اچھی حکومت اور انتظامیہ

کرشنا بھوگے

(9اپریل 2018ءسکاڑ مراٹھی)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر
رابطہ:9890245367

2014ءکے انتخابات میں جو عام آدمی کو راغب کرنے والے نعروں نے متاثر کیا اس میں سے ایک نعرہ Less Governement Good Governance کا تھا۔ اور کیوں نہ ہو یہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ملک کی ترقی کی بنیاد اچھی حکومت اور بہتر انتظامیہ پر ہی منحصر ہوتی ہے اور اس کا تصور یہاں پائے جانے والی تمام ادارہ جات کی حد تک ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارہ جات پر مشتمل ہیں۔ کیونکہ یہاں بسنے والے تمام انسانوں کا قریبی تعلق حکومت سے ہوتا ہے۔ لہٰذا اس میں اصلاح کرنے اور سماج کے نظم و نسق کو حکومت سے قریب نکال کر ایک دوسرے سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

احساس ذمہ داری کا فقدان
ایڈمنسٹریشن اور نظم و نسق کی اصطلاح کافی وسیع و عریض ہے اور کئی معاملات پر محیط ہے۔ اس کے لئے انتظامیہ کو سماج سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے دونوں کو مل کر اس پر غوروخوص کرنا چاہئے۔ ہر ملازم کی یہ اخلاقی جوابداری ہے کہ وہ ہندوستان کے خاندان کا اپنے آپ کو فرد سمجھے اور یہ سوچ یہاں کے اقدار کی دین ہے۔ ہر ملازم کی اچھی بری جو خصلت ہوتی ہے اس کی تعمیر و تشکیل میں اس کا خاندان ہی نہیں بلکہ یہاں کا سماج اور سماج کی رچناکا اس پر کم زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اس لئے انتظامیہ کے تمام یونٹ کو مل کر ایک دوسرے کے لئے جوابدار و ذمہ دار بننا چاہئے، جس کا ہمیں یہاں فقدان نظر آتا ہے۔ کوئی فریق کسی ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار نہیں ہے۔ ایسی حالت یہاں پیدا ہوگئی ہے۔ کروڑوں روپئے خرچ کرنے کے باوجود بھی ان کا مقرر کردہ نشانہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کہیں پر بھی کسی کی کوئی جوابداری کا تعین نہیں کیا جاتا۔ کام نہ کرنے والوں کو کوئی سزا دی گئی ایسا ہمیں یاد نہیں۔ یونیورسٹی کے امتحان کا ٹائم ٹیبل تیار کرتے ہیں لیکن اس کی عمل آوری نہیں کی جاتی۔ وقت مقرر پر نتائج کا اعلان نہیں ہوتا۔ وائس چانسلر کب ریٹائرڈ ہونے والے اس کی اطلاع انتظامیہ کو نہیں ہوتی اس لئے کہ نئے وائس چانسلر کے انتخاب کے طریقہ کار کے لئے موجودہ وائس چانسلر کے ریٹائرڈ ہونے سے پہلے ہی کرنی چاہئے۔ یہ تمام چیزیں کیونکر ہوتی ہیں اس کا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ جب اعلیٰ سطح پر یہ حالات ہیں تو نچلی سطح پر حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ عدلیہ کے بارے میں کیا کہاجائے ، وہ تو تمام لوگوں کو درس دیتے ہیں۔ ہائیکورٹ کے ججوں کی تقرری کا معاملہ کئی زمانے سے تعطل میں پڑا ہے۔ جو اس بات کا مظہر ہے کہ ہر سطح پر اپنی ذمہ داری و جوابداری کا فقدان ہے۔ جبکہ ذمہ داری و جوابداری کا احساس اچھے انتظامیہ کی روح ہوتی ہے۔

کرپشن اچھے انتظامیہ کا سب سے بڑا دشمن ہے
کرپشن اچھے انتظامیہ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس لئے کرپشن کی پوری طریقے سے جب تک خاتمہ نہ ہو اس وقت اچھا انتظامیہ نہیں ہوسکتا۔ بہت سے لوگوں کی ایسی سمجھ ہے کہ کرپشن حکومتی نظام کا ایک حصہ ہے اور یہ انتظامیہ کی حد تک ہی محدود ہے۔ اس لئے جب کبھی کرپشن کے اس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے اس وقت حکومتی نظام و انتظامیہ کے محکمہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ سماجی سطح پر اور وسیع طریقے پر سوچا جائے تو کسی بھی کام کرنے کا طریقہ کرپشن میں ملوث ہے۔ تعلیمی نظام ہو یا مذہبی انتظامیہ، سیاسی انتظامیہ، خانگی و معاشی انتظامیہ تمام معاملوں میں کم یا زیادہ کے تناسب سے رشوت خوری نظر آتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف حکومتی نظام اور انتظامیہ کو الگ کرکے اس رشوت خوری کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ لوک سبھا کے انتخابات کے موقع پر کئی امیدوار دس کروڑ سے زائد خرچ کرتے ہیں۔ لیکن الیکشن کمشنر نے انہیں صرف سات لاکھ روپئے خرچ کی تحدید مقرر کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کئی امیدوار رقمی تحدید کے خلاف اور اس سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن سیاسی جماعت ہو یا اس کے امیدوار، یہ کھلے عام طور پر اسے تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ سارا پیسہ کالاپیسہ ہوتاہے۔ جو صرف کرپشن سے پیدا ہوتا ہے۔ انتخابی میدان میں خرچ ہونے والے معاملہ کو کسی نے بھی ایمانداری سے اس کے خلاف کوشش نہیں کی۔آج کی جمہوریت یہ سیاسی جمہوریت ہے اور ہمارا انتظامیہ سیاسی انتظامیہ ہے۔

دن میں خواب دیکھنا ناممکن
سیاسی جماعتوں کا فنڈکا آغاز یا منبع کرپشن ہوتا ہے۔ لیکن رشوت خوری کا داخلہ سرکاری انتظامیہ ہے۔ کیا اس طرح انتظامیہ کا محکمہ خود بخود ہوگیا، جس کی وجہہ سے سیاسی جماعتوں کو اس رشوت خور پیسے سے آزاد ہونا حکومت کا انتظامیہ اور یہاں کے نظم و نسق سے پاک صاف نہیں کرسکتا۔ خانگی صنعتوں میں بھی خود عظیم پیمانے پر بھرشٹاچار ہے لیکن یہ بھرشٹا چار باہر نظر نہیں آتا۔ برخلاف اس کے سیاسی پارٹیوں کے فنڈ کے جو اہم ذرائع ہیں وہ صرف خانگی صنعت کاروں نے قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس سچائی کو ماننے کی ہمت ہمارے عزت مآب لوگوں میں نہیں ہے۔ بھرشٹاچار کے معاملہ میں ہم سب لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔
بھرشٹاچار ایک سماجی مسئلہ ہے۔ وہ ایک انسانی بیماری ہے۔ بھرشٹاچار سے انسانی زندگی کے تمام اعضاءمتاثر ہوئے ہیں۔ کوئی بھی مسئلہ جب کبھی ہم وسیع طور پر اور شدت سے نظر نہیں ڈالتے اس کا اختتام کیسے ہو تو اس وقت یہ مسئلہ کو لوک پال یا لوک آیوکت اس قسم کے اداروں کے ذریعے اس پر قابو پانا ممکن نہیں۔ اس لئے بھرشٹاچار کے خاتمہ کے لئے لوک پال یا لوک آیوکت سے توقع رکھنا گویا دن میں خواب دیکھنا ہے۔

پریشر گروپ ایک مسئلہ
سیاسی جماعتوں کے تیار کئے ہوئے مذہبی ، ذاتی و کاروباری پریشر گروپ حکومت کے سامنے ایک گمبھیر مسئلہ ہے، یہ جو پریشر گروپ ہوتا ہے وہ وسیع و عریض بنیادوں پر عوام کی خاطر کام نہیں کرتا۔ وہ ذاتی اور اپنی سیاسی فائدہ کے لئے کام کرتے ہیں۔ انتظامیہ کے ذریعے غلط طریقہ کار اور غیر قانونی انداز سے اپنے کام کروانے کی ان کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے اور جس کے لئے وہ اپنا دباﺅ اور پریشر استعمال کرتے ہیں۔ یہ پریشر گروپ کسی حد تک بھی جاسکتا ہے۔ بہت سے مواقعوں پر وہ قانون او رنظم و نسق کے مسئلے پیدا کردیتے ہیں۔ سیاسی دخل اندازی کی وجہ سے ان پر قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔ اس قسم کے پریشر گروپ کے خلاف پابندی لگانے والے اور ان پر پُراثر کارروائی کرنے کے سوائے انتظامیہ بہتر نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ مشکل سوال ہے کہ اس پریشر گروپ میں کون اور کس طرح امتناعی کارروائی کرے؟ اس لئے کہ یہ پریشر گروپ اپنے دباﺅ کا استعمال انتخابات کے دوران عملی طور پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ الگ الگ سیاسی جماعتوں کو وہ اپنے تن من دھن سے مدد کرتے ہیں۔ اس کے لئے ان گروپوں سے طویل سیاسی جماعتوں کا سیاسی او رمعاشی تعلق ہوتاہے۔ انتظامیہ کا نظم و نسق و حکومت کے زیر انتظام ہوتا ہے اور حکومت کے نظم و نسق کا تعلق سیاسی جماعتوں کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اس حقیقت پر غور کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں حکومتی نظم و نسق اور انتظامیہ کی نظم و نسق ایک دوسرے کے قریب آئے بناءاس پریشر گروپ کو قابو میں نہیں لاسکتے۔

کارکردگی کے کلچر کا فقدان
موجودہ حالات میں سماج کے طویل حلقوں میں وسیع طور پر اگر دیکھا جائے کام کی اہلیت کا فقدان پایا جاتاہے۔ ہر شخص یا ادارہ صرف اپنے حقوق کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ لیکن ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرتا۔ فرائض کی تکمیل کے ذریعے ہی حقوق کا جنم ہوتا ہے۔ لیکن اس بات کو صحیح بھی بھول چکے ہیں۔ ہر ادارے اور شخص نے اپنے فرائض کو ایمانداری سے اور پوری لگن کے ساتھ اگر تکمیل کرے تو اچھے انتظامیہ کے ظہورمیں آنے کے لئے کوئی وقت نہیں لگ سکتا۔ ہم خود لوگوں کو ان کے فرائض اور حقوق کی اصولی طور پر معلومات نہیں دیتے۔ لیکن فرائض کی معلومات بھی نہیں دیتے۔ یہ اختیار اور حقوق کی خاطر ہر روز مورچے نکالے جاتے ہیں۔ لیکن فرائض کی تکمیل کے بارے میں ایک بھی مورچہ نہیں نکالاگیا۔ ایسا کیونکر ہوا۔ انسانیت، اخلاقیات کے بارے میں J G Holand نے اپنی نظم کے ذریعے حسب ذیل اشعار خاص ہیں
God, Give us men!
God, Give us men! A time like this demands
strong minds, great hearts, true faith and ready hands;
Men whom the lust of office does not kill;
Men whom the spoils of office Cannot buy;
Men who posses opinion and a will;
Men who have honour
Men who will not lie.

سوچ و فکر میں تبدیلی کی غرض
صحیح انتظامیہ کسی سیمینار، سمپوزیم یا کسی قانون کی تشکیل کی بناءپر عمل میں نہیں آسکتا۔ انسانی زندگی کا ہر پہلو اس سے جب تک جڑا نہ رہے اور لوگوں کو ایک ساتھ نفسیات میں تبدیلی نہ آئے تو اس انتظامیہ میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ خود اپنے سوائے دوسرا کوئی اس خواب کی تکمیل نہیں کرسکتا۔ علامتی علاج کے ذریعے اس بیماری کا قدیم و دائمی علاج نہیں ہوسکتا۔ مسائل کی تشخیص کرکے اس پر علاج کرانے کی ضرورت ہے۔ ایسا ہم کریں گے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں بہتر انتظامیہ کرنے کی غرض سے ہر سطح پر سب کو ملاکر وسیع تر پیمانے پر اور اگر ایمانداری سے کوشش کی جائے اور تب پھر سب لوگوں کی زندگی خوشحال ہوسکتی ہے اور اس طرح انگریزوں کا زمانہ ہی اچھا تھا ایسا کہنے کی کسی کو نوبت نہ آئے گی۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ