کوایڈوکیٹ شریف شیخ نے بتایا کہ عدالت سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی سی ڈی ملنے کے بعد انہوں نے اور ان کے معان وکلاء ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر نے کل سی ڈی کو دیکھا جس میں صاف دکھائی دے رہا ہیکہ سیکوریٹی پر مامور پولس اہلکار نہتے ملزم ندیم اختر کو نہایت بے رحمی سے پیٹ رہے ہیں اور اسے پیٹتے پیٹتے کیمرہ سے دو لے جایا گیا تاکہ وہ مناظر کیمرہ میں قید نہ ہوجائیں ۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 167 کے تحت ملزمین عدالت کی تحویل میں ہوتے ہیں اور اس دوران پولس اہلکاروں کو انہیں ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس معاملے میں تلوجہ پولس عملہ نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ملزم کو شدید زدوکوب کیا جس کی انکوائری مجسٹریٹ یا انسپکٹر جنرل آ پولس سے کرائی جانی چاہئے نیز پولس اہلکاروں کے علاوہ انٹری گیٹ پر موجود ان تمام ملزمین کے بیانات کا اندراج ہونا چاہئے جو حادثہ کے وقت وہاں موجود تھے ۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ یہ انصاف کا تقاضہ ہیکہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اسے مجسٹریٹ یا انسپکٹرجنرل آف پولس سے کرائی جائیگی ۔
دوران بحث ایڈوکیٹ شریف نے عدالت میں ممبئی ہائی کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کے دو فیصلوں کی نقول پیش کی جس میں عدالت نے ایسے معاملات میں�آزادانہ تحقیقات کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے ۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جب ملزم سیشن عدالت سے فارغ ہوکر تلوجہ جیل پہنچا تو ڈیوٹی پر مامور پولس افسر پاٹکالے نے اس کے ساتھ نہایت بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور برہنہ کرکے اس کی تلاشی لینے کی کوشش کی اور اس کے اعتراض کرنے پر اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی جس کی شکایت خصوصی مکوکا عدالت کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس آف انڈیا، چیف جسٹس آف بامبے ہائی کورٹ ، حقوق انسانی کمیشن، جیل امور کے وزیر و دیگر متعلقہ حکام سے کی گئی تھی جس کے بعد آج عدالت میں اس س معاملے کے انتہائی اہم ثبوت سی سی ٹی فوٹیج کی روشنی میں ایڈوکیٹ شریف شیخ نے بحث کی۔ایڈوکیٹ شریف شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت اس تعلق سے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی نے کہا کہ اب جبکہ عدالت کے سامنے دفاعی وکلاء نے سی سی ٹی فوٹیج کی مدد سے ثبوت وشواہد پیش کردیئے ہیں ، انہیں امید ہیکہ خصوصی جج آزادانہ تحقیقات کیئے جانے کے احکامات جاری کریں گے تاکہ خاطیوں کوان کے کیئے کی سزا مل سکے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ حالانکہ ہماری کوشش یہ تھی کہ پولس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج ہولیکن خصوصی جج کو یہ اختیارات حاصل نہیں ہیں جس کی وجہ سے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے نیز عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com