علی گڑھ میں غنڈہ بریگیڈ کے ساتھ سختی سے مقابلہ کرنا چاہئے

سوامی ناتھن انکلیش ریا ایّر
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر
(9890245367)

2مئی کو ہندو واہنی نے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حملہ کیا ہے جو محمد علی جناح کی پورٹریٹ کے بارے تھا جو ایک ہال میں لگی ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے مباحثہ ایک غلط سمت میں شروع ہوا۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ جناح خطرناک تھا یہ ہمارے لئے قابل قبول ہے بلکہ کیا اس شخصیت کی تصویر کسی یونیورسٹی میں لگائی جائے جہاں ہم اسے ناپسند کرتے ہیں۔
اس بات کو بھول جایئے کہ جناح کے پورٹریٹ کے بارے میں کیا اچھائی، کیا برائی ہے۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کس طرح سوچتے ہیں۔ لیکن آپ کی یہ سوچ اب ہر کسی شہری کے اوپر لاد نہیں سکتے۔ جو کسی پورٹریٹ کے بارے میں ہو، جسے وہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں لگائے یا ادارے میں لگائے۔ آپ اس سے اتفاق کرتے ہو یا نہ بھی کرتے ہو۔ جبکہ اس کا یہ عمل بالکلیہ قانون کے دائرے میں ہے۔
میں لینن اسٹالن اور ماﺅ کو بھی عوامی قتل و غارت گیری کے لئے ذمہ دار سمجھتا ہوں اور ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کمیونسٹ پارٹی کے آفس میں جاکر مارپیٹ کروں اور اس بات کا مطالبہ کروں کہ ان قاتلوں کی تصویر کو وہاں سے کیوں نہیں ہٹاتے؟ بالکل نہیں، مجھے اس بات کا اختیار ہے، میں پُرامن طریقہ سے احتجاج کروں۔ لیکن میں تشدد کا استعمال نہیں کرسکتا۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اسٹالن لینن پرتشدد تھے یا ہمارے لئے قابل قبول ہے۔ لیکن یا مجھے اس بات کا اختیار ہے کہ میں اپنے حقوق کو اپنے دیگر شہری بھائیوں پر بھی لادوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اندرا گاندھی بھی خطرناک شخصیت تھیں۔ جس نے غیر جمہوری طور پر ایمرجنسی کا نفاذ ہندوستان میں کیا۔ میرا یہ بھی سوچنا ہے کہ وی وی ساورکر کی شخصیت بھی خطرناک تھی، جس نے ہندوتوا کا ویژن انڈیا میں دیا۔ جو تقسیم و تشدد پر اکساتا ہے۔ کیا مجھے تمام باتیں اس بات کا استحقاق دیتی ہے کہ میں کانگریس یا بی جے پی کے آفس میں گھس کر اس بات کا مطالبہ کروں کہ ان دونوں کی تصویریں باہر نکالی جائیں؟ بالکل نہیں۔ اصل مسئلہ یہاں یہ ہے کہ ان کی اچھائی اور برائی کو دیکھا نہیں جارہا ہے اندرا گاندھی اور ساورکر کیا تھے، لیکن میرا یہ کام ہے کہ میں ایک امن پسند شہری ہوں۔
یہ بالکلیہ طور پر کسی کا حق ہے وہ جس کا چاہے اس کا پورٹریٹلگالے۔ لیکن برخلاف اس کے کہ یہ بالکل غیر قانونی بات ہے کہ ہم کسی پر حملہ کرے، حالات بگاڑے اور اس کے ممبروں کو زدوکوب کرے۔ کلیدی طور پر نفس معاملہ جناح کے پورٹریٹ کا نہیں ہے۔ کیا ریاستی حکومت اس غنڈہ بریگیڈ کے خلاف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں ان کی پشت پناہی کرتی ہے، یا ان کو دیکھ کر مسکراتی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ پر حملے کے بعد جب لوگ ایف آئی آر داخل کرنے کے لئے پولیس اسٹیشن گئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ مجرمین کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا۔ جس میں سے 28 کو زخموں کی وجہ سے دواخانہ لے جانا پڑا۔ افسوس ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس جن پر حملہ ہوا ہے ان کے بجائے حملہ کرنے والوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔ دو ہندوتوا جہد کاروں کو یقینا گرفتار کیا گیا ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے لیکن دیگر لوگوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا اور وہ اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر انہیں بی جے پی محبت وطن و ہیرو سمجھتی ہے نہ کہ مجرم۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ آج بھی احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جائے اور جوڈیشیل انکوائری بھی کی جائے۔ یونیورسٹی کے حکام اور لوکل ایڈمنسٹریشن کے حکام کی یہ ذمہ داری ہے کہ حالات کو قابو میں لائیں۔طلبہ کا احتجاج پُرامن اور حوصلے پر مبنی تھا۔ تقریباً ایک تہائی طلبہ مسلم یونیورسٹی کے ہندو طلبہ کی تعداد پر مشتمل ہے جو سبھی اس ایجی ٹیشن میں طلبہ کے ساتھ شامل تھے۔ اس مرحلہ پر ان کو انکار کرنا چاہئے تھا کہ کس طرح جناح کے پورٹریٹ وہاں لگائی جاسکتی ہے۔ لیکن انہوں نے اس وقت بنیادی مسئلہ پر یہ غور کیا کہ کس طریقے سے حملہ ہوا ہے۔
کالم نگار آکار پٹیل نے اپنے کالم میں لکھا کہ تقسیمکی وجہ جناح کم تھے مقابلةً کانگریس کے، جو مسلمانوں اور مسلم لیگ کو ان کا مستحقہ مقام دینا نہیں چاہتی تھی۔ اس لئے لیگ نے مطالبہ کیا تھا مسلمانوں کی علیحدہ نشستیں اور الیکٹرول کالج قائم رکھیں۔ دوسرا کالم نگار اجئے کمار کہتا ہے کہ جناح آزادی کی تحریک کے قائد ہیں۔ جنہوں نے کامیابی کے ساتھ بال گنگا تلک کا عدالت میں دفاع بھی کیا۔ کمار کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ جناح کی تصویر گاندھی جی اور امبیڈکر کے ساتھ بمبئی ہائیکورٹ کی میوزم میں لگی ہوئی ہے جس کا افتتاح دوسرا اور کوئی نہیں بلکہ خود نریندر مودی نے بغیر کسی اعتراض کے کیا ہے۔
سوشل میڈیا اب اس وقت بھرپور طریقہ سے بی جے پی کے آواز کی نمائندگی کرتا ہے کس طرح جناح کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ بی جے پی کے صدر امیت شا نے کانگریس کے لیڈر منی شنکر ایر پر اس لئے تنقید کی کہ انہوں نے جناح کو قائد اعظم کہا۔ جبکہ منی شنکر ایر نے اس کے جواب میں ایک لمبی فہرست اور ان تمام مواقع کا ذکر کیا جس میں گاندھی جی نے خود جناح کو قائد اعظم کہہ کر مخاطب کیا۔ جس کے لئے انہوں نے گاندھی جی کو تمام خطوط جو جناح کو لکھے گئے تھے جس کا آغاز قائد اعظم سے ہوتا ہے۔ کیا کوئی گاندھی جی کو اینٹی نیشنل قرار دے گا؟ کوئی بھی سیاسی بحث و مباحثہ یا شہریان جو سیاسی پارٹی کی ترجمانی کرتے ہیں اور نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں تو کیا دشمن کہلائیں گے۔ ان تمام باتوں سے ایک دلچسپ مباحثہ شروع ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی اتنی ہی صحیح ہے کہ بنیادی طور پر پائی جانے والی غنڈہ گردی سے توجہ ہٹانے کے لئے ان کے خلاف تعزیری کارروائی کرکے سزا دلانا چاہئے، خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا دیگر پارٹی سے جڑے ہوئے ہوں یا نہ ہو۔
بی جے پی اکیلی پارٹی نہیں ہے جو غنڈوں کا استعمال کرتی ہے، دیگر پارٹیوں کے پاس بھی غنڈے ہیں لیکن جس طرح رولنگ پارٹی جس طرح دہلی اور لکھنو میں ہے اس کے لئے بی جے پی کی خصوصی ذمہ دار ہے۔ مودی صرف ہندتوا کی وجہ سے اقتدار میں نہیں آئے ہیں بلکہ انہوں نے بہتر و نظم و نسق اور کم حکمرانیت کی بات کی تھی۔یعنی وہ رہزنی و بدمعاشی کے خلاف تھے۔ لیکن اب ایسا دیکھا جارہا ہے کہ وہ ٹھگوں کے گاڈ فادر اور زیادہ ہیں جبکہ وہ اپنے افسانوی شخصیت کے احساسات او رتخلات کو تیزی سے کھورہے ہیں۔

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ