اے ایم یو کے گرتے معیار کےلئے حکومت ، انتظامیہ اور طلباءیونین ذمہ دار

میڈیکل، انجینئرنگ اور لاءکے شعبہ میں ابھی بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کامعیارکافی بہتر ،اے ایم یو کے سابق اساتذہ اورپرانے طلباء سے ہندوستھان سماچار کی گفتگو

نئی دہلی،08مئی ،ہ س:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لاءفیکلٹی، میڈیکل ،انجینئرنگ اور بزنس اسٹڈیز کی تعلیم ملک کے کسی بھی اور دوسرے تعلیمی ادارے سے آج بھی کم نہیں ہے۔ تین سے چار دہائی پہلے تک شمالی ہندوستان میں یہی ایک تعلیمی ادارہ تھا لیکن اب ملک کے کونے کونے میں معیاری اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کچھ معاملوں میں اے ایم یو پیچھے ہوگیا ہے۔ اس کے لئے حکومت ہند اور حکومت کے وہ ادارے بھی کم ذمہ دار نہیں ہیں جس کی بے توجہی کی وجہ سے یہ یونیورسٹی آئی اے ایس اور آئی پی ایس جیسی مقابلہ جاتی امتحانات میں یہاں کے طلبہ بہت اچھے نتےجے نہیں دے پارہے ہیں۔ یونیورسٹی کی شاخ کو ادھر کئی دہائیوں میں کچھ نقصان پہنچا ہے اس کے لئے کچھ ایسے طلباءذمہ ہیں جو اپنا مستقبل سیاست میں بنانا چاہتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح کے طلبہ کے ذریعہ یونیورسٹی کے امن وامان کو نقصان پہنچانے کی بھی مسلسل کوشش کی جاتی رہی ہے۔
ہندوستھان سماچارنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ماضی حال اور مستقبل پر یونیورسٹی کے کچھ پرانے طلباءلیڈران اوراساتذہ سے بات چیت کی ہے۔ان میں زیادہ تر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا ایک بڑا تاریخ سفر رہا ہے اور اس نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ شاید ہی ہندوستان کی کسی دوسری یونیورسٹی نے حاصل کیا ہے۔ اس یونیورسٹی کے طلبہ دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں اور اپنے کام سے ملک اور یونیورسٹی کا نام روشن کررہے ہیں۔
یونیورسٹی کے سابق استاذ اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کا کہنا ہے کہ اے ایم یو ایک بہت ہی حساس ادارہ ہے اور جب بھی یونیورسٹی کی سالمیت تہذیب اور تمدن تاریخ اور ثقافت پر کسی بھی طرح کا حملہ ہوتا ہے تو اس کے طلبائ، استاذ ، انتظامیہ مل کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب جب اس طرح کی کوئی مہم چھیڑی جاتی ہے تب تب اس کی پرزور مخالفت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اس یونیورسٹی نے ایک اہم رول ادا کیا ہے۔ موجودہ صدرجمہوریہ نے اپنے یونیورسٹی دورے کے دوران اس بات کو سراہا کہ یونیورسٹی کا عالمی پیمانہ پر وجود ہے اور دنیا بھر میں اس کے طالب علم موجود ہیں جو اس کا نام روشن کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں ملک اور بیرون ملک میںانجینئر، وکیل، ڈاکٹر، سائنس داں اور بزنس مین یہاں سے تعلیم حاصل کرکے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ گزشتہ تین چار دہائیوںسے ملک بھر میں معیاری تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں جس کی وجہ سے طلباءادھر کا رخ کررہے ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی کا تعلیمی معیار کچھ کم ہوا ہے۔ لیکن اس کے لئے یوجی سی اور حکومت کے دوسرے ادارے بھی ذمہ دار ہیں۔
اس سلسلے میں اے ایم یو اسٹوڈینٹس یونین کے سابق صدر اور اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسربصیر احمد کا کہنا ہے کہ طلباءکی سیاست اے ایم یو کے ساتھ ساتھ سبھی تعلیمی اداروں میں ہوتی ہے یہ طلباءکا حق بھی ہے لیکن کچھ طلباءاپنی ذاتی فائدے کے لئے اس کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ اے ایم یو ایک روشن مستقبل رہا ہے لیکن یونیورسٹی مقابلہ جاتی امتحانات کے علاقہ میں پچھڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پر توجہ دینی چاہئے۔ ہمیں کوچنگ سینٹر کی اوور ہالنگ کرنی چاہئے اور اس سے ضروری ڈیسٹینس ایجوکیشن پر بھی ہمیں سوچنا چاہئے۔
اے ایم یو اسٹوڈینٹس یونین کے سابق صدر عرفان اللہ خان کا کہنا ہے کہ طلباءکی تحریک کو غلط بتانا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو میں گزشتہ دنوں جو کچھ ہوااس میں یہاں کے طلباءکا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولس انتظامیہ کی لاپروائی کی وجہ سے کچھ سرپسند عناصرنے کیمپس میں حملہ کیا۔ یونین لیڈر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباءکی اس تحریک سے یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ رہی بات آئی اے ایس اور پی سی ایس کے نہیں نکلنے کی تو یہ صحیح ہے کہ یہ سلسلہ ادھر رک گیا ہے۔ لیکن جو بھی طلباءدوسرے اداروں سے یوپی ایس سی مقابلہ جاتی امتحانات پاس کررہے ہیں ان کی ابتدائی تعلیم کہیں نہ کہیں اے ایم یو سے ہی ہوئی ہے۔
اے ایم یواولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹیوممبر عبدالغفار کا کہنا ہے کہ طلباءیونین کی سیاست سبھی یونیورسٹی میں ہوتی ہے اور یہیں سے لیڈر پیدا ہوتے ہیں اگر یونین نہ ہوتو لیڈر کیسے پیدا ہوں گے اور ملک کیسے چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کے کوچنگ سینٹر کو دوبارہ سے فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ ابھی جو آئی اے ایس پی سی ایس ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں وہ یہیں کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کیونکہ ہم اس میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ