کانگریس جے ڈی ایس کو سرکار بنانے کے بعد رہی گی بچانے کی فکر

نئی دہلی،20۔ مئی،ہ س: کانگریس اور جے ڈی ایس کے جو مہارتھی کرناٹک جنگ میں بی جے پی کے قبضے سے اقتدار چھینے ہیں انہیں اب سب سے بڑٰ فکر کمار سوامی کے ممکنہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے حلف لینے کے بعد اکثرت ثابت کرنے اور اس کے بعد سرکار بچانے کو لے کر ہے ۔ آپریشن کرناٹک میں شامل کانگریس کے جو لیڈر لگے تھے وہ ابھی مطمئن نہیں ہوئے ہیں ۔کانگریس اور جے ڈی ایس کے ممبران اسمبلی کی تعداد اکثریت کے لئے ضروری نمبر 111سے چار زائد یعنی 115کمار سوامی دو سیٹوں سے ہیں جو ایک سیٹ مانی جائے گی جس کے سبب کل سیٹ جن پر الیکشن ہوئے ہیں222 ہیں اس میں سے ایک سیٹ بھی کم کر دی جائے گی تو ہو جائے گا121 جس کا نصف ہوا110.5 اس لئے اکثریت ثابت کرنے کے لئے چاہئے 111ممبران اسمبلی کا ووٹ) ہونے ، دو آزاد اور یاک بی ایس پی کا اپنے ساتھ(کل 118ممبران اسمبلی) ہونے کے باوجود خوف بنا ہوا ہے ۔ اس لئے کرناٹک اور مرکزی کانگریس کی پوری ٹیم ابھی بھی وار فٹ پر ہے۔ اکثریت ثابت کرنے کے وقت کانگریس کے تمام 78ممبران اسمبلی،جے ڈی ایس کے 37 ممبر اسمبلی، ان کے معاون بی ایس پی کا ایک ممبر اسمبلی،دو آزاد ممبران اسمبلی کی (کل118) موجودگی لازمی بنائے رکھنے ان کے ووٹ بچائے رکھنے کی کوشش پہلے کی طرح جاری ہے ۔
اس سلسلے میں کانگریس کے جنرل سکریٹری موہن پرکاش کاکہنا ہے کہ کرناٹ میں جس طرح بی جے پی کے یدی یورپا کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے پہلے ہی استعفیٰ دینا پڑا اس سے کانگریس اور جے ڈی ایس کا حوصلہ بڑھا ہے ۔ اس کا فائدہ آنے والے الیکشن میں ہوگا لیکن مٹھی سے اقتدار کھسکنے سے بے چین بی جے پی بھی خاموش نہیں بیٹھے گی۔ وہ ہر طریقہ اپنائے گی کانگریس کے ایک دیگر سینئر لیڈر اور عہدی داروں کے نام نہیںشائع کرنے کی شرف پر کہا کہ دیکھتے رہئے بی جے پی کی مرکزی سرکار جلد ہی کرناٹک کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈروں کے یاہں اسی طرح سے سی بی آئی ،ای ڈی ،انکم ٹیکس وغیرہ کا چھاپہ شروع ہو گا جس طرح سے ہماچل میں وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے ویر بھدر سنگھ اور ان کے رشتہ داروں کے یہاں کیا گیا تھا۔ حالانکہ اب کانگریس اورجے ڈی ایس کے لیڈر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہیں گے ۔ کرناٹک کان کنی بد عنوانی کے ملزمین ریڈی ار ان کے بھائیوں اور ان کے دوست ری رامولو کوئی شفاف شخصیت نہیں ہیں۔ ریاست کے بہت سے بی جے پی ممبرا اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ بھی ہرش چندر نہیں ہیں۔ اس لئے اب ان سے انہیں ے طور طریقے ،ہتھکنڈے سے لڑنا پڑے گا۔
کانگریس کے تنظیم وزیر اشوک گہلوت کا کہنا ہے کہ کرناٹک اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو 13,824,005ووٹ ملے ہیں جو کہ بی جے پی کو ملے ووٹ13,185,384سے 6,38,621ووٹ زیادہ ہے ۔ کانگریس کو 2013کے اسمبلی الیکشن میں جو ووٹ ملے تھے اس سے 2018کے اسمبلی الیکشن میں 1.7 فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں۔بی جے پی نے کرناٹک اسمبلی کا الیکشن مودی بنام راہل بنا دیاتھا ۔ پانی مرکزی اقتدار کے وسائل کا استعمال اور پوری طاقت جھونک دی تھی ۔ اس کے بعد بھی کانگریس کا ووٹ فیصد بڑھا اور بی جے پی سے زائد ووٹ پائی ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ کانگریس راہل گاندھی کی قیادت میں مودی شاہ کی بی جے پی سے زیادہ ووٹ پا سکتی ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ