امام ومؤذن کی مظلومیت اور مسجد کمیٹی کا ظلم

محمد حامد ناصری قاسمی

استاذ/ دارالعلوم الایمان، کنشاسا، کونگو، افریقہ
hamidnasri565@gmail.com.
رابطہ:+243825419540

اسلام کی نظر میں مکان یا جگہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک جگہ وہ ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اور دوسری جگہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ پہلی جگہ مسجد ہے اور دوسری جگہ بازار ہے۔ اس گھر کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ:) “اور اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو خدا تعالی کی مسجدوں میں اس کا ذکر اور عبادت کیے جانے سے بندش کرے اور ان کے ویران ومعطل ہونے کے بارے میں کوشش کرے۔ ان لوگوں کو تو کبھی بے ہیبت ہوکر ان میں قدم بھی نہ رکھنا چاہیے تھا، ان لوگوں کو دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور آخرت میں بھی سزائے عظیم ہوگی”۔(بیان القرآن، البقرۃ: 114)
حدیث پاک میں آیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب جگہ مسجدیں ہے۔ (صحیح مسلم/671/ کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ) اور مسجدیں بنانے کا مقصد اللہ کی عبادت ہے؛ چناں چہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ:) اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو۔ (ترجمہ شیخ الہند، سورۃ الجن:18) مراد مطلق اللہ کی یاد ہے، خواہ نماز کی صورت میں ہو، یا اذکار کی صورت میں ہو؛ چناں چہ رسول اللہ نے فرمایا: “جب تم جنت کے باغ سے گزرا کرو؛ تو چرلیا کرو!” صحابی نے پوچھا جنت کا باغ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا “مسجدیں۔” پھر پوچھا کہ چرنے کا کیا مطلب؟ فرمایا: “سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ اللہ واللہ اکبر، ہے۔” (ترمذی،3509 ابواب الدعوات)
لیکن مسجدوں کی تعمیر کا اصل مقصد پنج وقتہ نماز جماعت کے ساتھ قائم کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے ذریعہ سے مسجد کو آباد رکھا جائے اور مسجدیں بننے کے بعد، اس کی آبادی کے لیے چار ستون ضروری ہیں: پہلا: امام، دوسرا مؤذن، تیسرا مقتدی، اور چوتھا مسجد کمیٹی۔ اگر ان میں سے ایک بھی نہ رہے؛ تو مسجد کا حق ادا نہیں ہوگا۔ ان چار ستونوں میں اللہ کے یہاں سب سے اعلی اور افضل، دو ستون ہیں، اور وہ امام ومؤذن ہیں۔
امام کے معنی پیشوا کے آتے ہیں جنکی اقتدا کی جائے۔ یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات میں سے ہے۔ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں ان کو تمام انبیاء کا امام بنایا تھا۔(سورۃ البقرۃ:124) اور نبی کریم اپنے زمانے میں تمام انبیاء کے امام تھے؛ چناں چہ معراج کے سفر سے قبل، آپ بیت المقدس میں، انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی۔ آپ جب تک حیات سے رہے صحابہ کرام کی امامت فرماتے رہے۔ انبیاء کے بعد اب منصب امامت کے حق دار علماء ہیں؛ کیوں کہ وہ انبیاء کے وارث ہیں۔ نبی کریم کا فرمان ہے: “علماء انبیاء کے وارث ہیں”۔ (ابوداود: 3642کتاب العلم) امام صاحب سے پہلے اگر کسی نے نماز کا کوئی رکن ادا کرلیا؛ تو اس کی نماز ہی نہیں ہوگی، یہ تو امام کی اہمیت ہے، یعنی شریعت نے امام کا رتبہ بلند کیا، اس کو متبوع بنایا؛ لیکن آج ہم اس امام کو تابع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسرا اہم ستون: مؤذن ہے۔ یہ لوگوں کو نماز کے لیے بلاتا ہے، جس وقت ساری دنیا اپنے کاموں میں مشغول ہوتی ہے، گہری نیند سورہی ہوتی ہے، اس وقت یہ اللہ کا بندہ لوگوں کو دنیا کی مشغولیت سے نکل کر، مسجد میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ کے یہاں اس کی مقبولیت اور بلندی درجات کا ذکر نبی کریم نے یوں فرمایا ہے: ” قیامت کے دن مؤذن کی گردن سب سے لمبی ہوگی”۔ (مسلم:387/کتاب الصلاۃ) نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گردن لمبی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمام لوگوں میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب مؤذن ہوں گے یا یہ کہ سب سے زیادہ ثواب ان کو ملے گا، یا یہ کہ قیامت کے دن جب سب لوگ اپنے بد اعمالی کی وجہ سے پریشانی اور پسینے میں شرابور ہوں گے، اس وقت ان کی گردن لمبی ہوگی؛ تاکہ پسینہ سے محفوظ رہیں، اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔( شرح النووی 78 /4)
لیکن افسوس کہ ان چار طبقوں میں سب سے زیادہ مظلوم طبقہ امام اور مؤذن ہی ہیں۔ جو انبیاء کا وارث ہو، امامت جس کا حق ہو، جو لوگوں کو نماز کی دعوت دیتا ہو، ان کو مسجد آباد کرنے کی دعوت دیتا ہو، وہ آج مجبور محض اور مظلوم بنا ہوا ہے۔ رہے دوسرے دو ستون، یعنی مسجد کے نمازی اور مسجد کمیٹی؛ تو ان کا شمار ظالموں میں ہوتا ہے۔ مقتدیوں کا شمار ظالموں میں اس لیے کہ انہوں نے ایسی کمیٹی کا انتخاب کیا، جو امام ومؤذن کی ضروریات کا خیال نہیں کرتی اورمعلوم ہونے کے بعد بھی کہ مسجد کمیٹی، ان کے امام ومؤذن پر ظلم کر رہی ہے، آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔
مصلیوں کو چاہیے کہ ایسے افراد کو مسجد کی کمیٹی کےلیے منتخب کرے، جو امام ومؤذن کی عزت واکرام اس کے شان کے مطابق کرتا ہو، ان کو اپنا مذہبی پیشوا اور سردار سمجھتا ہو، ان کو دیگر ملازمین کی طرح سمجھنا منصب امامت کی توہین ہے؛ بلکہ مجھے کہنے دیجیے کہ صرف توہیں نہیں بلکہ ظلم ہے۔مصلیوں کے کچھ صفات ہیں، ہر مصلی کو ان صفات سے متصف ہونا چاہیے؛ چناں چہ مسجد کے آباد کرنے والوں کے لیے جن صفات کا حامل ہونا شرط ہے، اللہ پاک نے تفصیل سے اس کا ذکر فرمادیا ہے: (ترجمہ:) ہاں اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا ان ہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں، اور نماز کی پاپندی کریں، اور زکاۃ دیں، اور بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈریں، سو ایسے لوگوں کی نسبت توقع ہے کہ اپنے مقصود تک پہنچ جاویں گے.(بیان القرآن، سورۃ البقرۃ: 81) آیت کریمہ کا خلاصہ یہ ہوا کہ ذمہ دار، خدمت گار کو کم از کم مذکورہ صفات (تقوی) کا حامل ہونا چاہیے۔
اب ہم اپنی مسجدوں کا جائزہ لیں، کیا ہماری مسجد کمیٹی میں ایسے افراد ہیں جو آیت میں مذکور صفات کے حامل ہیں؟ اگر نہیں ہیں؛ تو یقینا وہ امام ومؤذن کی خدمت ان کی شایان شان نہیں کر سکتے۔ ہماری مسجد کے صدر اور سکریٹری بھی سیاسی اور دبنگ لوگ ہوتے ہیں، جن کو دور تک بھی اللہ کا ڈر نہیں ہوتا۔ نماز اور مسجد سے ان کا واسطہ صرف جمعہ اور عیدین تک ہی محدود رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسے لوگ سخت دل ہوتے ہیں۔ صرف اپنے کو عزت دار خیال کرکے عزت واحترام کا حق دار سمجھتے ہیں۔ امام ومؤذن سے بھی وہ یہی توقع رکھتے ہیں کہ ان کے سامنے عزت احترام میں ان کی گردن جھکی رہے اور جی حضوری کریں۔ دوسروں کی ضروریات سے وہ واقف تو ہوتے ہیں، مگر امام وموذن کی ضروریات سے ناواقف رہتے ہیں اور اگر واقف ہوبھی جاتے ہیں؛ تو ان کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں لیتے۔
یہ حال تو ہماری کمیٹی کاہے۔اور ہم؟ جی ہم بھی ان سے کم نہیں، بلکہ اس ظلم عظیم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم بھی امام ومؤذن کے مرتبہ سے غافل ہیں، یا جان بوجھ کر غفلت برتتے ہیں، ہم امام کو ہمیشہ مفلس، قلاش، مقروض، اور مجبور محض دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ امام ایک اچھے مکان میں رہے۔ اس کے گھر کا کھانا پینا اچھا ہو۔ اس کے پاس ایک گاڑی ہو۔ اس کے بچے اچھا پہنیں، اعلی تعلیم سے حاصل کریں اور امام خوش حال زندگی گزارے۔ مصلیوں کی اکثریت امام ومؤذن پر حکومت کرتے نظر آتے ہیں، بل کہ ان میں اکثر ایسے افراد ہوتے ہیں جن کی گھر میں ایک آنے کی بھی حیثیت نہیں ہوتی؛ لیکن مسجد میں آکر وہ مسجد کے خادموں کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ آج ہماری یہ صورت حال ہے کہ اپنے خدمت گار ملازم کی تنخواہ امام ومؤذن کی تنخواہ سے زیادہ دیتے ہیں۔ اگر امام صاحب کسی مجبوری کی وجہ سے کسی دن دو منٹ لیٹ ہوگئے؛ تو گلا پھاڑ پھاڑ کر امام صاحب کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ آئندہ یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے۔ تنخواہ کاٹنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ جی وہی تنخواہ جس سے امام صاحب کے گھر کاگزارہ مشکل سے ہوتا ہے۔ جی وہی تنخواہ جتنے کا بیڑی سگریٹ ہمارے صدر وسکریٹری صاحبان صرف ایک دن میں ہضم کرجاتے ہیں، میرے خدا رحم فرما!
ہماری کمیٹی بلا وجہ اماموں کو تبدیل کرنے کی خواہش مند رہتی ہے؛ بل کہ کرتی رہتی ہے۔ کیوں؟ وہ اس لیے کہ اگر ایک ہی امام مستقل جم کر رہا؛ تو سال دو سال پر تھوڑی بہت تنخواہ بڑھانی ہوگی اور یہ ممکن نہیں۔ امام کی تقرری کے وقت تنخواہ تو امامت کی متعین کی جاتی ہے؛ لیکن دو وقت مکتب پڑھانے کی شرط لگادی جاتی ہے۔ بعض جگہوں پر یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ آپ کو اپنی تنخواہ چندہ کرکے خود نکالنی ہوگی اور چندہ میں سے تنخواہ لینے کے بعد، جو کچھ بچے اس کا حساب کمیٹی کو دینا ہوگا اور کہیں مطلق چندہ کی ہی شرط رہتی ہے کہ ماہانہ چندہ اور ضرورت پڑنے پر تعمیری چندہ بھی کرنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ یہ سب ذمہ داریاں مسجد کمیٹی کی ہے نہ کہ امام ومؤذن کی۔ آج کل مسجدوں میں امام کے ساتھ ایک نیا فتنہ شروع ہوگیا ہے، (دعوت وتبلیغ کے کام کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں، لیکن آج جو صورت حال پیش آرہی ہے وہ افسوسناک ہے) اگر کسی مسجد میں تبلیغی احباب کی کثرت ہے تب تو کھلے عام امام ومؤذن کے ساتھ سال، چلہ، چار ماہ کی شرط لگائی جارہی ہے اور اگر اکثریت نہیں ہے؛ تو پس پردہ ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور اگر ایسے لوگ کمیٹی میں ہیں؛ تو امام ومؤذن کو ذلیل کرکے نکالا جارہاہے۔ ہندوستان میں ایسے سینکڑوں واقعات رونماہوچکے ہیں۔ بڑے بڑے عالم مسجدوں سے اس لیے نکالے گئے کہ سال نہیں لگا ہے، فضائل اعمال یا منتخب احادیث کی تعلیم میں شریک نہیں ہوتےاور ان کی جگہ پر چلہ لگائے ہوئے جاہل منبر پر بیٹھ کر، قرآن وحدیث سے قطع نظر بے سند باتیں سناتے نظر آتے ہیں۔ ابھی دوسالوں سے ایسی مسجدوں میں ان فتنوں کا اضافہ ہوگیا ہے اور وجہ یہ ہے کہ امام صاحب تبلیغ کے کس دھڑے کو حق مانتے ہیں، اگر مرکز نظام الدین سے تعلق ہے؛ تو اچھا، ورنہ باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ گھر میں افراد خانہ پریشان اور مسجد میں ہمارے پیشوا پریشان۔
ہماری یہ صورت حال ہے کہ ہمارے گھروں اور مسجدوں کے رنگ وروغن میں سالانہ لاکھوں روپے فضول خرچ کردیے جاتے ہیں؛ لیکن بیچارے امام ومؤذن ہیں کہ وہ سکونت کے قابل ایک گھر کی خواہش میں زندگی کھپا دیتے ہیں۔ اگر کوئی امام خارجی آمدنی کے لیے چھوٹا موٹا اپنا کوئی کاروبار شروع کرتا ہے؛ تو اس کو امامت کا مستحق نہیں سمجھا جاتا یا پھر اس کی تنخواہ کا اضافہ روک دیا جاتا ہے۔ اگر اللہ کا کوئی نیک بندہ امام ومؤذن کی تنخواہ میں اضافہ کی بات کرتا ہے؛ تو اللہ پر توکل اور بھروسہ کا حوالہ دے کر اس کو خاموش کردیا جاتا ہے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہےکہ ایک مشہور مدرسہ میں ایک نیک دل صدر مدرس تھے۔ اس وقت میر شریعت رابع حضرت مولانا سید محمد منت اللہ رحمانی صاحب –رحمہ اللہ– اس مدرسہ کےسرپرست تھے۔ میٹنگ میں کچھ اراکین نے اس خاموش مزاج، نیک دل، خدا ترس اور متقی وپرہیزگار صدر مدرس کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی کے ایک فعال رکن تھے (جو ماساٹر تھے اب انتقال کرگئے، اللہ مغفرت کرے) نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ قاری صاحب (صدر مدرس) کے پیسے میں بہت برکت ہوتی ہے۔ اس رکن کے اس جواب پر حضرت امیر شریعت نے جواب دیا کہ ماسٹر صاحب آپ کا یقین بہت پختہ ہے۔ آپ آج سے یہ کریں کہ اپنی تنخواہ لاکر قاری صاحب کو دے دیا کریں اور ان کی برکت والی تنخواہ آپ لے لیا کریں۔ بس ماسٹر صاحب خاموش ہوگئے۔ تو آج ہماری یہ سوچ ہوگئی ہے اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ امام ومؤذن انسان ہی نہیں، ان کو دنیا کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
آج نوبت بایں جا رسید کہ کچھ لوگ اماموں کو ہڑتال پر جانے کی دعوت دے رہے ہیں، یعنی اتنا بابرکت اور اہم عہدہ بھی مسجد کمیٹی کے ظلم وبربریت کا شکار ہوکر ذلیل ہونے جارہاہے۔ اللہ رحم وکرم کا معاملہ فرمائے اور مساجد کے نادان ذمےداران کو توفیق دے کہ وہ امام ومؤذن کی ضروریات کو سمجھ سکیں!
راقم الحروف مسجد کمیٹی سے گزارش کرتا ہے کہ امام ہمارے پیشوا ہیں۔ وہ ممبر رسول کے وارث ہیں۔ وہ محراب رسول کے امین ہیں؛ اس لیے جس طرح ہم اپنی ضروریات کا خیال کرتے ہیں، ان کا بھی خیال کریں؛ بلکہ جس طرح نماز میں امام کو اپنے سے آگے رکھتے ہیں، اسی طرح دنیاوی آسائش میں بھی، ہم ان کو مقدم رکھیں۔ ساتھ ہی ساتھ مصلیوں سے یہ بندہ یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ کمیٹی میں ایسے افراد کا انتخاب نہ کریں، جو امام ومؤذن کی ضروریات کا خیال نہ کرے، جو رحم دل نہ ہو، نماز کی پابندی نہ کرتا ہو، زکاۃ کا اہتمام نہ کرتا ہو؛ کیوں کہ جو اللہ کا اور فقراء کا حق ادا نہ کرے، وہ امام ومؤذن کا حق خاک ادا کرے گا۔ یہ ہمیشہ یاد رہنا چاہیے کہ ظالم اور اس کی مدد کرنے والا ایک دن مٹ کر رہے گا۔

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ