کرناٹک میں شہ مات کا کھیل جاری

یدیورپّا نے 4 آئی پی ایس افسروں کا کیاتبادلہ،دہلی سمیت ملک بھر میں کانگریس کارکنوں کا احتجاج

بنگلور نئی دہلی،17.مئی ، ہ س:کرناٹک میں بی ایس یدیورپا کی حلف برداری کے بعد بھی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان شہ مات کا کھیل جاری ہے۔ یدیورپا نے جہاں حلف لینے کے بعد کئی اہم فیصلے لینے شروع کردیئے وہیں کانگریس نے ملک بھر میں اس کی مخالفت کے لئے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس-جے ڈی ایس کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود گورنر کے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع دیے جانے کو برسرعام جمہوریت کا قتل قرار دیتے ہوئے کانگریس نے اس کے خلاف ملک بھر میں جمعہ کو مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں کانگریس کے تنظیمی سکریٹری اشوک گہلوت نے ملک کے سبھی ریاستی کانگریس سربراہوں کو خط جاری کر ہدایت دی ہے کہ جمعہ کو سبھی ریاستی صدر دفاتر اور ضلع صدر دفاتر پر سبھی لیڈر اور کارکنان دھرنا دیں گے۔ خط میں گہلوت نے سبھی ریاستی سربراہوں اور دیگر لیڈروں کو لازمی طور پر پریس کانفرنس کر کے میڈیا میں مضبوطی سے اپنی بات رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
کرناٹک میں اکثریت کے نمبر سے دور ہونے کے باوجود بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کرنے کے فیصلے کے خلاف گورنر کی مخالفت میں کانگریس لیڈروں نے جمعرات کی شام کو دہلی کے راج گھاٹ پر ایک دعائیہ جلسہ منعقد کیا۔ اس دعائیہ جلسہ میں دہلی پردیش کے کئی بڑے لیڈروں کے علاوہ بڑی تعداد میں کارکنان موجود رہے۔دوسری جانب کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد پارٹی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اکثریت ثابت کرنے سے متعلق ہے۔ بی جے پی کی جانب سے بی ایس یدیورپّا کے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ غیر اخلاقی ہے اور جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کوئی بھی ممبر اسمبلی ان کے بہکاوے میں نہیں آنے والا۔ادھرکرناٹک میں حلف لیتے ہی وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپّا نے اس ریسورٹ سے پولس سیکورٹی ہٹا لی ہے جہاں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ممبران اسمبلی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے کہا ہے کہ اپنے ممبران اسمبلی کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یدیورپّا کے رویے پر انھیں حیرانی ہے۔ یدیورپّا نے جس طرح 4 آئی پی ایس افسروں کا تبادلہ کر دیا وہ حیرت میں ڈالنے والا ہے۔کانگریس کے ڈی کے شیو کمار نے میڈیا کے سامنے کہا ہے کہ کرناٹک میں جمہوریت کا قتل ہوا ہے، لیکن کل صبح ہماری جیت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کل ہمارے حق میں فیصلہ آئے گا۔ایگلٹن ریسورٹ سے سیکورٹی ہٹائے جانے کے بعد کانگریس اور جے ڈی ایس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں اور یہاں جمع ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر کانگریس ان ممبران اسمبلی کو یہاں سے ہٹا کر دوسری ریاست میں بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ انھیں کیرالہ یا پنجاب بھیجا جا سکتا ہے۔
کرناٹک میں کانگریس-جے ڈی ایس کے سبھی ممبران اسمبلی جس ریسورٹ میں ایک ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں اس کے باہر سیکورٹی کے لیے تعینات پولس کے جوانوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ کرناٹک میں انتخابی نتائج آنے کے بعد حکومت بنانے کے لیے جاری کھینچ تان کے درمیان اپنے ممبران اسمبلی کو یکجا رکھنے کے لیے جے ڈی ایس اور کانگریس نے سبھی کو ایگلٹن ریسورٹ میں ٹھہرایا تھا جس کے بعد وہاں کی سیکورٹی کے لیے کثیر تعداد میں پولس جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ لیکن جمعرات کی صبح بی جے پی کے بی ایس یدیورپّا کے حلف لینے کے بعد ریسورٹ کے باہر تعینات جوانوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے پٹنہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کرناٹک میں بی جے پی کس طرح اکثریت ثابت کرے گی؟ انھوں نے کہا کہ امت شاہ کے پاس ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے خرید و فروخت کرنا اور دوسری پارٹی کے ممبران اسمبلی کے پیچھے سی بی آئی اور ای ڈی جیسی ایجنسیوں کو لگا دینا۔ تیجسوی نے کہا ”یہ بی جے پی کی تاناشاہی ہے۔ اگر آج ہم متحد نہیں ہوئے تو کل بہار میں ایسا ہی ہوا، آج کرناٹک میں ہو رہا ہے اور کل مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی ہو سکتا ہے۔“کرناٹک میں گورنر کے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع دیے جانے کے خلاف سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر رہ چکے یشونت سنہا دہلی میں راشٹرپتی بھون کے سامنے دھرنا پر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں یشونت سنہا نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”بی جے پی کے ذریعہ کرناٹک میں غیر آئینی طریقے سے جو حکومت بنائی گئی ہے اس کے خلاف میں راشٹرپتی بھون کے سامنے دھرنے پر بیٹھا ہوں۔ آپ سبھی سے گزارش ہے کہ جمہوریت بچانے کے لیے میرے ساتھ آئیے۔“

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ