کھٹوعہ آبروریزی معاملہ: بیان کوبدلنے کےلئے پولیس نے گواہوں پربنایادباﺅ

نئی دہلی، 14مئی : جموں کشمیر کے کٹھوعہ گینگ ریپ میں 8سال کی بچی کی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں ساہل شرما سمیت تین گواہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کر سیکورٹی کی مانگ کی ہے۔ سپریم کورٹ جلد ہی سماعت کے لئے تیار ہو گیا ہے ۔عدالت بدھ کو اس معاملے میں سماعت کرے گا ۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت سینٹرل سیکورٹی فورس کی حفاظت ان کو فراہم کرائی جائے ۔ درخواست میں یہ مانگ کی گئی ہے کہ معاملے کی جانچ آزاد ایجنسی سے کرائی جائے ۔ ملزم وشال کے ساتھ یہ تینوں طالب علم پڑھنے والے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس پر ان تینوں طالب علمو ں نے تشدد کا الزام لگایا ہے۔عرضی میں بیان کو بدلنے کے لئے جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے دباو بنانے کا الزام لگایا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تینوں درخواست گزاروں کو 50 لاکھ روپے کا معاوضہ ریاستی حکومت دے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ جموں وکشمیر کرائم برانچ کو حکم دے کہ وہ انہیں کسی طرح سے نقصان نہ پہنچائے۔اس سے پہلے سپریم کورٹ نے اس معاملے کو ریاست سے باہر پٹھان کوٹ میں ٹرانسفر کر دیا تھا اور معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کروانے سے انکار کر دیا تھا۔معاملے کی سماعت کو ٹرانسفر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھافئیر (Fair) اور فیئر (Fear) ایک ساتھ وجود میں نہیں رہ سکتے اور فیئر ٹرائل کا مطلب سپیڈ ٹرائل بھی ہے لہذا مقدمے کی سماعت ‘ڈی ٹو ڈے یعنی روزانہ ہوگی ۔ جس میں سماعت کو ٹھکرایا نہیں جائے گا سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مقدمہ اندرونی ہوگا اور سپریم کورٹ مقدمے کی سماعت کی نگرانی کرے گی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تمام بیانات انگریزی میں ترجمہ کیے جائیں گے اور آزمائشی رنبیر پنل کوڈ کی بنیاد پر چلے گا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ