فلسطینی شہدا کے لیے ترکی میں 3 روزہ سوگ کا اعلان

ترکی اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کرنے کا اعلان،اسرائیل ایک دہشت گرد مملکت ہے: اردگان

انقرہ،15۔مئی ،ہ س:نائب وزیر اعظم و حکومتی ترجمان بیکر بوزداع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کیے جانے کے دوران قتل و عام کردہ فلسطینیوں کے لیے تین روزہ سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کابینہ کے اجلاس کے بعد اعلانات کرنے والے بیکر بوزداع نے کہا کہ “فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور شہدا کے احترام میں ترکی میں تین روزہ سوگ منایا جائیگا۔ ”
بوزداع کا کہنا ہے کہ ترک قومی اسمبلی میں القدس کے حوالے سے ایک خصوصی نشست کا بھی اہتمام کیا جائیگا، جبکہ ترکی کے امریکہ اور اسرائیل میں سفیروں کو صلاح مشورے کے لیے انقرہ طلب کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا ہے کہ ترکی اسلامی تعاون تنظیم کا بروز جمعہ ہنگامی اجلاس بھی طلب کرے گا۔
دورے پر موجود اردگان نے یہاں پر ترک طلباو طالبات سے خطاب کیا۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والے نہتے درجنوں فلسطینیوں کو شہید کیے جانے پر ردِ عمل کا مظاہرہ کرنے والے صدرِ ترکی نے کہا کہ “حکومت ِ اسرائیل دہشت گردی کر رہی ہے، اسرائیل ایک دہشت گرد مملکت ہے، ترکی فلسطینی بھائیوں کا ساتھ دینے کے عمل کو پرعزم طریقے سے جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ “اسرائیل نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے، یہ انسانی المیہ، نسل کشی چاہے کسی کی بھی طرف سے کیوں نہ کی گئی ہو میں اس کے ذمہ داروں پر لعنت بھیجتا ہوں۔
ادھر وزیراعظم بن علی یلدرم نے امریکہ کی جانب سے اپنے سفارت خانے کو القدس منتقل کرنے کے دوران بڑی تعداد میں فلسطینی باشندوں کی شہادت پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہا کرتے ہوئے اسےبزدلانہ قتلِ عام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ” امریکہ اپنے سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر القدس میں جشن منا رہا ہے۔
فلسطینی باشندوں کو اپنے حقوق ، آزادی اور مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروانے اور اپنی فریاد دنیا تک پہنچانے کے لیے مظاہرہ کرنے والے معصوم انسانوں پر اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے گولیاں برساتے ہوئے شہید کیا جا نے اور زخمی کیے جانے کے واقعات کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔اسرائیل یہ سب کچھ فلسطین مملکت کے وجود سے انکار کرتے ہوئے کررہا ہے۔ بدقسمتی سے امریکہ اسرائیل کے اس وحشیانہ حملوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کی پشت پناہی کررہا ہے۔ہم ترکی ہونے کے ناتے امریکہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس فیصلے کو کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے بلکہ یہ فیصلہ ہمارے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ علاقے میں مزید مسائل کو فروغ دینے کا باعث بنے گا۔ علاقے میں امریکہ کے اس فیصلے سے علاقے میں امن کے قیام کی راہ میں مزید رکاوٹیں حائل ہو جائیں گی۔ ترکی ہونے کے ناتے ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کی آزادی تک ان کا مکمل ساتھ دیتے رہیں گے۔دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ” اسرائیلی حکومت کے فلسطینیوں پر مظالم اور ان کی نسل کشی پر چپ سادھنے والوں پر لعنت و ملامت بھیجتا ہوں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com