سچن والیہ قتل معاملہ: فارینسک ٹیم کی تفتیش میں ہوسکتا ہے بڑا انکشاف

سہارنپور،11۔مئی ،ہ س:بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل والیہ کے چھوٹے بھائی اور بھیم آرمی کے ضلع میڈیا انچارج سچن والیہ قتل معاملے میں پولس انتظامیہ کسی بھی طریقہ کی کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتی ہے، جس سے پولس کو اس معاملے میں غیرضروری طور سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ معاملے کے سلسلہ میں حکومت بھی سنجیدہ نظر آرہے۔ جمعہ کو معاملے کی جانچ کرنے کے لئے مرادآباد سے فارینسک افسروں کی ایک ٹیم نے یہاں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ فی الحال اس ٹیم کے ذریعہ خاندان کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
دوسری جانب اس واقعہ کے بعد سہارنپور میں ابھی بھی حالات کشیدہ مگر پر امن ہیں اور متوفی سچن والیا کی گزشتہ روز سخت سیکورٹی کے درمیان آخری رسم ادا کردی گئیں۔سی ایم او ڈاکٹر بی ایس سوڑھی نے بتایا کہ بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل والیا کے چھوٹے بھائی 21 سالہ سچن والیا کی لاش کا صبح تین بجے پانچ ڈاکٹروں کے ایک پینل نے پوسٹ مارٹم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سچن کی موت منہ میں گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ سچن کے لواحقین اس کی لاش کو صبح 10 بجے ایمبولینس کے ذریعہ پوسٹ مارٹم ہاوس سے اپنے گھر رام نگر لے گئے۔ جہاں دوپہر 12 بجے گاوں کے شمشان گھاٹ پر پولس کی سخت چوکسی کے درمیان آخری رسم ادا کردی گئی۔پولس انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر رام نگر میں سچن کی آخری رسم میں شرکت کے لئے کسی کو بھی جانے نہیں دیا، کانگریس کے رہنما عمران مسعود، ممبر اسمبلی مسعود اختر اور میڈیا اہلکاروں کو پولس نے رام نگر میں داخل نہیں ہونے دیا۔وہیں دوسری طرف بھیم آرمی نے ضلع پولس انتظامیہ کو اپنے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ بھیم آرمی نے ضلع مجسٹریٹ کو جو مطالبہ نامہ دیا ہے اس میں 50 لاکھ روپے کا معاوضہ، نامزد چاروں ملزمان کی گرفتاری، خاندان کے ایک رکن کو سرکاری نوکری اور مہارانا پرتاپ کی سالگرہ تقریب منانے کی اجازت فراہم کرنے والے افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے جیسے مطالبے شامل ہیں۔ جن افراد کے خلاف مقتول کی ماں نے نامزد رپورٹ درج کرائی ہے، وہ ابھی روپوش ہیں۔ تھانہ صدر بازار اور کوتوالی دیہات کے علاقوں میں بھاری پولس، پی اے سی، اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ ضلع میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی جنہیں ابھی تک بحال نہیں کیا گیا ہے۔سچن والیا کی موت کے بعد سے سہارپور ہائی الرٹ پر ہےضلع مجسٹریٹ پرمود کمار پانڈے اور سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ ببلو کمار نے متوفی کے اہل خانہ اور بھیم آرمی کے رہنماوں کو بتایا کہ جو بھی مانگیں ان کی طرف سے دی گئیں ہیں وہ حکومت کو بھیجی جارہی ہیں۔ واقعہ کے 24 گھنٹے بعد بھی پولس انتظامیہ یہ صاف نہیں کر پائی کہ سچن والیا کی موت حادثہ تھی یا قتل۔ دونوں اہلکار نے کہا کہ تحقیقات کے بعد اس معاملے کی صورت حال صاف کی جائے گی۔ادھر، ضلع مجسٹریٹ نے سہارنپور ضلع میں مہارانا پرتاپ جینتی تقریب منعقد کرنے پر روک لگا دی ہے۔ پورے ضلع میں سہارنپور شہر اور پولس انتظامیہ اور انٹیلی جنس ایجنسیاں صورت حال کی قریبی سے نگرانی کررہی ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ