سلفیت کے نادان ترجمان : ایک نئی ملّت کی راہ پر!

شعبان بیدار

سلفیت کا مفہوم یہ ہو چلاہے کہ اقبال کیلانی کے قلمی سلسلوں ، عمران ایوب لاہوری صاحب کی کتابوں ، تراجم حدیث اور احسن البیان وغیرہ کچھ معتبر تفسیروں پر دسترس حاصل کرنے کے بعد آدمی قائم مقام مفتی ہوگیا۔ اب مسائل میں عالمانہ فیصلے ، مفتیانہ احکام، محدثانہ کلام اور فقیہانہ جسارت کا حقدار ہے اب اس کی بارگاہ سے سلفیت کی سند بھی بانٹی جائے گی ۔ سمجھ میں نہیں آتا سلفیت چند مسائل کا مجموعہ کیوں بن گئی آخر؟ سلفیت تو اپنے اصولوں کے ساتھ ایک آفاقی اسٹیج ہے اس اسٹیج پر زندگی کے قانونی اور نفسیاتی مسائل کا علاج معاشرتی اور سیاسی قضیوں کا حل تیار ہوتا ہے ۔
یہ آسان سی بات گلے کیوں نہیں اترتی کہ نماز کے دوچار مشہور عام اور مختلف فیہ مسائل کے علاوہ عبادات کے اور بھی مسائل ہیں ، احکامات و معاملات کی ایک طویل فہرست ہے جس کا اسلامی تجزیہ ضروری ہے ۔ زکوٰۃ کا سلفی نظام انتشار کا شکا رہے ، اطاعت وامیر کا سلفی مزاج ابھی رخصت پر ہے ،اکرام عالم کا سلفی خیال احبار ورہبان کی خانقاہیں گرانے میں لٹ چکا ہے، یکجہتی کا سلفی شعور ’’قلت‘‘ کی قربان گاہ پر مردہ پڑا ہے ۔ ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہر مسئلہ قرآن وحدیث میں موجود ہے تو اٹھائیے قرآن اور کھولئے حدیث پھر مسائل اٹھا اٹھا کر لوگوں میں اطمینان سے تقسیم کر دیجئے اور اگر نظر نہ آئیں تو اجتہاد بھی کر لیجئے برا کیا ہے؟ اور منع کون کر سکتا ہے ؟ کوئی مسئلہ آئے تو بخاری ، مسلم ، ترمذی کے ترجمے موجود ہیں دیکھئے اور بتائیے۔ نواراتلخ ترمی کن کے حوالےسے یہ اظہار ضروری ہے کہ ایسا کریہہ اور آوارہ ذہن فساد انگیز اور سلفیت کے لئے سمِّ قاتل ہے ۔ ہم اس ذہن کے خلاف قلمی جنگ کا اعلان کرتے ہیں اور گزارش کرتے ہیں اکابر اہل علم سے کہ خدارا ابھی بہت کچھ نہیں بگڑا ہے اس فساد کا ادراک کیجئے لوگوں کو سمجھائیے کہ یہ کتابیں یہ ترجمے یہ تفسیر ی نسخے سمجھنے کے لئے ہیں فتویٰ دینے کے لئے نہیں ہیں ۔
یاد رکھئے علماء سے کچھ باتیں جان کر، کچھ کتابیں پڑھ کر فتویٰ، تبصرہ اور تنقید کا ترقی یافتہ ماحول سلفیت ہرگز نہیں ہے ۔ اگر کتب حدیث میں مسائل جنرل نالج کی طرح پڑے ہوتے تو کیا وجہ ہے کہ علماء کرام نے شروحات لکھنے میں اپنی زندگیا ں کھپا دیں ۔ اگر علماء کرام کی رائے جانے بغیر محض چند کتابوں کی ورق گردانی سے منہج کے علمی حقوق نبھائے جا سکتےتو پھر خود علماء کرام نے تفسیر ابن کثیر، فتح القدیر، فتح الباری، تحفۃ الاحوذی کے اوراق کو اپنا اوڑھنا کیوں قرار دیا ؟ دانش گاہوں کو اپنا ابدی وطن اور انہیں اوراق کو کفن کیوں بنایا ؟ کیا قرآن و حدیث پر ایک سرسری نظر ڈالنی کافی نہیں تھی عدم تقلید کے چشمے سے بےآب و گیاہ صحراء کی دریافت کیوں کر محمود ہو سکتی ہے کہ اہل علم کی آراء اور ان کے فتاویٰ کی اہمیت نہ رہ جائے ۔ مدرسی اور غیر مدرسی دانش کا فرق بھی یہی ہے۔ مدرسی دانش آراءِ رجال سے استفادہ کرتی ہے ان آراء کو مطالعہ کا حصہ بناتی ہے اور کتاب و سنت سے ثابت صحیح مسئلہ اخذ کرتی ہے جب کہ غیر مدرسی دانش سکے کے ایک ہی رخ پر چل پڑتی ہے کہ دین میں آراء رجال کا کوئی دخل نہیں ہے۔ جان رکھئے علماء کے فکر و فن سے استفادہ ان کا احترام اور کسی رائے کے اظہار میں احتیاط اور ہے تقلید کچھ اور ہے۔ اس کا فرق جاننا اور ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
زید و بکرا ور امت کے ثقہ بزرگوں ، علماء کرام اور کوٹ ماڈل اہل علم کا درجہ یکساں نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ محض مطالعے سے کوئی آدمی عرف عام کا عالم ہو سکتا ہے۔ بہت سارے لوگوں کو دھوکہ ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی غیر عالم قرآن و حدیث اور علماء کی تصنیفات کا گہرا مطالعہ کر لے تو وہ بھی عالم کہا جا سکتا ہے یہ تصور قطعی درست نہیں ہے ایسے لوگ معمولی کو غیر معمولی اور غیر معمولی کو معمولی بنا دیتے ہیں انبیاء سے لیکر آج تک استادی اور شاگرد ی کا معاملہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے صحابہ ٔ کرام محض حدیثوں کی روایت جان نہیں لیتے تھے باقاعدہ حدیثوں کو رسول سے سمجھا بھی کرتے تھے ۔بات کا یہ رخ تفصیل کا متقاضی ہے۔کاش ہمارے فاضل دوستوںمیں سے کوئی آگے بڑھ کر اس موضوع پر دواوین سنت اور تاریخ و آثار کی شہادتیں جمع کردیتا تو یہ بڑا مفید عمل ہوتا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آپ دیکھئے اور تعجب کیجئے !مفتی ڈاکٹر سے مفتی وکیل ، مفتی تاجر، مفتی بھنگا ر والے تک سینکڑوں آپ کی کایا پلٹ کرنے کو آستین سمیٹے بازار میں دستیاب ہیں ۔
ہندوستان کی ایک دینی تحریک نے بعض بے اعتدالیوں کے ساتھ چلت پھرت کا طریقہ کیا نکالا لوگوں کے یہاں انفرادی دعوت ہی بدعت ہوگئی چلت پھرت تو سنگین الحاد ہوگیا۔ دینی اجتماعات کے اعلان کا جو منہجی طریقہ تھا غیر منہجی لے اڑے اور ہمیں رنگین دیدہ زیب پوسٹر تھما گئے۔ کمیونیکیشن کا غیر اشتہاری طریقہ بھی شاید کوئی بدعت قرار پائے فیا للعجب!
روزانہ اخباروں میں ننگی تصویریں مطالعہ کرنے والے بے تصویر اخبار نکالنا بھی خلاف ورع جانتے ہیں ۔ جن کے بچوں کی میموری کارڈ میں ’’ہم کو بلانا یا رسول اللہ ‘‘ جیسے سینکڑوں اشعار موجود ہوتے ہیں اور کلی کانپوری ، پھول ہلّوری ، انا دہلوی ، انتِ لکھنوی کی مترنم غزلیں موجود ہوتی ہیں بلکہ خود بھی خلوتوں میں لطف اندوز ہوتے ہیں وہ حضرات بھی شعر و ادب کے ہر دھارے کو صاف الحاد اور کھلا زندقہ جاتنے ہیں ۔ منوھر کہانیاںاور بہشتی حور پڑھنے والوں کو تو نہیں روک پاتے لیکن سبق آموز اسلامی ادب کو مردود قرار دینے میں بااختیار ہیں۔ حد یہ ہے کہ مودودیت اور فراھیت کے جراثیم بھی نکال لاتے ہیں گویا جوراہ غیروں نے پکڑی ہے کتنی ہی مطابق سنت ہو اس پر ہم قدم رکھ دیں تو کفر میں داخل ہو جائیں گے۔
محاذ کا محاذ خالی پڑا ہے ۔ اخباری صحافت کا محاذ ہماری راہ تک رہا ہے۔ ادبی محاذ میں ’’ حتی تنکح زوجاغیرہ ‘‘ کی صورت بھی موجود نہیں ہے ۔ عملی سیاست تو خیر ہندوستان میں ایک مختلف فیہ اور پیچیدہ عنوان ہے لیکن نظریاتی سیاست بھی شجر ممنوعہ کی حیثیت میں ہے ۔ایک طرف تنگ دامانی ایسی اور دوسری طرف کشادہ ظرفی کا یہ عالم ہے کہ امام مؤذن و مدرس سب غیر منہجی منظور ہیں ۔
ایک فتنہ تازہ اور نکل آیا ہے ۔ جو لوگ کمرۂ عدالت میں پیشۂ وکالت انجام دینے میں فیل ہو جاتے ہیں انہیں دین کی وکالت آسان معلوم ہوتی ہے ۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور بزرگوں کی ایک معتد بہ تعداد میں ’’ فتویٰ ازم‘‘ تیزی سے سرایت کررہا ہے وہ بھی سلفیت کے نام پر۔ یعنی تقلید کی مخالفت کا ڈھنڈھورا پیٹنے کے بعد ہرطرح کی لامنہجیت سلفیت ہے۔دین کو سمجھنا ، دین میں تحقیقی انداز نظر کو راہ دینا ایک دوسری بات ہے اور علماء کرام سے بےنیازہوجانا بالکل الگ شۓ ہے۔
سلفیت کا جو موجودہ کنسیپٹ بنتا جارہا ہے اور علمی طورپر جس قسم کا فریم بنتا جارہا ہے اس میں تو ابن حزم اور ابن تیمیہ بھی دست بستہ نظر آئیں گے ۔ حافظ ابن حجر اور ثناء اللہ امرتسری کو بھی جگہ ڈھونڈنی پڑ ے گی ۔ علامہ ابن القیم دور سے پہچان لئے جائیں گے۔ امام مالک کو عمل اہل مدینہ پر اصرا ر کے سبب قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا ۔ مولانا آزاد مولانا داؤد غزنوی کو بیٹھ کر حقہ پینا پڑے گا ۔ تو بہ بھلی ایسے نادان یاران منہج سے جو نہ علماء کا احترام جانیں نہ دین میں احتیاط کا تقاضا ملحوظ رکھیں اجتھاد اور فتویٰ کی حقیقت معلوم نہ اتباع اور تقلید کا فرق! معلوم ہے تو بس اتنا کہ ہم تقلید نہیں کرتے بھئی تقلید نہ کرنے کا مطلب آوارہ پَشو کب ہو گیا !یا پھر عدم تقلید اور منہج کا مطلب ٹھہرا ہو اپانی کب ہوگا جو رکنے کے سبب سڑاند کا شکار ہوجاتاہے۔

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ