جج لویا موت معاملہ:بامبے بائلرس ایسو سی ایشن کی از سر نو غور کرنے کی عرضی

نئی دہلی،21۔مئی،ہ س: سہرا ب الدین انکاونٹر معاملے کی سماعت کرنے والے جج لویا کی موت کی جانچ کی مانگ سپریم کورٹ کے ذریعہ خارج کرنے کے خلاف رویو پٹیشن دائرکی گئی ہے ۔ بامبے بائرس ایسو سی ایشن نے عرضی دائر کرکے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے موافق نہیں ہے ۔
پچھلے 19اپریل کو سپریم کورٹ نے جج لویا کی موت کی جانچ کی مانگ کرنے والی عرضی خارج کر دی تھی ۔ کورٹ نے کہا تھا کہ عدالتی افسروں پر بھروسہ نہیں کرنے کا کوئی سبب نہیں ہے ۔ کورٹ نے کہاتھا کہ عرضی گزار کے وکیل دشینت دوے نے عدالتی افسروں کی طرف کچھ وجوہات کا اشارہ کیا تھا جس کاکوئی تعلق نہیں تھا ۔عرضی گزار نے عدالت کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ۔ تجارتی اور سیاسی تنازعہ باہر نمٹایا جانا چاہئے ۔ عرضی گزاروں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ عرضی کی جانچ کے لئے ہے لیکن یہ عدالت کے خلاف تھا ۔ سپریم کورٹ نے جج لویا کی موت کو فطری موت قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ سماعت کے دوران مہاراشٹر سرکار نے کہا تھا کہ عرضی گزاروں کا ایک ہی مقصد ہے ایک شخص کو ٹارگٹ کرنا ہے ۔ مہاراشٹر سرکار کے وکیل مکل روہتگی نے کہا تھا کہ انٹلیجنس کے جنرل ڈائریکٹر نے اس معاملے کی جانچ کی تھی ۔ انہوں نے کہ تھا کہ انٹی کرپشن اور انٹلی جنس دونوں نے برابر جانچ کی ۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ اہم معمالے کی جانچ اتنے اہم طریقے سے کیا گیا کہ دوسرے شخص کو پتہ نہیں چلا۔
روہتگی نے کہا تھاکہ بیانوں میں فرق کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہم یہ ہے کہ جج لویا کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوی ۔ ہم اس پر بحث نہیں کر رہے ہیں کہ کیا ہونا چاہئے تھا انہوں نے کہا کہ کارواں میگزین غیر زمہ دار ہے ۔ میگزین کہتی ہے کہ انہوں نے ایک جج سے ملاقات کی جو جج لویا کے ساتھ موجود تھا لیکن عرضی گزار ان کے ساتھ رہنے پر سوال اٹھا رہے ہیں عرضی گزار صرف ایک شخص کوٹارگٹ کر رہے ہیں ۔ روہتگی نے کہا تھا کہ دشینت دوے نے چار ججو ں کے کراس اگزامنیشن کی مانگ کی۔ یہ مانگ خطرناک ہے ۔ ہم کس پر بھروسہ کریں ۔ کارواں رپورٹ پر یا جج پر جن کے پاس کار تھی او ر وہ جج لویا کو اسپتال لے گئے ۔ جج ڈاکٹر نہیں ہوتے ۔ اس وقت انہوں نے فوری فیصلہ کیا ۔ یہ اہم نہیں ہے کہ جج لویا کو دانڈے اسپتال کیوں لے جایا گیا دوسرے اسپتال کیوں نہیں لے جایا گیا ۔
سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا تھاکہ حکم صرف موت کے معاملے پر دیا جائے اور باق معاملے ہائی کورٹ واپس بھیج دیئے جائیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ جب ہم نے ڈاکٹر شرما کی رپورٹ سونپی۔ اس کے بعد ڈاکٹر شرما پر دباو ڈالا گیا کہ وہ وضاحت جاری کریں۔ پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ جج لویا کی موت ہارٹ اٹیک سے نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا تھاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زہر دینے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے فارنسک ایکسپرٹ آ رکے ڈاکٹرشرما کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی راے جج لویا کی رپورٹ سے متضاد ہے ۔ جج لویا کے تمام اعضا دباو میں تھے جس کاکوئی سسب نہیں بتایا گیا ۔ ان کی نسیں سخت ہو گئیں تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر نسیں سخت ہو جاتی ہے تو ہارٹ اٹیک کا امکان نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر شرما کے مطابق اعضا میں دباو کی وجہ نہیں بتانا حیران کن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باقیات کا سیمپل ایکم دسمبر کو حاصل ہوتا ہے اور ان کا انالسس 19جنوری تک ہوتا ہے ۔ اس کی رپورٹ پانچ فروری کو بنائی جاتی ہے سب کچھ غیر معمولی طریقے سے ہوا ہے ۔عرضی گزاروںکی جانب سے وکیل دشینت دوے نے کہا تھا کہ مہاراشٹر سرکار کی رپورٹ میں کافی تضاد ہے اور اس کی جانچ کا حکم دیا جانا چاہئے۔ انہوںنے کہا تھا کہ اگر جج لویا کی فطری موت بھی ہوئی ہو تو جانچ کا حکم دینا چاہئے ۔ دوے نے کہا تھا کہ انٹلی جنس کے کمشنرکی رپورٹ جانچ دوبارہ کرنے کوکہتی ہے ۔ جج لویا کی لاش کو انکے گھر کیوں نہیں بھیجا گیا اور ان کے اہل خانہ کو کیوں نہیں مطلع کیا گیا۔ریاستی سرکارکو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے ۔ اسے جانچ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ کمرے میں کوئی جج موجود نہیں تھا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ