امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی اشتعال انگیز

سعودی عرب کی کابینہ نے اپنی خصوصی اجلاس میں امریکہ کے اقدام کو مسترد کردیا،مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب اپنے موقف پر ثابت قدم ہے: شاہ سلمان

ریاض،16مئی ،ہ س:سعودی عرب کی کابینہ نے اپنے خصوصی اجلاس میں امریکا کی جانب سے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا۔’العربیہ‘ کے مطابق سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنا فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق سے انحراف اور عالمی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت پہلے ہی ایسے کی ناعاقبت اندیشانہ اقدام کے خطرناک نتائج پر خبردار کر چکی ہے۔ سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی بلا جواز اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا موجب بنے گی۔بیان میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ سعودی کابینہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں تشدد کا سلسلہ بند کرانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔منگل کے روز جدہ میں السلام شاہی محل میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں حالیہ ایام میں عراق، افغانستان، صومالیہ، انڈونیشیا اور فرانس میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ شاہ سلمان کی جانب سے ماہ صیام کی آمد پور عالم اسلام کو مبارک باد کا پیغام بھی پہنچایا۔ شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت ماہ صیام کے دوران معتمرین کو مناسک کی ادائی کے لیے ہرممکن سہولت مہیا کرے گی۔ اس موقع پر امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کی طرف سے بھیجے گئے پیغام سے بھی آگاہ کیا گیا۔
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بد ترین جارحیت میں نہتّے فلسطینیوں کی شہادت اور بے قصور مظاہرین کے زخمی ہونے پر مملکت کی جانب سے سخت مذمت کا اظہار کیا ہے۔اس کی اطلاع میڈیا رپورٹ سے ملی۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطے میں انہوں نے شہداءکے لیے مغفرت اور زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کی۔اس موقع پر شاہ سلمان نے باور کرایا کہ مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں سعودی عرب کا موقف ثابت قدمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مملکت بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کے قانونی حقوق واپس دلانے کے حوالے سے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔سعودی فرماں روا نے زور دیا کہ فلسطینیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں روکے جانے کے لیے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت عرب لیگ کے وزراءخارجہ کے ایک ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کرتی ہے تا کہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے مطلوبہ اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے خادم حرمین شریفین کے گراں قدر جذبات پر ان کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا اور مملکت سعودی عرب کے عوام اور حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کی مسلسل سپورٹ کو خراج تحسین پیش کیا۔
دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز الا سعود سے ٹیلی فونک ملاقات کی۔ایوانِ صدر کے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس ملاقات میں فلسطین کی تازہ صورتحال پر غور کیا گیا۔غزہ کی سرحدوں پر 62 فلسطینیوں کی شہادت کے واقعات کے خلاف امتِ مسلم کے مشترکہ موقف کو پیش کرنے کی اہمیت کا ذکر کرنے والے صدر ایردوان و شاہ سلمان نے اسلامی تعاون تنظیم کے بروز جمعہ استنبول میں ہنگامی اجلاس کے بارے میں تبادلہ خیال بھی کیا۔یاد رہے کہ صدر ایردوان نے اس سے قبل امیر ِ کویت شیخ صبا الا احمد الا جابر ، صدرِ فلسطین محمود عباس اور شاہ ارون عبداللہ دوئم سمیت ملیشیا کےو زیر اعظم مہاتر محمد سے اسی دائرہ کار میں ٹیلی فون پربات چیت کی تھی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ