ہاتھ ملاتے رہئے

سری رام پوار

(6مئی 2018ءسکاڑ مراٹھی)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر
رابطہ:9890245367

روہان (چین) میں نریندر مودی و ژی پنگ میں ہوئی ملاقات ایک واقعی طور پر یاد رکھنے والی بات ہے۔ وہ اس لئے کہ تعلقات کتنے ہی خراب ہو تو اس کے لئے بار بار گفتگوکرنے کے متبادل ختم نہیں ہوتا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لوک سبھا کے انتخابات کے دوران اس وقت کے سیاسی یعنی یو پی اے سرکار پر حملہ کرنے والے کی چین کو سبق سکھانے کے بجائے حملہ نہیں کرنے کیصلاح مودی نے دی تھی۔ اگر اس کا استقبال کے موقع پر یہ خموشی کیونکر ہوتی ہے؟ 2014ءکے لوک سبھا کے انتخابات سے پہلے بھارت کے اس وقت کے وزیر خارجہ چین گئے تھے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران بیجنگ کی تعریف بھی کی تھی جس پر مودی نے دھاڑتے ہوئے کہا تھا کہ” چین کو سرخ آنکھوں سے سنانے کے بجائے اس کی تعریف کرنے پر کیا وزیر خارجہ کو شرم نہیں آنی چاہئے تھی؟ “ اب کون اس قسم کا سوال مودی سے پوچھے۔ قبل اس کے وزیر خارجہ ششما سوراج چین گئی تھیں۔ ” لال لال آنکھیں کرکے“ چین کو انہوں نے کونسا اشارہ دیا ہوگا؟ تو اس کا کیا جواب دیں گے؟ صحیح تو بس یہی ایک فرق ہے کہ جب کوئی اقتدار پر ہوتا ہے تو انہیں ملزم کی حیثیت سے پنجرے میں کھڑا کرنے کی عادت حزب مخالف کو ہوتی ہے۔ چین بھارت کو کچھ نہیں مانتا۔ نہ اسے تجارتی خسارہ ہوتا ہے اور نہ اس کی وجہ سے سرحد پر تناﺅ۔ نہ اظہر مسعود کو دہشت وادی قرار دینے کی کوششوں کو چین کیا ساتھ دے رہا ہے۔ نہ پاکستان کی شرارتوں کی پردہ پوشی کو روک رہاہے۔ چین ۔ پاک اکانومککوریڈر ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ کیا اس مسئلہ پر چین بھارت کی سننے کے لئے تیار نہیں۔ باوجود اس کے تمام تیاری کرکے بھارت وزیر اعظم چین جاکر وہاں کے صدر سے سفارتی میٹھی میٹھی گفتگو کرنا پڑتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہو اور وہ الیکشن سے قبل اپنی دو ٹوک راست گوئی کے لئے ان کا کتنا شور و غوغہ تھا۔ لیکن بین الاقوامی تعلقات کی خاطرکیا اس میں تبدیلی نہیں ، اس سے یہ صاف نظر آرہا ہے۔ انتخابی تقاریر کے دوران کچھ بھی انہوں نے کہا ہوگا لیکن ملک کے وزیر اعظم کے خاطر چین کو جانا اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے اور دو عظیم آبادی والے ملکوں کا روزی کپڑے کی تکمیل کے لئے سب سے اعلیٰ سطح پر گفتگو کرنا اس کے سوا دوسرا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ صرف دونوں کے درمیان گفتگو ہی نہیں بلکہ ایشیاءاور عالمی سطح پر ہونے والے واقعات کی گفتگو کو جاری رکھنا یہ عقلمندی ہے۔ اس لئے مودی کا چین کے دورہ کا استقبال ہوا۔ لیکن اس معاملہ کی سیاست کرنا یہ اپنی سیاسی تہذیب کا ایک حصہ ہے۔ اس لئے چین کو جاتے وقت راجیو گاندھی نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اختلاف کی ریت نبھائی۔ اس وقت راہول کو کانگریس کے اقتدار کے زمانے میں چین کے بارے میں حسب مخالف کو تقریباً یہی حالات تھے۔ اس کے سوا اور دوسرا کچھ ہوتا بھی نہیں۔ اس یادداشت کو سیاسی طور پر سوچ کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتے۔ مودی ہو یا راہول، حزب مخالف ہو یا اقتدار میں۔ کارکردگی کا فرق واضح ہے۔ لیکن اب لوگوں کو یہ سمجھنے کے لئے اور ان کے پرچار کے درمیان کتنی تالیاں بجیں گے یہ انہیں طے کرنا ہے۔
مودی اور ژم پنگ کے درمیان اب تک 11 مرتبہ گفتگو ہوچکی ہے۔ لیکن اس وقت کوئی خاص یعنی گفتگو کے لئے کوئی ٹھوس ایجنڈہ نہ تھا۔ یعنی صرف خارجہ امور سے متعلق بھی کوئی نشانہ نہ تھا۔ گفتگو تو ہوگی 24گھنٹوں کے درمیان چھ مرتبہ دونوں ایک دوسرے سے دونوں قائدین ملے لیکن کسی قسم کا فیصلہ نہیں ہوا۔ گفتگو کے بعد بھی دونوں نے کسی قسم کی کوئی معلومات نہیں دی۔ گفتگو کے درمیان کوئی ان کے نوٹس نہیں لیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ ایک چوٹی ملاقات ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ معاملہ پہلے ہی طے ہوچکا تھا۔ رسمی طور پر دونوں قائدین اپنے مفادات کے باہر نکلنا چاہئے۔ جس کے لئے انہیں ایک ذخیرہ بھر کاغذ درکار ہوتے ہیں۔ اربو ڈالر کی سرمایہ کاری ہونی چاہئے۔ اس طرح یہ دونوں قائدین تناﺅ سے آزاد تھے۔ پہلی مرتبہ ان دونوں ممالک کے قائدین کے درمیان اس قسم کی غیر رسمی گفتگو ہونے والی تھی۔ اس قسم کی اطلاع جم پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کے دوران کی تھی۔ گفتگو غیر رسمی اور کوئی ایجنڈہ نہیں، ایسا ہو تب بھی اس مہینے بھر میں شنگائی کے امدادی تنظیم کا اس ملاقات کو پھر سے دوبارہ ہونا یہ دونوں قائدین اگر ملتے بھی ہوں تو اس ملاقات سے کیا ملنے والا ہے۔ اس لئے جس کا تجسس کے بارے میں بہت سے لوگوں کو قیاس آرائی تھی۔ اس لئے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ڈوکلام میں اپنی طاقت کے مظاہرہ سے پیدا شدہ تناﺅ کو ہموار کرنا اس کے لئے ماحول تیار کرنا ایک معنی میں تعلقات کو پھر سے بحال کرنا اس ملاقات کا مقصد ہے۔ اس ملاقات کے لئے بہت ہی احتیاط کے ساتھ تیاری کی گئی تھی ان دونوں کے درمیان تاکہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ ہو ایسا کچھ ہونے والا بھی نہیں تھا۔ اس امر پر زیادہ زور دیا گیا تھا۔ زم پنگ اپنے پچھلے بھارت کے دورہ کے وقت ہی بھارت کے حدود میں شمال میں چین نے دخل اندازی کی تھی۔ اب اس قسم کا کوئی موقع نہیں آئے گا۔ جس کی ان دونوں نے لحاظ رکھا۔ بھارت کی طرف اس کا لحاظ رکھنا کہ دلائی لامہ کو بھارت میں آج سے ساٹھ سال پہلے ہی انہیں تحفظ فراہم کرنا پڑا۔ اس قسم کے پروگرام کو کوئی عہدیدار اس معاملہ میں تجاوز نہ کریں، اس قسم کے آرڈر نکالے گئے تھے۔ سرخ آنکھیں کرکے چین کو سوال و جواب کرنا عملی طور پر اتنا کوئی آسان کام نہیں ہے اس کا سرکار کو بار بار کا تجربہ ہے۔ اس سے قبل مئی 2000ءمیں چین کے باغی نیتا ڈلکون عیسیٰ کو بھارت کی ایک کانفرنس میں دئے ہوئے ویزہ کو عین وقت پر رد کیا تھا۔ اظہر مسعود کو دہشت وادی قرار دینے کے معاملہ میں چین رکاوٹ ڈالتا ہے۔ اسے جیسے کو تیسا جواب دینے کا مطلب یہ تھا عیسیٰ کو دیا ہوا ویزہ رد کیا جانا تھا۔ہاں ایک راست تیر کو بھی قائم نہیں رکھا گیا۔ ملک بھر میں اپنے چاہنے والوں کی خاطر تیز و طرار بھاشا بول سکتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر کاروبار کو ٹکانے کی خاطر نہیں۔ اتنا اگر چار برسوں کے درمیان سرکار نے اگر کچھ سیکھا ہے تو کیا یہ کچھ کم نہیں؟ حقیقت میں صرف طاقت کی بنیاد پر بین الاقوامی تعلقات کو قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے تمام اپنے مسائل کو حل کرنے کی خاطر اپنے اختلافات کو قائم رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کرنا جس میں کوئی حرج نہیں۔ شرم محسوس کرنے کے اس معاملہ میں کوئی بات نہیں۔ یہ اتنا ہی صحیح ہے کہ لوک سبھا کے انتخابات کے دوران مودی نے جو اداکاری دکھائی ہے وہ یادگار ہوتی تھی۔ اسی طرح اب راہول گاندھی کا مودی نے چین کے دورہ پر جو سوالیہ نشان لگائے وہ بھی اس وقت یادگار ہے۔
مودی اور زم پنگ ان کے درمیان غیر رسمی گفتگو کے دوران طویل عرصہ لگ سکتاہے۔ اس کی برابری یا مساوات راجیو گاندھی نے ڈینگ کے ساتھ کی گئی گفتگو سے کی جاسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قبل اس کے ایسی تمام گفتگو بات چیت کے دوران مثبت انداز کتنا ہی دکھایا جائے تو چین اپنی اصل نظریات سے سمجھوتہ نہیں کرتا۔ عرصہ دراز تک قائم رکھنے والے اپنے تصورات سے کوئی آدمی طلاق نہیں لیتا۔ یہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ہمیں نظر آیا ہے۔ اب اس کے سوا اب دوسرا اور کون سی اس کی اہمیت باقی ہے۔ بقیہ دو ممالک کے درمیان خیرسگالی جذبات قائم رہیں ایسی خوش گفتگو دونوں قائدین کے درمیان اپنی گفتگو کے دوران ہوئی۔ جس کی وجہ سے دونوں ممالک قریب آکر علاقائی اور عالمی سطح پر سیاست کو ایک نئی موڑ دے سکتا ہے۔ اس طریقے سے پتنگ اڑانا دونوں ممالک کے اغراض کا ایک حصہ ہے۔ جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی آبادی جس کے لئے وہاں تیار ہونے والا مارکٹ دونوں کے درمیان تجارت، لشکری طاقت، اس قسم کے مثبت اثرات کیا ہوتے ہیں وہ باہر آسکتے ہیں۔ اس قسم کی امیدیں چھوڑ چکے تھے۔ لیکن بھارت اور چین ان دو ممالک اپنے اثرات کو بڑھانے کی خاطر جو مقابلہ آرائی جاری ہے جس میں دونوں ہی مختلف مسائل پر گو کہ ان کی تلاش مشکل اور غیر حل طلب مسائل ہیں۔ یہ حقیقت کو ہم بھول نہیں سکتے۔ لیکن پھر بھی مودی اور زم پنگ کی ملاقات کے بعد کچھ امیدیں نظر آتی ہیں ایسے اشارات مل رہے ہیں اور اس طرح ان اشارات کا استقبال کرنا چاہئے۔ دونوں کے درمیان اعتبار اور خیر سگالی کا ماحول پیدا ہو اور سرحد پر اسے قائم رکھے جانے کی اطلاع اعلیٰ سطح پر دونوں ممالک کی لشکر اور فوج کو دی جائے گی۔ یہ اعلان کئے ہوئے معاملات میں سے ایک کی اہم تفصیل ہے۔ ڈوکلام کو وقار کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ اس کے لئے دونوں کو پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کا اعتماد بڑھانے کے لئے ایسی مشنری کو کھڑا کرنا چاہئے کہ جس سے لشکری ہیڈکوارٹر کو ہاٹ لائن کی انتظامیہ کی خاطر ایک حکمت عملی کی حیثیت سے اس ملاقات سے شروع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سرحد پر تناﺅ کے جو مسائل پیدا ہیں اس کا اختتام ہوگا جس کا یقین نہیں کیا جاسکتا۔ 1993 ، 1996 اور 2013ءمیں سرحد پر شانتی و سکون اور خیر سگالی قراردادیں منظور ہوئی تھی۔ چین ہندوستان کے ساتھ مشترکہ طور پر افغانستان میں معاشی پروجیکٹ کھڑا کرنے کے تصور کو ایک الگ اشارہ ہے۔ افغانستان میں بھارت کو کسی قسم کے مواقع نہ رہے اور وہ ملک ہمیشہ ان کے دباﺅ میں رہے ایسا پاکستان کی کوشش تھی۔ اس کو نہ مانتے ہوئے چین نے بھارت کے ساتھ علامتی طور پر کیوں نہ ہو اگر مدد کررہا ہے تو ہمارے لئے فائدہ مند ہے۔ ڈوکلام کے بعد چین ستلج، برہم پُتر کے پانی کے ڈاٹا دینا بند کیا تھا۔ اسی طرح فوجی امدادبھی روک دی گئی تھی۔ اب یہ پہلے کی طرح شروع ہوجائے گی۔
یہ چند مثبت باتیں اگر ہوں بھی تو اختلاف رائے اور اپنے ایک دوسرے کے ساتھ نسل در نسل سے تعلقات کو چبھنے نہیں دیا جائے گا۔ اور ایک ملاقات پر ختم ہوگی ایسا خارجی امور کی گفتگو میں کوئی بھی عقل مند نہیں تسلیم کرتا۔ لیکن اس پر کم سے کم گفتگو ہو ایک اہم مسئلہ ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان تجارت کو فروغ مل رہا ہے۔ اسی طرح بھارت کی تجارت میں فروغ ہورہا ہے۔ سرکار کسی کی بھی رہے تو یہ حالت بدلنے والی نہیں۔ تجارت کی کمی میں اضافہ ہوتے رہنا یہ ہندوستان کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 42ارب ڈالر کے تجارت سے ہندوستان کو 12 ارب ڈالر کی تجارتی منڈی ملی ہے۔ ہندوستان کے جملہ تجارت کا ایک تہائی حصہ چین سے ہے اور اس میں کچھ ٹھوس معاملات اس ملاقات سے نکل کر نہیں آئے ہیں۔ بھارت کا عالمی سطح پر جو مقام اونچا ہونے کی کوشش ہے اسے کم کرنے کی خواہش چین کی ہے۔
مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد غذا کی سپلائی کرنے والے ممالک کے گروپ NSG میں ہندوستان کا شمار ہے۔ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں مستقل رکنیت ہندوستان کو ملے ایسی امید کی گئی تھی، اس پر اب کوئی بھی کچھ نہیں بولتا کہ اس طرح دونوں ہی امور میں چین نے رکاوٹ ڈالی ہے۔ غذائی سپلائی کرنے والے ممالک کے گروپ میں بھارت کے ساتھ پاکستان کو بھی لیا جائے یہ چین کی کوشش کیا ہندوستان کے خلاف نہیں ہے؟ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت میں رکاوٹ ڈالنے میں چین ایک ہی اہم ملک ہے۔ پاکستان میں ہندوستان کے مخالف کھلی دہشت وادی کارروائیاں کرنے والے اظہر مسعود کو دہشت وادی ڈکلیئر کرنے کی کوشش میں چین پاکستان کے تائید میں تھا۔ تبت ہو کہ تائیوان ون چین معاملہ میں وہ کوئی بھی مصالحت نہیں کرتے۔ چین مقبوضہ کشمیر سے چین پاکستان اکانومک کوریڈر کے لئے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے۔ جس کے لئے وہاں لشکر کی تعینات بھی کرتا ہے۔ یہ سب کرتے وقت قانونی طور پر جب اس علاقہ پر بھارت کا اپنا دعویٰ ہے اور وہ بھارت کی مرضی کے بغیر اس قسم کا پروجیکٹ کو قائم کرنا اقتدار اعلیٰ سے متعلق اہم مسئلہ ہے۔ ان تمام کا اس ڈاکیومنٹ میں کوئی ذکر نہیں۔ جبکہ ہندوستان نے ان تمام چیزوں کی مخالفت کی ہے۔ اسی لئے چین کے بیلٹ اینڈ روٹ (one belt one root) اس عظیم پروجیکٹ میں ہندوستان کی شمولیت نہیں۔ لیکن اس کی وجہ سے چین کے اپنے کردار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اگر اس میں کوئی تبدیلی ہوتی تھی تو اس کی کوئی علامت دونوں ممالک کی تازہ گفتگو جو غیروں سے ملاقات کے دوران ہوئی اس میں نظر نہیں آتی۔ افغانستان کے دونوں ممالک کی مدد سے ہونے والے عظیم پروجیکٹ میں چین کا بیلٹ اینڈ روٹ کی اضافہ ہوا ہے۔ اس کا ہمیں تجزیہ کرنا ہوگا۔ ملاقات کی تفصیل کا اعلان ہونے کے بعد ہی ہمیں پتہ چلے گا کہ دونوں ممالک کا عالمی سطح پر کن مسئلہ پر گفتگو ہوئی وہ کچھ نظر نہیں آتا۔ چین کو بھارت کے مقابلہ میں جنوبی ایشیاءمیں اپنی حیثیت کو بڑھانا ہے۔ وہاں بھارت کے ساتھ حیثیت کو قبول کرنا چاہئے۔ دیگر مقامات پر بھارت کا مقابلہ پاکستان سے کرتے رہتا ہے۔ یہ چینی پالیسی ہے۔ اس میں کوئی خاص فرق ہوا اس کی علامت اس ملاقات میں نظر نہیں آتی۔ شدت کے اختلاف والے مسائل کو گفتگو کے لئے نہ لیتے ہوئے ایک دوسرے پر اعتماد کرنے والے جس کے لئے ویژن تیار کیا گیا تھا اس پر توجہ دی گئی تھی۔ یہ اس میٹنگ کا مقصد ہوسکتا ہے لیکن اپنے بنیادی اختلافات کے مسائل پر کبھی نہ کبھی تو سامنا کرنا پڑے گا۔
ان تمام مسائل کو قائم رکھتے ہوئے گلے سے گلے ملنے کی جو تناﺅ کم کرنے کی کوشش ہے یہ کبھی بھی کرسکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اس وقت ان دونوں ممالک کی ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس صدی میں عالمی کاروبار ہو اُسے پُرزور طریقے سے قائم رکھنے کی خاطر چین کا جو خواب زم پنگ نے دیکھا ہے اور اس کا یہ کہنا کہ تمام ہم جیسے سوچیں گے ویسا نہیں ہوتا۔ جس کی اطلاع اور واقفیت امریکہ کے بدلتے حالات نے دی ہے۔ چین کے اثرات بڑھ رہے ہیں تو بالخصوص معاشی محاذ پر۔ جہاں امریکہ نے چینی مال پر پابندی لگانے کی شروعات کی ہے، ہوسکتا ہے ایک آدھ مرتبہ یہ معاملہ بھڑک بھی سکتا ہے۔ اس لئے کہ چین کے لئے متبادل تجارتی منڈی اسے تلاش کرنا پڑے گا۔ جس میں بھارت جیسے عظیم ملک کے ساتھ گفتگو کرنا یہ زم پنگ کو سمجھ میں آتا ہے۔ عالمی سطح پر کاروباری میدان میں تیزی اور اس کا اپنا اثر و رسوخ جمانا اس ملاقات کے پیچھے مقصد ہے ایسا کہا جاتا ہے۔ بھارت میں ایک سال کے بعد لوک سبھا الیکشن ہونے والے ہیں قبل اس کے ہی چین کے محاذ پر سکون رہے یہ اقتدار والی جماعت کو ضروری لگتا ہے۔
بھارت۔ چین کے تعلقات کے بارے میں کھلنے والے کئی موضوعات ہیں جو ابھی فوری ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کے لئے اپنے شکتی پردرشن کی گفتگو کرنے سے کچھ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ جب ( دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے) یہ اس پر عمل کرنا اچھا ہی ہے۔ اقتدار میں رہ کر اپنی عقلمندی دکھانا کیوں نہ ہو۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ