نوجوت سنگھ سدھو کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت

غیر ارادتاً قتل معاملے میں بری، دفعہ323کے تحت محض ایک ہزار روپے کا جرمانہ، وزارت برقرار

نئی دہلی،15۔مئی ، ہ س:نوجوت سنگھ سدھو کو غیر ارادتاً قتل معاملے میں سپریم کورٹ نے بری کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نوجوت سنگھ سدھو پر دفعہ323کا مجرم پایا ہے اور ان پر ایک ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے شریک ملزم روپیندر سنگھ سدھو کو بھی بری کردیا ہے۔
جسٹس جستی چیلمیشور اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے 30 سال پرانے اس معاملہ میں اپنا فیصلہ سنایا اور مسٹر سدھو کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 304 کے تحت غیر ارادتاً قتل کے معاملہ میں بری کر دیا۔ کورٹ نے حالانکہ انہیں دفعہ 323 (چوٹ پہنچانے) کا مجرم ٹھہرایا اور اس کے لئے صرف ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ مسٹر سدھو کے دوست روپندر سنگھ سندھو کو دونوں ہی دفعات میں بری کر دیا گیا ہے۔بنچ نے گذشتہ 18 اپریل کو اس معاملہ میں تمام متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔سماعت کے دوران مسٹر سدھو کی جانب سے پیش وکیل آر ایس چیمہ نے پنجاب حکومت کے وکیل کی طرف سے مسٹر سدھو کو قتل کا مجرم بتائے جانے پر احتجاج کیا تھا۔اس معاملہ میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے سابق کرکٹر کو تین سال کی سزا سنائی تھی جس کے بعد سدھو نے سزا کے خلاف عدالت میں اپیل کی تھی۔ گزشتہ 12 اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران سدھو کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا تھا، جب ریاستی حکومت نے سابق کرکٹر کو روڈرج کے معاملہ میں مجرم قرار دیا تھا۔پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا تھا کہ 2006 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے مسٹر سدھو کو ملی سزا کو برقرار رکھا جائے۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں شامل نہیں ہونے کا مسٹر سدھو کا بیان جھوٹا تھا۔خیال رہے 1988 میں مسٹر سدھو کا پٹیالہ میں کار سے جاتے وقت گرنام سنگھ نامی بزرگ شخص سے جھگڑا ہوا تھا۔ الزام ہے کہ ان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور بعد میں گرنام سنگھ کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس نے مسٹر سدھو اور ان کے دوست روپندر سنگھ سندھو کے خلاف غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا۔ بعد میں نچلی عدالت نے مسٹر سدھو کو بری کر دیا تھا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ