آج کی تمام نئی ٹکنالوجی کا تصور صدیوں پہلے داستانوں میں موجود تھا: پروفیسرعلی احمد فاطمی

تصویر میں دائیں سے بائیں:پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر محمد زاہد، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر انیس اشفاق

داستانیں ایسا بحر ذخار ہیں جس میں حیات و کائنات کے بیش قیمت گوہر موجود ہیں: پروفیسر حسین الحق،شعبہ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈی آر ایس فیزIII کا سہ روزہ قومی سمینار”اردو کا داستانی ادب“ اختتام پذیر

نئی دہلی ،13۔ مئی: آج شعبہ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ڈی آر ایس فیزIII کے زیر اہتمام سہ روزہ قومی سمینار ”اردو کا داستانی ادب“ اختتام پذیر ہوا۔اس میں اردو داستانوں کی تحقیق و تنقید سے وابستہ ملک بھر کے اٹھارہ ماہرین نے مقالے پیش کیے۔آج آخری دن اختتامی اجلاس کے علاوہ دو تکنیکی اجلاس کا انعقاد ہوا۔اختتامی اجلاس کے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمدزاہد نے اس سمینار کو اردو ادب کی تاریخ کا ایک یادگار سمینار قراردیا۔پروفیسر انیس اشفاق نے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سمینار سے داستان آموزی کا دروازہ کھلا ہے ۔ پروفیسر قاضی جمال حسین نے سمینار کے خوش گوار اور علمی ماحول کی پذیرائی کی۔پروفیسر حسین الحق نے اس سمینار کو داستانی ادب کی بازیافت سے تعبیر کیا۔اختتامی اجلاس میں ڈی آر ایس فیز IIIکے کوآرڈی نیٹر پروفیسر وہاج الدین علوی نے سمینار کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارے پیش نظر اس سمینار کے جو اغراض و مقاصد تھے ہم اس کے حصول میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ اس اجلاس کی نظامت کے فرائض پروفیسر احمد محفوظ نے انجام دیے اور پروفیسر خالد محمود کے اظہار تشکر پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر حسین الحق نے کہا کہ ہماری داستانیں متناسب علوم کا نمونہ ہیں۔ یہ ایک ایسا بحر ذخار ہیں جس میں حیات و کائنات کی کے تمام بیش قیمت گوہر موجود ہیں۔ دوسرے صدر پروفیسر شہناز انجم نے ہماری داستانوں کو شاہی تہذیب و معاشرت کی ایک دستاویز سے تعبیر کیا ۔ تیسرے صدر پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ دنیا کی تمام ایجادات قوت متخیلہ کی پیداوار ہےں۔ چنانچہ آج جتنی ترقیات نظر آتی ہیں ان سب کا تصور اور خیال داستانوںمیں صدیوں پہلے موجود تھا۔ داستانوں کا جام جم، اوڑن کھٹولہ، عمرو کی زنبیل اور جال الیاسی آج موبائل ، انٹرنیٹ اورلیپ ٹاپ کی حقیقی شکل میں نظر آنے لگا ہے۔اس سیشن میں کل پانچ مقالے پیش کیے گئے جن میں پروفیسر قاضی جمال حسین نے ”اردو داستان کے تنقیدی محاکمے کا خاکہ“، پروفیسر ابن کنول نے ”اردو داستانوں کی تہذیبی معنویت“ ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی نے ”میرباقرعلی داستان گو“، ڈاکٹر سید تنویر حسین نے ”طلسم حیرت: ایک تعارف“ اور ڈاکٹر سلطانہ واحدی نے ”مطبع نول کشور کی داستانیں“ کے عنوان سے مقالات پیش کیے۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر شعیب رضا وارثی نے کی۔
چوتھے اجلاس کے صدارتی خطاب میں پروفیسر انیس اشفاق نے داستانوں کی دانشورارنہ قرا¿ت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مافوق الفطرت عناصر فنتاسی اور طلسم و سحر کے حوالے سے ہمیں نئے فلسفیانہ مباحث کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر شہزاد انجم نے داستانوں کو بیش قیمت ادبی اور تہذیبی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تخیل، زبان و اسلوب اور تہذیبی جڑوں کو سمجھنے کے لیے داستانوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ چوتھے اجلاس میں پروفیسر علی احمد فاطمی نے ”اردو داستانوں میں عوامی عناصر“، پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے ”دہلی کا طویل منظوم قصہ سحرالبیان“ اور ڈاکٹر خالد جاوید نے ”اردو داستانوں میں طلسم کا فلسفہ اور مافوق الفطرت عناصر“ کے عنوان سے مقالے پیش کیے۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر سرور الہدیٰ نے کی۔
اس موقع پر محمد خلیل سائنس داں،پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد،عابد انور، سلام الدین خان، عشرت ظہیر، ڈاکٹر ابوالکلام عارف، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر سلطانہ واحدی، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر نعمان قیصر، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر محضر رضا، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر فیضان شاہد، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر احمد علی جوہر، ڈاکٹر نوشاد عالم، سلمان فیصل، ضیا المصطفیٰ، محمد عابد، ثمرین، مہر فاطمہ، محبوب الٰہی، امتیاز احمدعلیمی، محمد عارف، عرفان احمد، صدف پرویز، سلمیٰ محمد رفیق، شاہ فہد، قرة العین، سفینہ، غزالہ فاطمہ، امیتاز حسین، رضی شہاب، انوارالوفا، نوشاد عالم ندوی اور نشاط حسن کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرس اور طلبا و طالبات موجود تھے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ