کیرانہ نور پور میں ضمنی الیکشن جیتنے کو بی جے پی نے جھونکی طاقت

میرٹھ،18۔مئی،ہ س: گورکھپور اور پھول پور ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد بی جے پی نے کیرانہ لوک سبھا اور نور پور اسمبلی ضمنی الیکشن میں پوری طاقت جھونک دی ہے ۔ بی جے پی نے اپنے لیڈروں اور کارکنان کو قصبے قصبے او رگاوں گاوں میں تعینات کر کے رائے دہندگان کو بوتھ تک لانے کا ذمہ سونپا ہے ۔ بوتھ سطح پر کامیاب ہوتے ہی بی جے پی کی جیت کو کوئی نہیں روک سکتا۔
واضح رہے کہ رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ کے انتقال سے کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ضمنی الیکشن ہو رہا ہے ۔بی جے پی نے یہاں آنجہانی رکن پارلیمنٹ کی بیٹی مرگانکا سنگھ کو الیکشن کے میدان میں اتارا ہے ۔بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کیرانہ نقل مکانی کے مسئلے کو اٹھا کر پورے ملک میں سرخیوں میں آ گئے تھے ۔ریاست میں بی جے پی سرکار بننے کے بعد سے مجرموں کے خلاف مہم چلائی گئی۔ نقل مکانی کے ذمہ دار متعدد بد معاشوں کو مار گرایا گیا تو کئی جیل بھیج دیئے گئے ۔ ان الیکشن کو بی جے پی نے اپنے وقار کا سوال بنا لیا ہے ۔اس لئے بی جے پی نے اپنے تمام لیڈروںاور کارکنان کو ذمہ داری دے کر ضمنی الیکشن میں کام کرنے کو اتارا ہے ۔ پارٹی کا مقصد بوتھ سطح پر کام کر کے ووٹروں کو بوتھ سینٹر تک لانا ہے ۔ اس میں ذات اور علاقے کے مسئلے پر پوری توجی دی جا رہی ہے ۔ اگر وہ اس مہم میں کامیاب رہی تو سیٹ نکالنا بی جے پی کے لئے مشکل نہیں لگتا۔
شاملی ضلع کے کیرانہ لوک سبھا سیٹ میں دو اسمبلی سیٹوں گنگوہ اور نکوڑ سہارنپور ضلع کا ہے ۔ اسیسے میں یہاں پر سہارنپور کے رشید مسعود خاندان کے لیڈر بھی سر گرم ہوگئے ہیں ۔ بی جے پی یہاں 2013کے مظفر نگر فساد اور کیرانہ نقل مکانی کے مسئلے کو بھونا رہی ہے تو آر ایل ڈی ۔ایس پی امید تبسم حسن کے حق میںمہم چلا رہے لیڈر اس کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار بتا رہے ہیں۔
بجنور ضلع کے نور پور اسمبلی سیٹ پر بی جے پی ممبر اسمبلی لوکیندر سنگھ کی موت کے بعد ضمنی الیکشن ہو رہاہے ۔ بی جے پی نے یہاں سے لوکیندر سنگھ کی بیوی اونی سنگھ کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔ ایسے میں یہاں بھی بی جے پی کا وقار داوں پر ہے ۔ نور پور سے دو بار ممبر اسمبلی منتخب کئے گئے لوکیندر سنگھ کی وراثت بچانے کےلئے بی جے پی نے کیرانہ لوک سبھا کی طرز پر ہیاپنے لیڈروں اور کارکنان کو گاوں گاوں اتار دیا ہے ۔ قد آور لیڈروں کا انتخابی جلسوں سے پہلے ہی بی جے پی اپنے الیکشن مہم کو پوری طرح سے پٹری پر لانے کو تیار ہے ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ