سیمی واگھمن ٹریننگ کیمپ معاملہ:دہشت گردی کے الزامات سے 17 مسلم نوجوان باعزت بری

ممبئی ،14۔ مئی:دسمبر2007 میں کیرالا کے واگھمن نامی علاقے میں ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کے مقصد سے مبینہ خفیہ میٹنگ کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار 35 مسلم نوجوانوں کے خلاف قائم مقدمہ کا آج فیصلہ آیا جس کے دوران عدالت نے 17 مسلم ملزمین کو دہشت گردی سمیت غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات سے بری کردیا۔
یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ کیرالا کے ارناکلم نامی مقام پر قائم خصوصی عدالت نے ایک جانب جہاں 17 مسلم نوجوانوں کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا وہیں 18 ملزمین کو قصور وار قراردیا اور ان کی سزاؤں کا تعین آئندہ چند روز میں کردیا جائے گا ۔
گلزاراحمد اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے بتایا کہNIA عدالت کے خصوصی جج ایدوپاکوثر کے روبرو معاملے کی سماعت جاری تھی مقدمہ کے دوران 77 سرکاری گوہان استغاثہ اور 3 گواہان دفاع سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے ایڈوکیٹ وی وی راگھوناتھ اور ایڈوکیٹ کے پی شریف نے جرح کی تھی گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ ان تمام 35 ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 122-153A,124,A,120,B اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانون کی دفعات 3,5,10,13 نیز آرمس ایکٹ کی دفعات 25,27 کے تحت NIA پولس اسٹیشن دہلی نے مقدمہ قائم کیا تھا اور معاملے کی تحقیقات شروع کی تھی اور ملک کے مختلف شہروں سے 35 مسلم نوجوانو ں کو گرفتار کیا تھا اور ان پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ سیمی کے رکن ہیں اور ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی سازش رچ رہے تھے اور اس لیئے انہوں نے واگھمن میں ایک خفیہ کیمپ کا انعقاد کیا تھا ۔
خصوصی عدالت سے باعزت بری کیئے گئے ملزمین میں عثمان ،محمد علی محرم علی ،کامران حاجی صاحب صدیقی ،محمد یاسین عبد ل خان ،محمد آصف محمد قادر ، حبیب فلاحی ،محمد ساجد منصوری ،غیاث الدین عبد السلیم انصاری ،زاہد قطب الدین شیخ ،عارف کاغذی، محمد اسماعیل محمد اسحاق ،عمران ابراہیم شیخ ،قیام الدین شرف الدین ،یونس ،جاوید احمد شیخ ،محمد عرفان منصوری ،نذیر پٹیل،شامل ہیں۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد گلزار اعظمی نے کہا کہ مکمل فیصلہ آنے کے بعد وکلاء سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا ۔
نیزگلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں گرفتار بیشتر ملزمین احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ کا سامنا کررہے ہیں اور انہیں امید ہیکہ انہیں عدالت سے وہاں سے بھی انصاف ملے گا ، جمعیۃ علماء احمد آباد مقدمہ میں بھی ملزمین کو قانونی امداد فراہم کررہی ہے ۔
صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کو جب فیصلہ کے تعلق سے آگاہ کیاگیا توآپ نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ بڑی کامیابی ہے اور 8 سال بعد ہی صحیح ملزمین کو انصاف ملا ہے اور امید ہے کہ انشاء اللہ بقیہ ملزمین کے حق میں بھی کم سے کم سزاؤں کا تعین ہوگا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ