جناح بھی عدم تحمل و برداشت کے شکار؟

راجیو دیشپانڈے
ترجمہ و تلخیص:
ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر
رابطہ:9890245367

1999ءفروری میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے مینارِ پاکستان لاہور میں منعقدہ جلسہ کے وقت چند کلمات لکھے تھے جس میں انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان سے منقسم ہوکر 1947ءمیں ایک اسلامک اسٹیٹ وجود میں آئی ہے۔ اس پیغام کے ذریعے انہوں نے اکھنڈ بھارت کی تقسیم کا وضاحت کے ساتھ بغیر کسی ابہام کے تسلیم کیا ہے کہ کس طرح یہ جو تصور سندھ سے آسام تک ایک قوم والا وہ صرف تصور ہی ہے۔
واجپائی کے مطابق پاکستان ایک مضبوط او رمستحکم ہونا وہ ہندوستان کے حق میں بھی ضروری ہے۔ اس طرح گھڑی کی سوئیاں اب پھر سے الٹی چلائی جارہی ہے۔ اب ان حالات کا انعکاس یہاں ہورہا ہے کہ آیا ہم وہ ریڈ کلف نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خط کھینچ دی تھی اور ہم اپنی پسند کے مطابق تقسیم کو تسلیم کئے تھے اور اس عہد کے ساتھ ہم اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے ملکوں کی تقدیر آزادانہ طور پر بنائیںگے۔
اگر گفت و شنید کے مواقع ختم بھی ہوتے ہیں جیسا کہ جمعیت اسلامی کے ماننے والوں نے کہا کہ اب اس سے انحراف ہوچکا ہے اور مسلم لیگ کے مسلم والوں نے بھی جناح کو ان تمام امور کا ذمہ دار قرار دیا جو 1913ءسے لیکر پاکستان کے وجود تک عمل میں آئے ہیں۔ اور اس واقعہ کے بعد تقسیم کی وجہ سے تقریباً 15 ملین افراد کی منتقلی اور کئی ملین کا قتل ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ کس طرح اس تقسیم کے سایہ کو بار بار مستقبل قریب میں بھی دوہرایا جائے گا۔
حالیہ دنوں بی جے پی سے متعلق اے بی وی پی تنظیم جس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کے پورٹریٹ کی بنیاد پر احتجاج کھڑا کیا ہے۔ جو اسٹوڈنٹ یونین کے دفتر میں لگی ہوئی ہے۔ اس طرح اس معاملے کو پھر سے دوبارہ ہمعصروں میں لایا گیاہے۔ اس طرح جناح کو بھی عدم تحمل و برداشت کا جدید ترین شکار بنایا گیا ہے۔ جبکہ بال گنگادھر تلک جو محب وطن قوم پرست تھے جن کے خلاف انگریزوں نے بغاوت کا مقدمہ کیا تھا۔ کیونکہ وہ دلیری کے ساتھ برٹش حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ جس کی بناءپر جو مقدمہ کیا گیا تھا اس میں جناح بال گنگادھر تلک کے وکیل تھے۔ اس طرح فرقہ پرستی کی بنیاد پر اس جدید عدم تحمل و برداشت کا شکار ہوئے۔ جبکہ انہوں نے بال گنگا دھر تلک کے مقدمہ میں ان کی پیروی کی تھی۔ لیکن اس احتجاج کے درمیان ہونے والے غنڈہ ازم کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ اس موضوع میں گفتگو بھی کی جاسکتی تھی۔
تقسیم کی حقیقت ایک واقعہ ہے اس لئے جناح کے نظریات کو پاکستان کا قبول کرنا ایک حقیقت ہے لیکن ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ دو قومی نظریوں کے ذریعے انہوں نے ہندو مسلمان کو علیحدہ کیا اور جس کے ذریعے قتل و خون اور غارت گیری ہوئی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ڈائریکٹ ایکشن جو 16 اگست 1947ءکو دیا گیا تھا جس میں ہزاروں لوگوں کی کلکتہ میں موت ہوئی۔ نواکھالی کے فسادات اس سے کہیں زیادہ ہوئے۔ اور اس طریقے سے بدحال تشدد رونما ہوا۔
اس وقت کے اخبار اسٹیس من امرت بازار پتریکا کے ذریعے ہونے والے واقعات کا پتہ چلتا ہے کہ کس طریقے سے وہاں کے ریلیف کمیٹی نے فسادات سے بچنے والے لوگوں ظلم و تشدد کی وجہ سے باقی رہ گئے ان کا جو کچھ بھی حال ہوا ہے اس تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔ جس کے اثرات بہار میں بھی پڑے۔ لیکن جناح اور ان کے ایک ساتھی اس ہونے والے تلافیوں کی ذمہ داری کو قبول بھی کیا۔
ایسا سمجھا جاتا ہے کہ جناح کو ہندو انڈیا کے خوف کی وجہ سے یہ سب سوچنا پڑا۔ دوسری طرف ان کے اختلافات جو جواہر لال نہرو اور گاندھی جی سے تھے وہ بھی ایک وجہ مانی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بھی ان کے بارے میں کم معلومات ہے کہ ہندوستان کو کس نے تقسیم کیا۔ جناح ایک مغرب زدہ شخصیت تھی جنہوں نے سیکولر اسٹیٹ کا جو تصور دیا تھاجو ضیاءالحق نے بعد ازاں اس کا جزوی استعمال نہ کرتے ہوئے مذہبی ریاست کے لئے کارروائی کی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کس طرح مسلم لیگ کے قائد حسین شہید سہروری جو کلکتہ کے تشدد کا ذریعہ بنے۔ جنہیں بعد ازاں مختصر سے عرصہ میں ہی عہدہ سے ہٹابھی دیا گیا۔
یہاں یہ بات جناح کے پورٹریت کی جو علی گڑھ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین ہال میں لگی ہے وہ اس وقت اتنی متعلق نہیں ہے، جو ماضی کا ایک واقعہ ہے۔ اس پورٹریٹ سے یہ حقیقت تبدیل نہیںہوسکتی کہ دونوں ریاستیں ایک الگ قوم ہے۔ مخالف جناح لوگوں کا یہ ہنگامہ، شور و غوغہ کی وجہ سے جلد ہی ختم ہوجائے گا۔ لیکن اس چیخ پکار کی وجہ سے دانشوروں میں جناح کی شہرت اور سیاسی منظرنامہ پر سارے حالات پھر سامنے آگئے۔ اور اس طرح اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے جو لوگ کسی نظریہ سے مطابقت نہیں رکھتے ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ تاریخی واقعات میں دخل اندازی کرے اور تبدیل کرے جہیں شائستہ یا پاکستان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ یہ سیاسی شناخت کے قائم کے لئے ایک کوشش قرار دی جاسکتی ہے۔
جناح کو مسلم لیگ کی موافقت میں اگر ان کی زندگی پر غور کیا جائے ماضی میں ان کی شادی ایک پارسی سے ہوئی تھی کہ کس طرح سویت ڈکٹیٹر جوزف اسٹالن نے بھی اپنی زندگی میں کیا تھا۔ جیسا کہ بائیں بازو والے اس کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ ایک عظیم شخصیت تھی۔ تاریخی شخصیتوں کو آج ان کے سیاہ و سپید کے بارے میں تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔ تقسیم کی ظلم و تشدد اور مقابلہ اس خوفناک ماضی اور کمیونسٹوں کے ظلم و ستم سے نہیں کیا جاسکتا۔
جناح کے بارے میں بحث اس وقت کوئی تحقیقی نہیں ہے لیکن یہ سیاست کو پولورائز کرنا کہ بی جے پی بنام اس کی مخالف والے تخیلات یہ اس بات کا مظہر ہے اور اس سے اس بات کی بھی گونج ہوسکتی ہے کہ کس طرح مشہور قوت مشاہدہ رکھنے والی طاقتوں کو مرتکز کرتے ہوئے بائیں بازو اور اسلام کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جاسکے۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)
آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ