القاعدہ سے تعلق کا ملزم ظفر مسعود کی ضمانت عرضی سماعت کیلئے منظور

ممبئی،10،مئی:ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتارملزم ظفر مسعود کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کو دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ 29 مئی کو اس تعلق سے اپنے موقف کا اظہار کرے نیز اس تعلق سے عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس بھی جاری کیا۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ کی جج پرتیبھا رانی نے ایڈوکیٹ ساریم نویدکی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت پر کارروائی کرتے ہوئے اسے سماعت کے لیئے قبول کرلیا جس پر آئندہ 29 مئی کو بحث متوقع ہے۔
گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ ملزم ظفر مسعود کی ضمانت عرضداشت میں کہا گیا ہیکہ ملزم 14 دسمبر 2015ء سے پولس تحویل میں ہے اور اس درمیان تحقیقاتی دستہ نے عدالت میں فرد جرم بھی داخل کردی ہے جس میں بتایا گیا ہیکہ ملزم کا تعلق القاعدہ نامی تنظیم سے ہے اور اس کے بینک اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے فنڈ منتقل کیا گیا تھا لیکن چارج شیٹ کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میںآتی ہیکہ ملزم کے اکاؤنٹ میں پیسہ نہیں آیا تھا بلکہ وہ اس کا خود کا پیسہ تھا نیز دیگر ملزمین کے بیانات میں ملزم کے کردار کے تعلق سے متضاد باتیں کہیں گئیں ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ملزم کے خلاف کوئی پختہ ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ اسے شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔
ضمانت عرضداشت میں مزید بتایا کہ گیا ہیکہ ملزم مقدمہ کا سامنا کرنے کے لیئے تیار ہے لیکن ابتک اس معاملے میں سرکاری گواہوں کی گواہیاں شروع نہیں ہوسکی ہیں اور ابھی اس کے آثار بھی دیکھائی نہیں دے رہے ہیں لہذا ملزم کو مشروط ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
ایڈوکیٹ ساریم نویدم نے ضمانت عرضداشت میں مزید درج کیا ہیکہ خصوصی این آئی اے عدالت نے گذشتہ دنوں اس معاملے میں گرفتار ملزمین پر فرج جرم عائد کردیا تھا اور نا کافی ثبو ت کی بنیاد پر مولانا انظر شاہ قاسمی کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا تھا جس کا فائدہ ملزم ظفر مسعود کو بھی ملنا چاہئے ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم ظفر مسعود سمیت دیگر ملزمین جس میں عبدالرحمن، عبدالسمیع، محمد آصف ، سید ذیشان ودیگر شامل ہیں کے خلاف عدالت نے فرد جرم عائد کردیا ہے اوران کے خلاف یو اے پی اے قانون کی دفعات 18,18B,20 کے تحت مقدمہ چلے گا نیز اس سے قبل جمعیۃ علماء کی کوششوں سے بنگلور کے مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو مقدمہ سے ڈسچارج کرالیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے دسمبر 2015ء میں ملک کی مختلف ریاستوں سے القائدہ تنظیم کے رکن ہونے اور جہاد کے لیئے نوجوانوں کی ذہین سازی نیز ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت پانچ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا جس میں عرض گذار ظفر مسعود بھی شامل ہے جس کی ضمانت عرضداشت دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے لئے قبول کرلی ہے

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ