ہاں میں ہندوستان ہوں

 ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر
(9890245367)

ہندوستان کوئی جھیل، پہاڑ، دریا، گھاٹی ، وادی ، صحرا کا نام نہیں بلکہ یہاں کے رہنے بسنے والوں سے مل کر ہندوستان بنتا ہے۔ جس میں دراوڑی نے آریاﺅں کو جذب کیا۔ منگولوں، مغلوں و دیگر عالم اقوام سے ہندوستان ہم آہنگ ہوا۔ اوران تمام نے مجھے عہد زرین سے مالامال کیا۔ میری تزئین و آرائش کی اور یہیں دفن ہوکر رہے۔ ماضی قریب میں یعنی آزادی سے قبل تک میرے چاہنے والے گوکہ مختلف رجواڑوں، سلطنتوں میں بٹے ہوئے تھے لیکن ہندوستانی عوام خواہ وہ کشمیر کے راجہ ہری سنگھ ٹھاکر مسلم اکثریتی علاقہ میں برسوں دلوں پر حکمرانی کی اسی طرح جنوب میں ہندوﺅں کی اکثریت والی ریاست حیدرآباد میں مسلم راجاﺅں نے سات سو برس حکمرانی کی اور اس طرح ہندو مسلم اتحاد اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب سے مجھے ساری دنیا میں ممیز و ممتاز کیا۔دستور سازوں نے آزادی کے بعد مجھے متحدہ طور پر ایک یونٹ ملک کی حیثیت سے صدیوں بعد ایک قوم کی حیثیت دی۔ جس سے میں پھولا نہ سماتا تھا۔ اس لئے کہ آزادی کے جیالوں نے میری قدیم روایت رواداری، بھائی چارگی، ہم آہنگی کے اعلیٰ اقدار کو قائم رکھا۔ یہ تو ایک نادر مثال ہے کہ حکومت حیدرآباد کے انضمام کے باوجود حکمران وقت کو اعزاز و اکرام کے ساتھ راج پرمُکھ کی حیثیت سے برقرار رکھا اور منتخبہ حکومت کے وجود میں آنے تک عبوری طور پر اس کی سربراہی کو قائم بھی رکھا۔ اسی طرح کشمیری راجہ نے بھی عوام کی مرضی کا لحاظ رکھ کر ان کی خواہشات کا احترام کیا۔ یہ روایت صدیوں سے مجھ میں رچی بسی ہوئی ہے کہ یہاں کے عوام میں صبر و تحمل، برداشت، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے،گنگا جمنی ہندوستانی تہذیب، مختلف زبان، مذہب کے باوجود ساری دنیا میں ہندوستانی تہذیب کی منفرد مثال ہے۔ جس کا میں نگہبان ہوں۔
میری تاریخی حیثیت ، روایت، بھائی چارگی، رواداری کو میرے دستور سازوں نے محفوظ ومامون رکھا۔اس کمیٹی میں ہر ذات،مذہب، زبان کے لوگ تھے۔ مجھے ان تمام پر فخر ہے کہ انہوں نے اختلاف رائے کو ملکی مفاد میں جس برادرانہ طرز عمل سے میری سالمیت اور مخصوص تہذیب کی روح کو قائم رکھا۔ کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک مختلف رنگ، نسل، مذہب، عقیدے کہ باوجود متحدہ ہندوستان کو ثابت و سالم رکھا اور میری تاریخی حیثیت کو مجروح نہ ہونے دیا۔ گاندھی جی تلک کے ساتھ ساتھ سبھاش چندر بوس، علی برادران، خان عبدالغفار خان وغیرہ نے آزادی کی لڑائی میں اپنے ذاتی عقیدے و مسلک کو بالائے طاق رکھ کر ہندوستان کی آزادی کو فوقیت دی۔ یہ دور دنیا میں سب سے نرالا دور تھا۔ اور اسے برقرار رکھ کر یہاں کے ہر شہری کو رواداری، برابری، مساوات کی بنیاد پر دستور سازی کی۔ بلکہ اس سے قبل بھی میرے یہ اقدار بلالحاظ مذہب مجلسوں ، دنڈی یاترا ہو کہ کانفرنس، میرے انفرادیت کو سب ہی نے برقرار رکھا اور مجھے عزت و افتخار سے نوازا۔ تاریخ گواہ ہے کہ چاہنے والوں نے مجھے مضبوط و مستحکم کیا۔ کیونکہ میرا وجود خود یہاں کے عوام کی فلاح و بہبودی میں مضمر ہے۔ تاریخی اتار چڑھاﺅ کے باوجود میری زرخیز سے زیادہ مالامال میری منفرد ممتاز تہذیب ہے۔ اس پر ساری دنیا کے لوگ تعجب و حیرت سے آج تک دیکھتے ہیں۔ جبکہ دیگر کئی ممالک باوجود ایک زبان و تہذیب کے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔ وہاں کی تہذیب و نظریات کا تیا پانچا ہوگیا ہے۔ لیکن میرے چاہنے والوں نے میری خاطر اور دستور کے ذریعے ملک کی عظمت کو باندھ رکھا۔
دستور کی تعبیر و تشریح کرنے والا واحد ادارہ عدلیہ جو میرا نگران و محافظ ہے، برسوں سے ادارے کے بارے میں مشرق تا مغرب، شمال تا جنوب، عوام اس ادارہ پر اعتبار و بھروسہ کیا۔ اور اس کے احکامات حرف آخر سمجھ کر کسی بھی آفت و مصیبت کے وقت وہ ہمیشہ سے عدلیہ کے تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے۔ اور ماضی میں عدلیہ نے بھی میری روح کو برقرار رکھا۔ متعدد مرتبہ فیصلہ جات دیئے اور حتمی طور پر میری دستوری شکل و شبیہ کو برقرار رکھا۔ یعنی میری جو کثرت میں وحدت والی تہذیب جو دنیا کے سامنے ایک شاہکار ہے، جسے یہاں کے ماننے والوں نے اپنایا ہے۔ چونکہ یہی میری مٹی میں پائے جانے والی خصوصیت جو تحمل و برداشت اور ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کرنے کی منفرد صلاحیت میں مضمر ہے جسے نہ صرف سوامی وویکانند، گاندھی نہرو ہی نہیں بلکہ ابوالکلام آزاد، علی برادران نے بھی اسے اپنایا ہے۔
623 قبل مسیح میں گوتم بدھ کی جائے نروان کو میرے چاہنے والوں نے اسے وہی درجہ دیا اور قائم رکھا۔ جو کئی صدیوں کے بعد بھی آج قائم و دائم ہے۔
جین، سکھ، عیسائی، مسلم وغیرہ سب کے سب میرے لئے جزولاینفک ہے۔ حال ہی میں مجھے دستوری تحفظ دینے والے ادارہ نے جب بے چینی، عدم اعتماد نظر آنے لگا تو مجھ میں تشویش بڑھنے لگی کہ کہیں اس کے کہ کھیت کی باڑھ کھیت ہی کو نہ کھا جائے۔ میری عظیم روایت، بھائی چارگی، رواداری، گنگا جمنی تہذیب کہیں متاثر نہ ہوجائے اور مجھے شرمسار ہونے کی نوبت نہ آئے۔
مجھے 1990ءکے بعد ہونے والے غیر دستوری کارناموں کی وجہہ سے یہاں کے عوام کے زخموں پر مرہم لگانا ہے۔ تاکہ انہیں کوئی چھیڑ کر نمک نہ ڈالے۔ اس لئے میں پُرعزم اور پُرامید ہوں کہ ماضی کے خوفناک و خطرناک واقعات کااعادہ نہ ہو۔ اور میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنے عظیم روایت چند مشترکہ تہذیب کو قائم و دائم رکھ سکوں۔
میرا بھروسہ اور اعتماد عدالت عظمیٰ کے ان جیالوں ججوں کے فیصلوں پر ہیں جنہوں نے ہندوستان کو مسلمہ طور پر ایسی مملکت اور ملک قرار دیا ہے جہاں تمام مذاہب کو یکساں طور پر ان کے مذہب پر عمل کرنے اور پھلنے اور پھولنے کے مواقع کو منظور و قبول ہی نہیں کیا بلکہ اس پر عمل آوری بھی رہی۔ یہاں کی ممتاز صفت سرکار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ سیکولر اقدار پر سب کے جذبات و احساسات و خیالات کی پاسبان ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ماضی میں کبھی کسی دستوری عہدیدار نے کسی خاص مذہبی پروگرام میں اور مسجد و مندر یا گرجا ہو شرکت نہ کی۔ اور جب سرکاری حیثیت بھی نہیں تھی۔ کیونکہ مذہب کا معاملہ شخصی ہے، نہ کہ سرکاری۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ میں اینٹی گاڈ ہوں۔ مگر میرے چاہنے والوں نے مجھے اس بات کا افتخار دیا ہے کہ یہاں رہنے والے ہر شہری مکمل آزادی، مساوی حقوق، میرا اصل مقصد ہے۔ یہاں کے رہنے والوں کومذہب کی مساویانہ آزادی ہے۔ اس لئے اس عظیم نظریہ کی وجہہ سے یہاں کے رہنے والوں میں اتحاد و سالمیت پائی جاتی ہے۔ اور یہی میری خصوصی حیثیت کی شرط اوّل ہے۔ میری سوچ، اعلیٰ اقدار، کشادہ قلبی، وسیع النظری کی بنیاد پر ہی یہاں کے مسلم مشرقی و مغربی پاکستان کو میرے اس اعتماد و یقین کی بناءپر ہی منتقل نہ ہوکر مجھ پر اعتماد کیا۔ اور اسی مٹی سے جڑے رہے۔ مجھے ان پر بھی فخر ہے۔ ان کے اس اعتماد اور یقین کو اگر ٹھیس لگے تو میں بھی ٹوٹ پھوٹ جاﺅں گا۔ ان کی دوراندیشی و بصیرت افروزی اور میری محبت میں آج تک مجھ سے انہیں باندھ رکھا۔ جبکہ مذہب کے نام پر تقسیم ہونے والا ملک مزید تقسیم اس لئے ہوا کہ وہاں عدم مساوات اور غیر برابری کا سلوک رکھا گیا تھا۔ اور اس طرح ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی روش نے انہیں توڑ ڈالا۔ یہ حال ہی کی تاریخ ہے۔ اس سے ہمیں سبق سیکھنا ہے کہ ہم بھی یہاں رہنے والوں کو عزت نفس کی زندگی دے، انہیں احساس کمتری میں مبتلا کرکے انہیں غیر اہم نہ بنادے اور نہ ہی حاشیہ پر ڈال دے۔ اگر عزت و احترام میں برابری والا درجہ نہ ہو تو میری شکل وصورت جو آج قائم ہے جس پر مجھے ہی نہیں بلکہ یہاں کے رہنے والوں کے لئے میرا جو عالمی سطح پر عزت و افتخار کا مقام ہے وہ قائم رہے گا۔
یہ ہمارے مسلمہ اصول اب عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ہے کہ اگر غیر جمہوری طاقتوں کو پھلنے پھولنے کی اجازت دی جائے تو جمہوریت باقی نہ رہے گی۔ اس طرح سرکار کسی خاص، مذہب، یا علاقہ، ذات پات کی سرپرستی نہ کرے گی، وہ کسی مذہب کی موافقت میں ہوگی نہ مخالفت میں۔ اس حتمی فیصلہ کا اعلان ایس آر بومبائی کے مقدمہ میں جسٹس کے راما سوامی کے مطابق یہ منفصلہ ہے۔ اسی طرح جسٹس ساونت کے معرکة الآرا مذکورہ بالا مقدمہ کے دوران دئے گئے فیصلہ میں حتمی طور پر کہا ہے کہ سیکولرازم کے مقصد کے حصول کے لئے تاریخی روایت والی اقدار کو برقرار رکھ اسے قومی اتحاد و سالمیت کے لئے اپنایا ہے۔ نہ صرف یہاں بلکہ ہم عظیم روایت کے ذریعے عالمی برادری و انسانیت کے لئے عزم کا اظہار کیا ہوا ہے جو غیر متنازعہ فیہ فیصلہ ہے۔ اس طرح جسٹس سیتلواڑ نے بھی میرے تصور و نظریہ کی تائید و حمایت کی اور کہا کہ
“A concerted and earnest endeavour both by the state and citizen, towards the secularisation in accordance with the wide concept alone lead to the stablisation of our democratic state and the stablishment of one & cohessive indian nation hood”
جسٹس جیون ریڈی نے بھی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ
“While the citizens of countery are free to profess, practice and propogate such religion faith or beliefe as they choose. so far the state is concern ie from the point of view of state the religion faith of beliefe of person is immaterial between all are equel and all are entitle to be treated equelly”
جسٹس وینکٹ چلّیا نے میری انفرادیت و تشخص کی وضاحت کرتے ہوئے کثرت میں وحدت والے تصور کے بارے میں کہا ہے کہ
“secular polity law is perhaphs the greatest integirety force. a cultivated respect for law and its institutions symbols a pride in the country’ heritage and achivements faith the people live under protection and adaquate legal system are indispensable for sustaning of unity in plural diversity”
جسٹس وینکت چلّایا نے اپنے ایک پیپر میں سیکولرازم کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے میرے خیال سے قانون کی حکمرانی میں کثرت میں وحدت والی مملکت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ©
” The Purpose of law in plural society is not the progresive assimilation of minority in the majoraterian milieu this should not solve the problem, but would vainly seek to dissolve it”
میں 1992 ءکے بعد سے دیکھ رہا ہوں کہ Fundamentalist کے فسادات شروع ہوچکے۔ جس کی بنیاد پر وہ سولہویں صدی کی تعمیر کردہ مسجد کو بتاتے ہیں۔ جسے جنونیوں نے توڑا ہے۔ جن کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ اس لئے مرکزی حکومت نے 7 ستمبر 1992ءکو پھر سے فیصلہ لیا کہ منہدمہ اسٹرکچرکی دوبارہ تعمیر ہوگی، تاکہ نئے رام مندر سے متعلق کارروائی ہوسکے۔ ان ضمنی باتوں کا تذکرہ اس لئے کیا جارہا ہے مسلمہ طور پر 6 دسمبر 1992ءکے دن آزاد بھارت میں سیکولرازم کے لئے ایک سیاہ دن تھا۔ جس کے لئے حکمران اور اپوزیشن یکساں طو رپر ذمہ دار ہے۔
میرے چاہنے والوں نے میری سرحدوں کو ایران، افغانستان سے لے کر برما تک پھیلا دیا تھا۔ اس کے بعد جب واقعات و حالات ہوئے یعنی مغلیہ سلطنت کے آپسی خلفشار نے اسے سکیڑ کر محمد شاہ عالم اور دلی تا پالم بن کر رہ گئے تھے۔ جبکہ ماضی میں میرے سورماﺅں نے آزادی کے شیر میسور ٹیپوسلطان، سراج الدولہ سے لے کر بھگت سنگھ، منگل پانڈے اور اشفاق اللہ شہید نے اپنی جانیں قربان کیں۔ لیکن عدم اعتماد نے ملک کو تقسیم کرڈالا۔
آزادی کی بنیاد سیکولرازم اور جمہوریت نہ صرف ملک کے لئے بلکہ عالم انسانیت کے لئے بھی ہماری پالیسی تھی۔ جہاں کہیں بھی جمہوری طاقتیں آزادی کے لئے کوشاں رہتیں وہاں ہندوستان ان کی مدد کو پہنچتا۔ اس طرح میرا نام آزادی کے بعد ساری دنیا میں ایک تیسرے عالمی گروپ کی ناوابستہ تحریک کے سرخیل کے طور پر اُبھرا۔ اکیسویں صدی میں داخل ہونے سے قبل یہاں ہر حاکم خود کو ملک کا پالنہار سمجھنے لگا۔ اور خود کو میرا بھارت مہان کہنا شروع کیا۔ اس وقت مجھے ایسا لگتا کہ گاندھی جی خود عالم بالا سے پوچھتے پھر میرا بھارت کہاں ہے؟ غرض کہ ملک کی عظمت و روایت کو لوگ دھیرے دھیرے بھولتے گئے اور اس کے ذریعے خودنمائی، اپنی انتخابی صفت نے ملک میں سر اٹھاکر اسے ہر سیاسی پارٹی کے بعد نمبر ایک ایجنڈے کے طور پر رکھا۔ جبکہ دنیا کے دیگر ممالک مثلاً شمالی، جنوبی کوریا ایک جگہ آگئے۔ لیکن بھارت میں عدم مساوات خواہ و ہ حیثیت کی ہو یا معاشی، یہاں شمالی ہندوستان، جنوبی ہندوستان کی آواز اٹھنے لگی۔ اس بے چینی کے لئے معیشت کی نابرابر تقسیم محکمہ فائنانس و اس کے منسلک وزراءو عہدیداران ذمہ دار ہیں۔
دستوری اصولوں کے مغائر ذات، پات، علاقہ، مذہب کو بنیاد بناکر انتخاب میں سیاست دانوں دیدہ و دانستہ کسی ایک مخصوص گروپ سے منسلک و مذہب سے متعلق کرنے کی وجہہ سے موجودہ حکومت نہ صرف ہندوستانی دستور کے دیپاچہ میں دئے گئے سنہری اصولوں سے انحراف کیا ہے، جبکہ اس میں یہ بات شامل ہے کہ بنیادی دیپاچہ کے خلاف یہاں کے علاقائی حکومتیں ہوں یا مرکزی، غیر دستوری ہوںگی۔ جس کا اظہار عدالت عظمیٰ نے کیشونند بھارتی بنام اسٹیٹ آف کیرالا میں حتمی طور پر فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ :
Preamble of constitution and various articles herin and held that these provision, by implication, prohited the stablishment of a theocratic state and prevent the state from with identify it self with a faworing any perticular religion. the state was injoin to accord equall treatment to all religions.”
اور ہندوستان کے مستقبل کی تصویر اور اس کی صورت گیری کے لئے عدالت عظمیٰ نے دستور کی روح کے مطابق مذکورہ بالا فیصلہ کے علاوہ دیگر مقدمات میں اس امر کی قطعیت کی ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر جمہوریت والا ملک جسے اراکین دستور ساز اسمبلی نے نافذ کیا۔ عدالت عظمیٰ نے اس کی توثیق کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ :
How are the constitutional of social justice liberty of belief, races, caste wich neccesery means treatment to all other religions, faith or belief and worship and equellity of state and apporchunati apan unless the state is show the religion faith and belief of a person from its consideration all together while dealing with law, is right, is duties and is entitle?
Secularism is thus more than a passive attitude of religion, tolorance, it is a positive concept of equal treatment of all religions.
Any step incarensant with this constituted policy and plan words un considerations.
جب سرکار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، لیکن حکمران اپنی حلف برادری میں کسی ایک خاص مذہب، مذہبی رہنمائ، سادھوﺅں اور سنتوںکو مدعو کرے اور دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ فرد کو وزیر اعلیٰ بنائے تو اس کے اثرات و نتائج جو بھی ہوں گے وہ اس طرح ہیں مذہبی لوگوں کو دئے جانے والے اعزازی درجہ وغیرہ کے اعلانات، انعامات و اکرامات غیر دستوری ہی ہوں گے۔
ان تمام غیر دستوری امور جو مختلف ریاستوں اور مرکز میں ہورہے ہیں تب بھی یہاں کی عوام کا بڑا طبقہ خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ اور خود کو اقتدار کے آگے مصیبت میں پڑنے کے اندیشہ سے تو پھر مختصر تعداد والے ہی کیوں نہ ہوں جن میں مستعفی عہدیدار، دانشور، ادیب، صحافیوں نے مل کر وزیر اعظم کو اس جانب توجہ دلائی۔ ان کا اس پر خاموش رہنا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں دکھائے گئے آئینہ سے اختلاف نہیں ہے۔ اسی لئے تو انہوں نے اس کی مخالفت بھی نہیں کی۔ حالات حاضرہ سے متاثر ہوکر ہندوستان کے 94 سالہ بزرگ شاعر گلزار زتشی پنڈت آنند موہن دہلوی نے موجودہ حالات کے پیش نظر ایک محب وطن ہونے کے ناطہ ملک کی جو منظر کشی کی ہے اور ترانہ ملی کی پیروڈی عام قارئین کے لئے پیش ہے۔
سارے جہاں میں رسوا ہندوستان ہمارا
ہم اس کے چیل کوے یہ بے زبا ں ہمارا
پربت وہ سب سے اونچا اب منہ چھپا رہا ہے
اور ہم پہ ہنس رہا ہے وہ پاسباں ہمارا
مذہب سکھارہا ہے آپس میں بیر رکھنا
ہندی تو ہم نہیں ہے ہندوستاں ہمارا
مٹ کر رہے گی ہستی دنیا سے اب ہماری
اب منہ چھپا رہا ہے دورِ زماں ہمارا
یونان مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب جلد ہی مٹے گا نام و نشاں ہمارا
مندرجہ بالا اشعار میرے محب وطن نے اس لئے چار سال سے پیدا شدہ صورتحال بالعموم اور پچھلے مہینے بالخصوص جو لا اینڈ آرڈر کے حالات ملک میں پیدا ہوئے اور جس سے انتظامیہ نے ملک کی عظمت کی خاطر اس پر کنٹرول اور نگرانی بھی نہیں کی۔ اس لئے شائد محب وطن جو آزادی سے قبل کے حالات اور مابعد آزادی کے حالات میں تبدیل ہونے والے اقدار، سوچ و فکر و عملی اقدامات میں تضادات کی وجہ سے کوئی بھی ذی شعور آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لئے کہ بالخصوص پچھلے چند سالوں میں ہندوستان کا 80فیصد طبقہ جو زراعت کرتا ہے اسے اپنی معاشی تنگ دستی ، پیداوار کی کم قیمت اور دفتر شاہی کی اصولوں کی تحریک سے متاثر ہوکر کئی ہزار خودکشیاں عمل میں آئی ہیں۔ شائد بنیادی وجہ میرے محب وطن کو ملی ترانے کے برعکس خیالات کی ترجمانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہوگا۔
میری کوکھ اور سرشت میں عوامی فلاح و بہبود شامل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر ناراض شہری کی جائز امیدوں کے مطابق جہاں حکمرانی ہو، لیکن اب ان اقدار کا پاس و لحاظ نہیں کیا جاتا ہے اور عوام میں ایک بے چینی پھیل گئی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں ملک میں بے چینی نہیں تھی جیسا کہ پنجاب میں خالصتان کی مانگ، مدراس میں دراڑستان کی مانگ اور شمالی مشرقی ریاستوں میں خود مختاری کے رحجانات و بے چینی۔ لیکن ان تمام کو حکومت وقت نے متحدہ قومیت و ملکی یکجہتی کی خاطر سب کو مطمئن کرایا گیا۔ کیونکہ مجھے پنجاب کے سکھوں اور دراوستان کے تاملوں سے بھی محبت ہے۔ میری دھرتی کے لال وادی کشمیر میں علیحدگی پسند بھی ہیں۔ جو ریاست کے جنم لیتے ہی وہ اپنے شرائط کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ ان کی تسکین اور تالیف قلب کرنا ہمارا راج دھرم ہے۔ کشمیریوں کی وجہ سے ہی کشمیر ہے۔ جہاں مجھے کشمیری پنڈتوں کا قلق ہے وہی فلسطینیوں کی بے بسی و جلاوطنی پر بھی میرا دل دھڑکتا ہے جیسے شام کے مظلومین و مجبوروںکے لئے بھی بے چین رہتا ہوں۔ میری بے چینی اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب میرے نوجوان بے روزگار اور کاشتکار بھوک مری کا شکار ہوتے ہوئے خودکشیاں کرتے ہیں۔ میرے سماج نے ان کی ذہنی نشوونما اور ان کے مطالبات کے مطابقت میں حکمرانیت نہیں کی جس کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں۔ بہتر انتظامیہ ہی ان مسائل کو حل کرسکتا ہے، نہ کہ قانون سازی۔ کیونکہ قانون سازی سے سماج کی تربیت و تعمیر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے علم، ادب، گفتگو، باہمی بات چیت، مشورے اور ڈائیلاگ ہی حکومت اور عوام کے درمیان کامیاب اور موثر ذریعہ ہے۔ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک حالات کو سمجھنے کے لئے ایک دوسرے سے گفت و شنید ہی واحد ذریعہ ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک چین جس نے 1962ءسے ہماری زمین پر غاصبانہ قبضہ کے باوجود حالیہ گفتگو اچھے نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔(ہاتھ ملاتے رہئے) اسی طرز پر ہمارے دیگر پڑوسی ممالک سے بھی دوستانہ تعلقات، رواداری کا مستقل طور پر حل ہونا چاہئے نہ کہ کسی جھڑپوں یا بیان بازیوں سے حالات کبھی بھی درست نہیں ہوسکتے۔
میری روایتی دولت کے بارے میں جس کا ذکر ہمیشہ سومناتھ مندر کی دولت سے ہوتا ہے اور جو کسی خاص مخصوص فرقہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لئے اور تفریق پیدا کرنے کے لئے تعلق جوڑا جاتا ہے۔ لیکن آزادی کے بعد میرے چاہنے والوں نے اس سومناتھ کی دولت سے ہزاروں گنا دولت جو ہرشد مہتا کے اسکام سے لیکر آج تک اہلووالیا، نیرو، مودی،للت مودی وغیرہ کے جاریہ اسکامس کے ذریعہ میری معیشت کو کمزور ہی نہیں کیا بلکہ اس کے مضر اثرات ہمارے سماج پر ہی مرتب ہوئے ہیں۔ یہ سب انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہماری معیشت تغلب و تصرف کا شکار ہی نہیں ہوئی بلکہ ملک سے باہر منتقل بھی ہوئی ہے۔ سچ میں اگر دیکھا جائے تو کرپشن اور تغلب و تصرف کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانون سازی کرکے انہیں اس جرم کو مخالف ملک سرگرمیوں میں شمار کرنا چاہئے اور جنہیں سخت سے سخت سزا دلائی جائے، ایسی قانون سازی کی جائے۔ جس کی وجہہ سے ملک کی معیشت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو ڈر و خوف پیدا ہوسکے۔ اس خصوص میں عوامی بیداری ضروری ہے تاکہ میری آزاد نسل کے معاشی بحران اور آمدنی فی نفس میں اضافہ ہوسکے۔ عالمی سطح پر ملک کی معیشت و تجارتی معاملات میں میرا شمار چین اور امریکہ کی طرح ہوسکے۔
ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات، ہزاروں کی اموات، کروڑوں کی جائیداد کا نقصان، پوری فہرست و تفصیلات یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ صرف ہاشم پورہ، ملیانہ، مظفر نگر، دلی، گجرات کا تذکرہ کافی ہے۔ جہاں دلت، مسلم، سکھوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگر کالنگا کی جنگ میں مرنے والوں کی تعداد کا مقابلہ ان فسادات میں مرنے والوں کی تعداد سے کیا جائے تو اس کے مداوے و تدارک کے لئے ایک نہیں بیسیوں اشوک اعظموں کی طرح ہندوستان میںشخصیتوں کو پیدا ہونا پڑے گا۔ اس کے باوجود بھی ہندوستان میں ہونے والے فسادات میں اموات کی تلافی نہ ہوسکے گی۔
حکمران ہو کہ اپوزیشن ملک کے مفاد میں ماضی میں ہوئی اپنی غلطیوں سے معافی مانگ کر نئے جوش سے انتظامیہ کو اُبھرنا چاہئے تاکہ ظلم و ستم، بربریت کا اعادہ نہ ہوسکے۔ اس لئے عہد کرنا ہوگا بالخصوص ایک دوسرے پر اعتماد اور مساوات کا عملی مظاہرہ جب تک نہ ہوگا تب تک میرے اس ملک میں جمہوریت و مساوات،انسانی اقدار کا بول بالا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ میرے دستور سازوں نے ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے جو باوجود مختلف رنگ، نسل، علاقے، مذہب سے تھے لیکن انہوں نے آزادی جمہوریت کے لئے متفقہ، متحدہ، مشترکہ مساعی سے دستور سازی ہی نہیں کی بلکہ اسے نافذ بھی کیا۔ اور جمہوری سیکولرازم کے طریقوں پر عمل کرکے دنیا میں اپنی انفرادیت و ممتاز مقام کو قائم رکھا۔لیکن بعد ازاںاس جمہوریت کی روح کا غلط استعمال اسے سروں کی اکثریت والی حکومت سمجھ کر یہاں نراج و انارکی پھیلانے کی کوشش کا جھمگھٹا جو بھیڑ شاہی اور جتھہ شاہی اکثریت کے نام پر میرے دستور سازوں کی نیک نیتی و دور اندیشی کا غلط استعمال کیا ہے۔ اگر اکثریت ہی کو دستور سازی کی اسپرٹ سےجمہوریت چلائی جاتی تو اس مزاج و حالات کے پیدا ہونے کا سوال ہی نہ اٹھتا۔ اب تو صرف بھیڑ شاہی نے جمہوریت کا مذاق یوں اڑا رہے ہیں اگر چار ووٹرس ہوں جس میں سے صرف ایک گاندھی وادی امن پسند، صلح کن پالیسی والا ہو، جس کے بالمقابل تین ووٹروں کے لئے گاڈ گوڈسے ہو تو یقینا گوڈسے کے نظریہ کی کامیابی ہوگی اور نتیجتاً اثرات بھی ویسے ہی مرتب ہوں گے۔ میں اب اس دو راہیں پر ہوں کہ یہاں کوئی اشوک اعظم پیدا ہوکر اہنسا اور انسانی رواداری کا اعادہ کرے گا۔ دستوری پامالیوں کے لئے کیا پھر کوئی لوک نائیک جئے پرکاش پیدا ہوگا، جو جمہوریت اور سیکولرازم، انسانیت کا بول بالاملک پھر سے میں اپنی اصلی پہچان ، شناخت اور مخصوص کلچر والا ملک بنے گا جہاں دستور سازوں نے عوام کے لئے ایک چارٹر دیا جس کے ذریعے یہاں کی عوام کے ذریعہ ایک مقتدرسماج وادی غیر مذہبی عوامی جمہوریہ بنایا اور اس کے تمام شہریوں کے لئے مندرجہ ذیل اصول کو اپنا مرکز نگاہ بنایا کہ انہیں
انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی
آزادی خیال، اظہار عقیدت، دین و عبادت
مساوات بہ اعتبار حیثیت اور مواقع
اور ان سب میں اُخوت و ترقی دیں جس سے فرد کی عظمت اور قوم کے اتحاد اور سالمیت کا تیقن ہو۔
یہ ہندوستان کی ہندوستانیت کا مرکزی نقطہ نگاہ جسے ہندی میں کیندر بندو یا Neuclus کہا جاتا ہے۔ جس کے حصول کے بغیر میری شکل وصورت و شبیہ جو دستور سازوں نے بنائی ہے قائم و دائم نہیں رہ سکتی۔ اگر مندرجہ بالا حقوق عوام کو نہ ملے تو میری حیثیت و عظمت کے ختم ہونے سے میری شناخت بھی ختم ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے چاہنے والے باقی نہ رہے۔ لیکن میں پُرامید اور پُر عزم ہوں کہ دستور کے محافظ، ادارے، انتظامیہ کے تجربہ کار عہدیدار و دانشوروں نے جو مشن جمہوریت کی بقاءو احیاءکے لئے چلایا ہے جنہوں نے تحریری طور پر مقتدر اعلیٰ ہستی کو متوجہ و متنبہ بھی کیا ہے۔ اس طرح وہ پھر سے میری اصل روح کی تجدید ہی نہیں بلکہ میرے اقدار کو استحکام بخش کر مجھے پھر سے متفخر ہونے کا اعزاز بخشیں گے۔ جس سے میری انسان دوستی بھائی چارگی، آپسی اتحاد و محبت و اخوت والی صفتوں سے میرا سر عالم میں اونچا ہوکر رہے گا۔ اس لئے کہ میں سارے عالم میں مشرقی تہذیب، گنگا جمنی روایت سے ساری دنیا کی رہنمائی کے لئے امن و صداقت کا میرے چاہنے والوں نے مجھے پیمبر بنایا۔ اس کے لئے شرط یہ ہے یہاں کے ہر شہری، شاعر، ادیب، مصنف، دانشور، پروفیسر، وکلاءاُن موظف عہدیداروں کی طرح اپنا ڈر اور خوف کے خولسے باہر نکلیں اور میری روایت کے اقدار کے لئے عوام میں شعور پیدا کریں۔ تاکہ وہ اپنے فرض منصبی سے متصف ہوسکیں۔ اس لئے کہ میرے ملک میں مساوات،انصاف پسندی، ہر شہری کو عزت نفس کی زندگی دینے والا میں پھر سے بن جاﺅں۔ اور سارے ملک یعنی کشمیر سے کنیا کماری، پنجاب و گجرات سے لیکر آسام و مشرقی ریاستوں کو دستور کی پاسداری اور عمل آوری کے لئے متفق کرتے ہوئے مجھے میری اصل شکل و صورت دلا دیں گے۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ