یدی یورپا اسمبلی سے پہلے عدالت میں اکثریت ثابت کریں گے؟

نئی دہلی،17۔مئی ،ہ س:رات بھر چلے تذبذب کے بعد آخر کار صبح نو بجے یدی یورپا نے کرناٹک کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا ۔ گورنر نے انہیں اکثریت ثابتکرنے کے لئے پندرہ دن کا وقت دیا ہے ۔لیکن عدالت عظمیٰ کے ذریعہ 17مئی کی صبح ساڑھے پانچ بجے دیئے گئے فیصلے کاجائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ یدی یورپا کو اسمبلی ایوان سے پہلے عدالت میں اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک کے ایوان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب ایوان سے پہلے کہیں اور سرکار کواپنی اکثریت کا اندازہ بتانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہییہ بھی طے ہوگا کہ یدی یورپا کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے گورنرکے ذریعہ مقررہ پندرہ دن کا ہی وقت ملے گا یا عدالت میں اس میں کٹوتی کی جائے گی۔ تاریخ میں اس طرحکی متعدد مثالے ہیں جب عدالتوں نے گورنرکے ذریعہ دیئے گئے وقت میں کٹوتی کیہے ۔ اسلئے حلف لینے کے بعد یدی یورپا کے لئے اگلے 24گھنٹے کافی اہم ہوں گے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں تو یہ واضح کر دیاکہوہ گورنر کے آئینی حقوق میں دخل نہیں کرے گا اور اس کے فیصلے کو نہیں بدلے گا لیکن جن بنیاد پر انہوں نے فیصلہ لیا اس کا جائزہ ضرور کیا جائے گا۔ اس لئے عدالت نے 18مئی کی صبح ساڑھے دس بجے یدی یورپا کے ذریعہ گورنرکو لکھے گئے خط وہ دونوں خط پیش کرنے کوکہا جو سرکار بننے کے دعو کے ساتھ انہوں نے لکھے تھے ۔ عدالت جاننا چاتی ہے کہ یدی یورپا کے خطوط میں ایسا کیاتھا جس کی بنیاد پر گورنر نے سب سے بڑی پارٹی کے ہونے کے ساتھ ہیانہیں اکثریت ثابت کرنے کے قابل پایا اور اکثریت کا دعویٰ کرنے اور اس کی حمایت میں خط دینے کے اتحاد کے دعوے کو ٹھکرا دیا۔
ابھیشیک منو سنگھوی کے حامی وشنو کھیرکاکہناہے کہ ہم حلف نہ روکے جانے کے فیصلہ سے تھوڑے مایوس ضرور ہیں لیکن 24گھنٹے بعد ہی یہ مایوسی بی جے پی کے ہاتھ لگے گی۔ کیونکہ اب اسے کورٹ کو بتانا ہوگا کہ اس کے پاس اکثریت کے قابل نمبر کہاں تھا ۔ وہ خط بھی دکھاناہوگا جو اس نے اکثریت کے دعوے کے ساتھ گورنر کو سونپا ۔ تب اٹارنی جنرل کیا جواب دیں گے ۔ گورنر کے فیصلے کاجائزہ جب لیاجائے گا تو یہ واضح ہو جائے گا کہ بی جے پیکے پاس اکثریت تو تھی ہی نہیں۔ عدالت بھی راہ دیکھ رہا ہے کہ ایک طرف بی جے پی ایک آزاد کی حمایت سے صرف 105تک پہنچ رہی ہے جبکہ دوسری طرف 117ممبران اسمبلی کا اتحاد واضح نظر آ رہا ہے ۔122 ممبران اسمبلی میں واضحت قسیم ہے اورکوئی دیگر امکان بھی نہیں ہے بی جے پی کانگریس اور جنتا دل سیکولر کے ممبران اسمبلی کو توڑے ۔ وشنو کھیرکاماننا ہے کہ کورٹ سب دیکھ اور سمجھ رہا ہے لیکن صرف گورنر کے عہدے کالحاظ ور انکے آئینی حقوق کی لاج رکھنے کے لئے آج حلف برداری پر روک نہیں لگائی ۔ لیکن جمعہ کو ہونے والی سماعت میں بی جے پی اور یدی یورپا کے ہاتھ خالی ہوں گے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ