ہماری خوفزدہ انسانیت

ہرش مندر

(انڈین ایکسپریس 10اپریل2018)
ترجمہ و تلخیص
ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر
رابطہ:9890245367

جب میں ان صفحات مسلم شہریوں کے بارے میں تیزی کے ساتھ اندیکھی کے بارے میں جو میں نے لکھا تھا کہ کس طریقے سے انہیں حاشیہ پر لایا جارہا ہے اس وقت میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اس موضوع پر بحث اتنی طویل ہوگی۔ میرے ذہن پر اس مباحثہ کا اخلاقی اثر جو مرتب ہوا ہے کہ کس طریقے سے یہاں کے شہریوں نے اس میں حصہ لیا اور وہ عوام میں گفتگو کا موضوع بنا۔ لیکن اس دوران جو میری باتوں سے ان لوگوں میں احساسات ابھر کے آئے ہیں تو میں اپنے آپ کو بھی ان سے علیحدہ نہیں رکھ سکا کہ میری طرح ان تمام میں بھی اس موضوع پر مسلمانوں کو حاشیہ پر ڈالنے کے لئے اس سلسلے میں غم و غصہ پایاجاتا ہے۔
مجھے اس غم و غصہ کو سمجھانا چاہئے کہ یہ جو مباحث و گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ہے جبکہ میں دیکھا تھا کہ قدامت پسند شہری میں انہیں مجرمانہ طور پر حاشیہ پر لایا جارہا ہے۔ جبکہ سیکولر سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری تھی کہ انہیں مساوات کا درجہ دیا جائے۔ لیکن یقینا یہاں کی سول سوسائٹی نے مسلمانوں کی اس مشکل و مخمسے والی زندگی کے بارے میں غورو خوص نہیں کیا کہ کس طریقے سے ہندوستان میں یہ لوگ گزر بسر کررہے ہیں۔ لیکن میرے دوست رام چندر گوہا نے جذباتیت سے مجھ سے اختلاف کیا اور اس بحث کو اس نے شناخت کے موضوع سے جوڑتے ہوئے اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ نتیجتاً ان کا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی تمام خامیوں اور پریشانیوں کی جڑ خود مسلمان ہی ہیں اور ان کی قوم خود اس کی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ وہ لوگ ابھی بھی قدیم اقدار اور عہدوسطیٰ کے ماحول میں جیتے ہیں۔ جس کی علامت کے طور پر برقعہ کا استعمال کرتے ہیں۔ اور ان کے پاس کوئی بھی آزادانہ قیادت نہیں ابھرسکی۔ اس طریقے کی ان کی یہ سوچ و فکر نے لبرل لیڈرشپ کو ذمہ دار قرار دیا کہ کس طریقے سے یہ قوم چمک دمک نہ سکی اور کس طرح اپنے طور طریقوں سے ناکام ہوتی رہی۔ گوکہ یہاں پر تکثیریت کا دور دورہ ہے جس میں ان کوبحیثیت ہندوستانی کے شامل ہونا چاہئے تھا ۔ بالخصوص وہ جو اپنے آپ کو ترقی پسند، سیکولر مانتے ہیں وہ بھی ان حالات سے متبدل نہ ہوسکے۔ اس طرح سے ان کا یہ کہنا ہے کہ ان کی پستی اور بے بسی مجبوری و لاچاری کی ذمہ دار خود مسلم ہی ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ لوگ رجعت پسند ہیں۔ اور مسلم سوسائٹی میں جو عناصر ہیں وہ بھی اپنی ترقی سے بیزار ہیں۔ لیکن وہاں اس بات کی بھی قلت نہیں ہے وہ عناصر ہندوﺅں میں بھی پائے جاتے ہیں اور یقینا دوسرے سماجی، معاشی طور پر رہنے بسنے والے ہندوستان کی دیگر قوموں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ ایسے عناصر کو چاہئے کہ وہ اپنی قوم کے درمیان جدوجہد کریں ۔یہ صرف مسلمانوں کو ہی کیوں کہا جاتا ہے۔ جبکہ ان میں مسلم کمیونٹی کے اندر اور باہر مساویانہ طور پر مساوات، اقلیت پسندی، قومیت، حب الوطنی کے لئے بہت سوں نے کام کیا ہے او راپنی زندگی اس میں گنوادی۔ اور اس طرح کی جو جدوجہد کاوشیں ہیں اس نے مسلم قوم کو مضبوط بھی کیا ہے۔ جس کی وجہہ سے ان کے طرز معاشرت، رہن سہن کی سطح میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اور اس طرح وہ ڈر و خوف، دہشت سے ظلم و زیادتی او ران کے ساتھ ہونے والے بھید بھاﺅ سے مقابلہ بھی کیا ہے۔ میں یہاں ان ترقی پسند حضرات سے بھی خوف کھاتا ہوں جو خود اپنی مقررہ شرائط و اصولوں پر کام نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا کلیتاً عمل سیاسی طور پر یا جزوی طور پر سماجی ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ اصلاحات کرنا چاہتے ہیں اور یہ اصلاحات مسلمانوں میں پایا جانے والا برقعہ، ساڑی، اسکارف، ٹوپی، پگڑی اور مخصوص قسم کے بال جبکہ یہ شناخت ہندوستان کے دستور نے ان کو بلاکسی شرط کے دی ہے اوران تمام خصوصیات کے ساتھ وہ یہاں کی پبلک لائف میں کلی طور پر حصہ لے سکتے ہیں۔
اس بحث کو گوہا نے تعجب خیز انداز پر اس میں مختلف جہتوں کو شامل کرتے ہوئے دلتوں پر لگائی جانے والی پابندی وغیرہ کو بھی شامل کیا ہے۔ اس طرح جب دلتوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اپنی مختلف تہذیب کو رکھتے ہیں تو کیوں نہ مسلم بھی برقعہ اور ٹوپی کے ساتھ عوامی ریلیوں میں شرکت کریں۔ قائدین کا اعتراض درحقیقت اصول پر مبنی نہ تھا جو برقعہ کے بارے میں کہتے۔ لیکن اس اعتراض کی بنیاد وہسنگھی مزاج کے سیاسی قائدین تھے جو آج درحقیقت ہمارے اس عہد میں کارپرداز ہیں۔ اس طرح یہ ان کا تباہ کن نظریہ و سوچ ہے کہ مسلمانوں کو عوامی ٹھکانوں پر نظر آئے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان تمام شناخت کے ساتھ عوامی سطح پر مسلمانوں کو دیکھا جائے۔ اس شناخت کی وجہ سے اکثریت پسند فرقہ کے لوگ ان کے لئے ضرر رساں بن جاتے ہیں۔ جنہیں ہندوﺅں کا سپورٹ ملتا ہے جس کا فائدہ بی جے پی کو پہنچتا ہے۔ میں اس معاملہ کو اس طرح پیش کیا ہے ہندوستان کا نظریہ خود کھوچکا ہے۔ اگر ہم مندرجہ بالا لوگوں کی سوچ کو جوں کا توں قبول بھی کرلیتے ہیں تو کس طرح ہماری آبادی کا ایک حصہ پبلک لائف سے کیونکر علیحدہ ہوگا۔ کیا دوسرے ان کا دفاع نہیں کریں گے۔ بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جائے تمام ہندو اگر اب فرقہ پرستی اور نفرت کی وجہ سے مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں یہ سچائی نہیں ہے۔ اور اگر مان بھی لیا جائے درحقیقت سچائی ہے تو ہمیں ان فرقہ پرستی اور تعصب کے خلاف لڑنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ ہم کسی طرح اس بات کو کسی قیمت پر یہ تسلیم نہیں کرتے کہ حقیقت میں اب یہ ملک ہندو نیشن ہے۔
سیاسی جماعتیں نظریاتی اعتبار سے ہم آہنگ اور متفق ہوکر ایک منشور کے تحت اگر مودی اور امیت شا جیسی مہیب قوت کو شکست دینا ہے تو اس کے لئے اس بحث و مباحثہ کو جاری رکھنا ہوگا کہ وہ اس وقت کس قسم کی ہندوستان میں بیٹنگ کررہے ہیں اور کیوں؟ اگر وہ ان مسائل پر بات چیت کرنا نہیں چاہتے ہیں تو کیونکر ایسا کرسکتے ہیں؟ میں بہت اطمینان اور احتیاط کے ساتھ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی تقریرتال کٹورہ اسٹیڈیم میں سنی ہے جو بہت ہی موثر انداز میں موجودہ حالات کے بحران میں کی گئی کہ کس طریقے سے یہاں پر بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اور دیہاتیوں کی جو بدحالی ہے اور معیشت کی جو حالت ہوئی ہے اور عوامی طور پر دلتوں پر جو حملے ہوئے ہیں جیسے کہ اناﺅ میں ہوا۔ لیکن اس تقریر میں جان بوجھ کر مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت و دشمنی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ حالانکہ دشمنی کی وجہ سے جمگھٹے اور بھیڑ شاہی نے گائے کے گﺅرکشکوں کے نام پر، لوجہاد کے نام پر یا پھر صرف اس لئے کہ وہ ٹوپی پہنتے ہیں اور داڑھی رکھتے ہیں۔ راجیو گاندھی نے اس ماحول کا ذکر جن وجوہات کی بناءپر بنا ہے اس کا نظریاتی طو پر کیسے خاتمہ کیا جائے گا جس کے لئے مضبوط لیڈر حکومت کیونکر قائم ہوسکتی ہے اس پر گفتگو نہیں ہوئی۔ تقریر کے آغاز پر نریندر مودی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بارے میں ناراضگی جتائی کے وہ کس طرح عوامی سطح پر یا سیاسی سطح پر جو وبا اپنی تقریروں سے تشدد کی پھیلائی ہے صرف اس کا وہ اظہار کرسکتے ہیں۔
اکثریت کی برتری کے رحجان عام آدمی کے ذہن میں بیماری کی طرح پھیل چکا ہے، حتیٰ کہ ترقی پسند سول سوسائٹی میں بھی اور حالات کے بارے میں بہت سے سماجی تحریکوں نے اس بات کی طرف دھیان بھی نہیں دیا ہے، خصوصاً جو ایسے گروپ کام کررہے ہیں جو شہریوں کے لئے متحرک تھے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بعض مرتبہ یہ جو مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی کیفیت ہے عوام میں ان سے جو بیزاری پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف تشدد بڑھ رہا ہے۔ بجائے اس کے بہت سے لوگ ان موضوعات پر سوشل گروپ کی طرف سے گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی غذا، ان کے کاروبار، ملازمتیں، پائی جانے والی کرپشن، ان کی تعلیم، ان کے کھیتوں کی بربادیاں وغیرہ وغیرہ یہ موضوعات کبھی کبھی اٹھتے رہتے ہیں۔ لیکن جس طریقے سے اب ڈر و خوف اور نفرت پھیلا رہا ہے اسے برادرانہ طور پر سماجی بندھن میں رہ کر ہم کس طریقے سے روک سکتے ہیں وہ نہیں ہورہا ہے۔ اس لئے میں پوچھتا ہوں کہ جو اعداد و شمار کا اظہار ہوتا ہے کہ جس میں 86 فیصد لوگ گائے کو قتل کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے خلاف تشدد کیا جارہا ہے جس میں سے 8 فیصد لوگ دلت کے ہیں تو کیا اب ہمیں اس بات کو قبول کرنے میں پس و پیش ہے کہ غیر واضح طور پر کون ان تمام حرکتوں سے متاثر وہ متضرر ہیں۔
پچھلی شب کو جب میں امام راشیدی سے ملاقات کی جو اس بات کے نمائندہ تھے کہ وہ اپنے سر پر ٹوپی اور پگڑی بندے ہوئے تھے۔ مقتول کے والد خود یہ مانتے ہیں لیکن وہاں کوئی بھی اس وقت غیر معمولی انسانیت دکھانے کے لئے وہاں نہیں پہنچا۔ جبکہ 16 سالہ نوجوان مقتول بیٹے کے اس باپ نے جو مردانگی دکھائی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میرے بیٹے سے زیادہ رنج و افسوس اس بات پر ہوگا اگر کوئی بھی ایک شخص بدلے کے لئے ایک اپنی انگشت بھی اٹھائے۔ انہوں نے ہم سے کہا میں یہ تمام باتیں اپنے اسلام سے صبر اور سکون کی باتیں سیکھی ہیں۔ اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا مسلم ہی کیوں ہر مذہب نے صبر و سکون، چین شانتی کا درس دیا ہے۔
ہندوستان کی تقسیم کے علاوہ ہم نے کوئی تقسیم نہیں دیکھی لیکن اب ہر دن ہمارے دلوں میں نئی تقسیم اُبھرتی جارہی ہے۔ ہمارے مسلم بھائی، بہنیں کیا حاشیہ پر نہیں پہنچائے جارہے ہیں۔ کیا انہیں دھتکارا نہیں جارہا ہے، کیا ان کی آج بھی دیکھی نہیں جارہی ہے، میں اس بات سے بھی گھبراتا ہوں کہ شائد ہم اپنے اس مباحثہ میں اس قدر مستغرق ہوچکے ہیں کہ آزاد ذہن والے لوگ کو فوری توجہ ان معاملات میں دینی چاہئے۔ یہ مسئلہ فوری توجہ کا طالب ہے۔ اگر ہم اس وقت سنی ان سنی اور ان سوالات پر اندیکھی کرے کہ کیا سچ ہے کیا اچھا ہے، کیا برا ہے، کیا انصاف ہے ، کیا ناانصافی ہے۔ نفرت کا زہر ہماری روحوں میں حلول ہوگیا ہے۔ ہماری نسلوں کو ہمدردی کے لئے واپس آنے کے لئے اور سماجی زندگی میں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لئے نسلیں درکار ہوں گی، اگر ہم اس وقت اس کام کا آغاز نہ کریں۔ ہم اپنی بحث کو آزاد پسند خیالات کو اگر ہم چاہتے ہیں جاری رکھیں لیکن ہم اپنی انسانیت کو ہر گز نہ کھوئیں گے۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ