کرناٹک اسمبلی میں کل شام چار بجے ہوگا فلور ٹیسٹ

نئی دہلی،18مئی،ہ س:سپریم کورٹ نے حکم دیاہے کہ کرناٹک اسمبلی میں کل یعنی 19مئی کو شام چار بجے فلور ٹیسٹ ہوگا۔ سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کو ہدایت دی ہے کہ فلور ٹیسٹ ہونے تک وہ کوئی پالیسی سے متعلق فیصلہ نہیں کریں گے۔سپریم کورٹ جب پالیسی پر مبنی فیصلوں والا حکم نامہ تحریر کروا رہا تھا تب بی جے پی کے وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ یہ آر ڈر مت تحریر کرائے۔ہم اس کے لئے انڈر ٹیکنگ دینے کوتیار ہیں۔
سپریم کورٹ نے گورنر کو فلور ٹیسٹ کے پہلے اینگلو انڈین برادری کے کسی رکن کو ممبر اسمبلی کے طور پر نامزد کرنے پر روک لگا دی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کرناٹک کے ڈی جی پی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسمبلی کے باہر کافی سیکورٹی انتظام کریں اور اسمبلی میں فلور ٹیسٹ درست طریقے سے کرانا یقینی کریں۔ سپریم کورٹ نے مرکز کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کی اس دلیل کو بھی خارج کر دیا کہ فلور ٹیسٹ خفیہ ووٹنگ کے ذریعہ ہو۔
سماعت ہوتی ہے سپریم کورٹ نے بی جے پی کے وکیل مکل روہتگی سے پوچھا کہ وہ حامی ممبران اسمبلی کا خط لائیں۔تب مکل روہتگی نے گورنر کو دیئے گئے حامی ممبران اسمبلی کی فہرست والا خط سونپا ۔ بی جے پی کی جانب سے جو لسٹ سپریم کورٹ میں سونپی گئی تھی اس میں ممبران اسمبلی کانام نہیں تھا۔اس پر مکل روہتگی سے پوچھا کہ اس خط میں حمایت دے رہے ممبران اسمبلی کا نام کیوں نہیں ہے ۔ جسٹس اے کے سیکری نے کہا کہ ایک طرف کانگریس جے ڈی ایس اکثریت کا اندازہ والا خط گورنر کو سونپا اور دوسری طرف بی جے پی نے کہا کہ ہمارے پاس اکثریت ہے ۔ ایسے میں گورنر نے کس بنیاد پر انہیں مانا کہ ان کے پاس اکثریت ہے ۔ اس پر روہتگی نے کہا کہ گورنر کے پاس صوابدید ہے انہیں یہ دیکھنا ہے کہ کون مستقل سرکار بنا سکتا ہے ۔
روہتگی نے کہا کہ ہمیں کافی حمایت حاصل ہے ۔ ہمیں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ممبران اسمبلی کی بھی حمایت ملے گی۔ ہم اس وقت اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ روہتگی نے کہا کہ کانگریس اور جے ڈی ایس نے جو حمایت والا لیٹر دیا ہے اسمیں تمام ممبران اسمبلی کے دستخط نہیں ہیں۔ کانگریس جے ڈیایس نے ویب سائٹ سے ممبران اسمبلی کانام ڈاو¿ن لوڈ کرلیا او راسے گورنر کو دے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل کوئی اتحاد نہیں تھا ۔ روہتگی نے کہا کہ دوسرے فریق کے متعدد ممبران اسمبلی سے ہمیں حمایت ملی ہے کہ انہوں نے کانگریس جے ڈی ایس سرکار کو حمایت نہیں دی ہے ۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ نمبر گیم ہے اور گورنر کو یہ دیکھناہے کہ کس پارٹی کو اکثریت ہے ۔ گورنر کو پہلے خود مطمئن کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن سے قبل اتحاد ار الیکشن کے بعد کا اتحاد الگ ہے ۔ الیکشن کے بعد اتحاد الیکشن سے قبل اتحاد سے زیادہ وزن دار ہوتا ہے ۔ آخری فیصلہ فلور ٹیسٹ پرہی ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بی جے پی نے اکثریت کا دعویٰ کی ہے اور سب سے بڑی پارٹی ہے ۔ ایسے میں دو متبادل ہیں۔ گورنر کے فیصلے کا انتظار یا ہفتہ کو فلور ٹیسٹ ہو۔ بہتر ہوگا کہ ہفتہ کو ہی فلور ٹیسٹ ہو جائے۔کانگریس جے ڈی ایس کی جانب سے ابھیشیک منو سنگھوی نے کاہ کہ سپریم کورٹ یہ ضرور فیصلہ کرے کہ اکثریت ثابت کرنے کا موقع کسے سب سے پہلے ملے۔تب جسٹس بوبڈے نے کہا کہ جسے بھی پہلے موقع ملے ، ایوان ہی فیصلہ کرے گا کہ کس کے پاس اکثریت ہے ۔جسٹس سیکری نے کہا کہ فلور ٹیسٹ ہونا چاہئے اور جو ایوان طے کرے ۔ یہی سب سے بہتر طریقہ ہے ۔ سنگھوی نے کہا کہ الیکشن ایک حصہ ہے لیکن کسے پہلے موقع دیا جاتا ہے وہ اس سے الگ ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ جب اقلیتی والے کو سرکار بنانے کے لئے بلایا جاتا ہے تو یہ جمہوریت کو ختم کر دےگا۔ کپل سبل دلیل رکھنے کے لئے کھڑے ہوئے لیکن سنگھوی اپنی دلیل دیتے رہے ۔ سنگھوی نے کہا کہ گورنر نے یہ کیسے سوچا کہ بی جے پی اکثریت ثابت کر سکتی ہے جبکہ کانگریس اور بی جے ڈی ایس اتحاد کے پاس اکثریت کا حساب ہے ۔ سنگھوی نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے پیش روہتگی کہہ رہے ہیں کہ انہیں حمایت ہے ۔ کیا ان کے پاس حمایتویں کا لیٹر ہے یا صرف زبانی ہے ۔ کیا اکثریت کاکوئی ثبوت ہے ی انہیں۔ یا یہ مانا گیا کہ مجھے موقع دیجئے ہم اکثریت کا جگاڑ کرلیں گے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ بی جے پی اور گورنر کے درمیان کیا ہوا کہ انہیں سرکار بنانے کی دعوت ملی۔کپل سبل اس دلیل پر قائم تھے کہ گورنرنے بی جے پی کو سرکار بنانے کا موقع دے کر غلط کیا ہے ۔روہتگی نے کہا کہ انہیں کانگریس جے ڈی ایس ممبران اسمبلی کے دستخط پر شک ہے ۔ اس لئے فلور ٹیسٹ ہونا چاہئے ۔ اے ایس جی تشار مہتا نے کہا کہ گورنر کو کانگریس جے ڈی ایس کے ممبران اسمبلی کے دستخط والا کوئی لیٹر نہیں ملاہے ۔ جس کی بنیاد پر وہ سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کررہے ہیں۔ اپنی دلیلوں کے آخر میں سبلنے بھی کہا کہ جے ڈی ایس بھی فوراً فلور ٹیسٹ کرانا چاہتی ہے ۔
سبل نے کہا کہ پروٹیم اسپیکر کی تقرری ہونی چاہئے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ گورنر کو اینگلو انڈین کو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ ہونے تک تقرر نہ کریں۔ روہتگی نے کہاکہ فلور ٹیسٹ ہفتہ کونہیں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ممبران اسمبلی کو کافی وقت دیا جانا چاہئے۔ کم سے کم ایک دنکا وقت ملنا چاہئے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اس پر پہلے کے فیصلے بھی ہو چکے ہیں ۔ روہتگی نے کہاکہ ہم وقت طے کرنا سپریم کورٹ پر چھوڑتے ہیں۔رام جیٹھ ملانی دلیلیں پیش کرنے کے لئے کھڑی ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو قانون کا تحفظ کرنا چاہئے۔گورنر نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے ۔ تب سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم اس پر بعد میں فیصلہ کریں گے ۔روہتگی نے کہا کہ فلور ٹیسٹ کے لئے کم سے کم پیر تک کا وقت دیا جانا چاہئے ۔ کانگریس ۔جے ڈی ایس کے ممبر اسمبلی دوسری ریاست میں بھیج دیئے گئے ہیں۔انہیں بھی ووٹ ڈالنے آنا ہے ۔سپریم کورٹ نے اس پر چٹکی لی اور کہا کہ ممبران اسمبلی کو جہاں ٹھہرایا گیا ہے ان ریزارٹس کے مالک بھی یہ کہہ رہے ہیںکہ انہیں کیمپس میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے ۔مرکزی سرکارکی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کورٹ سے مطالبہ کیا کہ ایوان میں خفیہ ووٹنگ ہونی چاہئے لیکن اسے سپریم کورٹ نے خارج کر دیا ۔ سینئر وکیل شانتی بھوشن بھی کورٹ میں موجود تھے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ