جناح، گوڈسے اور سیاست

مکرمی !

ہندوستان سے محبت کرنے والے عوام کےلئے تو جناح اس دن سے ہی قصہ پارینہ بن چکے تھے جب انہوں نے مسائل کے حل کا واحد علاج تقسیم ہند کو قرار دیا اور 14 اگست 1947 کا دن جب اس پر ریڈ کلفٹ کی مہر لگ گئی وہ دن تا قیامت ہندوستان کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جاےگا۔ تقسیم کے بعد جناح پاکستان کے قائد اعظم بن گیے اور مہاتما گاندھی کو ہم نے باپو کے لقب سے نوازا اور وہ ہمارے راشٹرپتا قرار پائے ۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستانی عوام نے تو قائد اعظم کو اپنا حقیقی قائد سمجھا لیکن ہندوستانی عوام میں باپو کو باپو ماننے اور سمجھنے کے سلسلے میں کشمکش مچی رہی اور بالاخر 2 اکتوبر 1948 کے دن گوڈسے نامی شخص نے باپو کو گولی مار کر شہید کردیا۔یہ اور بات کی پاکستان میں جناح کا انجام اس سے کچھ مختلف نہیں تھا ۔
لیکن اس سانحہ عظیم کے حوالے سے یہ ہندوستانی سماج کے لئے نہایت شرم ذلت کی بات ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اسی قاتل گوڈسے کی پوجا کرتے اور اسکی مورتی کے سامنے شیش جھکاتے ہوئے پائے گئے ہیں لیکن ہم میں سے کسی نے اس سے بازپرس نہیں کی اور تو اور بیوقوف جاہل عوام نے انھیں دیش کی سب سے عزت احترام والی جگہ پیش کردی ، گوڈسے نے باپو کو کیوں مارا یا جناح نے تقسیم کی بات کیوں کی اس بات سے قطع نظر ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ دونوں شخص اس دیش کے قاتل ہیں اور اسے محترم ماننے والے عوام کے جذبوں کے قاتل ہیں اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہیے پھر چاہے وہ گوڈسے کی پوجا کرنے والا آج کی برسراقتدار پارٹی کا سربراہ ہو یا مہاراشٹرا کی ریاستی حکومت ہو جو جناح بھون کا خیال اپنے ورثہ کی طرح رکھ رہی ہے یا پھر آندھرا پردیش کی ریاستی حکومت ہو جو جناح ٹاور کو شان سے اپنے چھاتی میں گاڑے دیش بھکت ہونے کا ثبوت پیش کر رہی ہے یا پھر چاہے وہ آر ایس ایس کا گوالیار آفس ہو جہاں گوڈسے کے مندر میں سر جھکاتے دیش بھکت جمع ہوں یا چاہے وہ علیگڑھ مسلم یونیورسیٹی کا وی۔سی ہو جس نے جناح کو لائف ٹائم ممبرشپ دے رکھا ہو وہ سب کے سب چاہے جو کوئی بھی ہوں ان سے جلد سے جلد اس سلسلے میں جواب طلب کیا جانا چاہئے۔
مجھے احساس ہے کہ یہ حقیقت سماعت کےلئے بار ہوگی کہ کیسی باتیں کرتا ہے یہ شخص ، یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیراعظم سے کوئی بازپرس کرے ۔تو اے جاہل عوام اب یہ بھی حقیقت سن لو کہ جس حکومت اور آئڈیالوجی کے تلوے چاٹ کر تم دیش بھکتی کا جاپ کر رہے ہو اور پچھلے چند سالوں سے اس کا ننگا ناچ دکھاتے آرہے ہو اسے تمہاری دیش بھکتی یا مذہبی عقیدے یا کسی بھی طرح کے معاشی سیاسی سماجی فائدے یا نقصان سے کوئی سروکار نہیں ہے وہ تمہیں روز نت نئے پریشانیوں میں مبتلا کر صرف اپنا سیاسی الو سیدھا کرنا چاہتی ہے ٹھیک اسی طرح جیسے برسوں پہلے جناح ، نہرو ، پٹیل نے اپنے سیاسی کیریر کے عروج کےلئے لاکھوں انسانوں کی بلی دے ڈالی اور ندامت کے چند بول بولے بنا اپنے اپنے خاندان کو بہترین مستقبل دیکر چین کی بنسی بجاتے ہوئے دوسری دنیا کو سدھار گیے۔
اے لوگو یہ لمحہ فکریہ ہے تمہارے لئے کہ نگاہیں اٹھا کر دیکھو تو ذرا کہ قوم پرستی اور عوامی فلاح کے مد میں حکومت کا واضح نظریہ کیا ہے اور یہ کہ وہ ہندوستان کو کس خانہ جنگی کی سمت لے کر جا رہی ہے ۔سوچو لوگوں کہ اگر انکی سوچ مثبت ہوتی تو وہ جناح اور گوڈسے کے حوالے سے مندرجہ بالا باتوں کے حوالے سے مثبت اقدامات کرتے لیکن نہیں دراصل بات یہ ہے کہ اس حکومت کو صرف اور صرف اپنا سیاسی مفاد عزیز ہے اور اسے اس راہ میں اگر خطرہ ہے تو صرف اس نئی سوچ سے جو اسکول کالج اور ہندوستان کے مختلف یونیورسیٹیوں میں پرورش پا رہی ہے چاہے وہ روہت ویمولا کی شکل میں ہو چاہے کنہیا کمار کی شکل میں چاہے وہ شہلا رشید کی شکل میں ہو یا مشکور احمد عثمانی اور گوری لنکیش کی شکل میں۔ اسے پتا ہے کہ اگر اس نئی سوچ کو دبایا نہیں گیا تو یہ سوچ ہمیں اور ہماری سوچ کو نگل جائے گی۔
اے معصوم انسانوں یہ لڑائی ہے ذہنیت کی ،اس ذہنیت کی جسے آریایوں نے اس معاشرے کے چند لوگوں کے رگ و پے میں سرایت کر ڈالا ہے لڑائی ہے مثبت اور منفی سوچ کی ، اسلئے اے اندھے بہرے عوام جاگو ، وقت کی فریاد سنو ، کھڑے ہو جاو¿ اور جم جاو¿ اس گندی سیاسی جماعتوں اور سوچ کے خلاف جو سچائی کی آواز مٹا دینا چاہتی ہے ، دبا دینا چاہتی ہے اس نئی نسل کو جو آنے والے وقت میں نئی صبح کی امید بن کر سامنے آنے والی ہے۔

عاصم بدر
جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com