مودی حکومت میں پہلے سے بھی زیادہ بدعنوانی: رپورٹ

تحقیق میں کہا گیا ہے، ’’ہندوستان کے 38 فیصد لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں 37 فیصد کا خیال ہے کہ عوامی خدمات حاصل کرنے میں ہونے والی بدعنوانی کی سطح وہی ہے جو پہلے تھی۔‘‘

نئی دہلی،20۔مئی : نریندر مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی خود کو ملک کی دولت کا ’چوکیدار ‘ قرار ددیا تھا۔ ساتھ ہی ایک نعرہ ، ’نہ کھاؤں گا ، نہ کھانے دوں گا‘ بھی دیا تھا ۔ لیکن بدعنوانی کو ختم کرنے کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں اور بدعنوانی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک تحقیق میں بھی اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مودی کے دور اقتدار میں بدعنوانی میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ ملک کے لوگ اب یہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ مودی حکومت بدعنوانی ختم کرنے کے تئیں سنجیدہ ہی نہیں ہیں۔تحقیق میں ملک کی 13 ریاستوں (بی جے پی کی حکومت والی 6 ریاستوں سمیت) اور 11 عوامی خدمات کو شامل کیا گیا۔ تحقیق کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ملک کے 75 فیصد گھرانوں کا خیال ہے کہ گزشتہ 12 مہینوں کے دوران عوامی خدمات حاصل کرنے کے حوالہ سے بدعنوامی میں یا تو اضافہ ہوا ہے یا پھر کوئی فرق نہیں آیا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے، ’’ہندوستان کے 38 فیصد گھرانے یہ محسوس کرتے ہیں کہ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے ، وہیں دیگر 37 فیصد کا خیال ہے کہ عوامی خدمات میں بدعنوانی کی سطح وہی ہے جو پہلے تھی۔‘‘
تحقیق کرنے والے ادارے ’سی ایم ایس ‘ نے ’سی ایم ایس انڈیا کرپشن اسٹڈی 2018 ‘ کے نام جاری کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2018 کے دوران ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جنہیں مودی کے بدعنوانی کو ختم کرنے کے عزم پر یقین نہیں ہے۔
تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ ، ’’مرکزی حکومت کے عوامی خدمات حاصل کرنے میں بدعنوانی کم کرنے عزم میں پر یقین کرنے والوں میں گراوٹ آئی ہے ۔ 2017 میں جہاں 41 فیصد لوگ ان پر یقین کرتے تھے ، 2018 میں محض 31 فیصد ہی ان پر یقین کرتے ہیں۔مودی حکومت کے بد عنوانی کو کم کرنے کے عزم پر جن ریاستوں کے لوگوں کو یقین نہیں ہے ان ریاستوں میں 52 فیصد کے ساتھ مہاراشٹر سر فہرست ہے، جبکہ 50 فیصدر کے ساتھ مدھیہ پردیش دوسرے مقام پر ہے۔ گجرات جہاں پر بی جے پی گزشتہ 20 سالوں سے برسراقتدار ہے ، وہاں بھی 46 فیصد افراد محسوس کرتے ہیں کہ مودی حکومت بدعنوانی کے خاتمہ کے تئین سنجیدہ نہیں ہے۔غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں سے آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے بالترتیب 67 فیصد اور 52 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت بدعنوانی کو کم کرنے یا ختم کرنے کے تئیں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔بہار میں بی جے پی نے جے ڈی یو کی مدد سے حکومت سازی کی اور بدعنوانی کو جڑ سے مٹا دینے کا وعدی کیا تھا ، حیرت انگیز طرقہ سے وہاں کے 50 فیصد لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مودی حکومت بدعنوانی کو ختم کرنے کے تئیں سنجیدہ ہے۔مرکزی حکومت ڈجیٹل انڈیا مہم کےتحت کئی طرح کی اسکیمیں چلا رہی ہے ، تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس میں شامل 7 فیصد لوگوں کو آدھار حاصل کرنے کے لئے ، جبکہ 3 فیصد لوگوں کو ووٹر آئی ڈی حاصل کرنے کے لئے رشوت دینی پڑی۔
حالانکہ اگر 2005 (جب مرکز میں یو پی اے کی حکومت تھی) سے موازنہ کریں تو عوامی خدمات حاصل کرنے میں جتنی بدعنوانی تھی اس میں کچھ کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق عوامی خدمات حاصل کرنے میں ہونے والی بدعنوامی میں 50 فیصد کی کمی آ گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق مودی حکومت کی طرف سے ’لوکایوکت ‘ کی خالی پڑی اسامیوں اور بینکنگ شعبے میں بڑے پیمانے پر رونما ہوئے گھوٹالوں کی وجہ سے لوگوں کا مودی حکومت سے یقین ختم ہوا ہے۔
جہاں تک ریاستوں کا سوال ہے تو عوامی خدمات حاصل کرنے میں ہونے والی بدعنوانی کے معاملہ میں تلنگانہ کا مظاہرہ سب سے خراب ہے اور وہ سر فہرست ہے۔ جبکہ آندھرا پردیش اس فہرست میں چوتھے مقام پر ہے۔تحقیق کے مطابق عوامی خدمات میں ٹرانسپورٹ، پولس، ہاؤسنگ، لینڈ ریکارڈس، ہیلتھ اور اسپتال کی خدمات کا حال سب سے خراب پایا گیا ۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق مہاراشٹر، دہلی، گجرات، بہار اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں عوامی بیداری سب سے زیادہ ہے جبکہ آندھرا پردیش، مغربی بنگال، کرناٹک، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں بدعنوانی کے خلاف سماجی تنظیموں کی طرف سے سب سے کم آواز اٹھائی جاتی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ