معیشت کو سست کر دیں گے مہنگا تیل اور کمزور روپیہ : فکی-ایسوچیم

تیل کی قیمتوں میں لگا تار اضافے سے ملک کی معیشت تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے سرمایہ کاری میں کمی رہنے کا امکان ہے جس سے نوکریاں کم ہوں گی اور مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔

نئی دہلی،22۔مئی :دہلی میں پٹرول ڈیزل کی قیمتیں اب تک کی سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ایسے حالات میں صنعت چیمبرس فکّی اور ایسوچیم نے حکومت سے فوری مصنوعات پر لگنے والا چارج کم کرنے کی اپیل کی ہے ساتھ ہی گاڑیوں کے ایندھن کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کی بھی گزارش کی ہے۔متحرک قیمتوں کا تعین کرنے والے نظام کے تحت دہلی میں پیر کے روز پٹرول کی قیمت 76.57 روپے فی لیٹر کی نئی اونچائی پر پہنچ گئی جبکہ ایک دن پہلے ہی پٹرول کی قیمت اب تک کی سب سے اونچی سطح پر پہنچ چکی تھی۔ پٹرول کی سب سے اونچی قیمت کا ریکارڈ 2013 میں قائم ہوا تھا جب قیمت 76.06 روپے تھی۔ قومی راجدھانی میں ڈیزل کی قیمت بھی ہر روز ایک نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور پیر کے روز اس کی قیمت 67.57 روپے فی لیٹر تھی۔
فکّی نے اپنے بیان میں کہا کہ ”ایسے دور میں جب ہندوستانی معیشت میں تیزی سے بہتری کا رخ ہے، تیل کی بڑھتی قیمتوں سے ملک کی اقتصادی رفتار کو دھکا لگا گا۔“ فکّی کے صدر رمیش شاہ نے کہا کہ ”پچھلے کچھ سالوں سے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ سے معیشت کی حالت سدھری ہے۔ اب کچے تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے تومہنگائی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی روپیہ بھی گر رہا ہے جس سے کاروباری خسارہ بھی بڑھ رہا ہے۔ایسو چیم کے جنرل سکریٹری ڈی ایس راوت نے کہا کہ ”پٹرول اور ڈیزل پر مصنوعات کا چارج گھٹانے سے صارفین کو فوری راحت ملے گی۔ لیکن اس کا مستقل حل نقل وحمل کے ایندھن کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے سے نکلے گا۔ ایسا تبھی ہوگا جب مرکزی اور ریاستی حکومتیں تیل سے ملنے والے ٹیکس پر انحصار کم کریں۔
’پٹرول-ڈیزل کی مار، جواب سے مکری بی جے پی سرکار‘تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر کانگریس نے مودی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ کانگریس میڈیا سیل کے انچارج رندیپ سرجے والا نے تیل کی قیمتوں کے حوالے سے ایک ٹوئٹ میں تیل کی قیمتیں ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں پر لگاتار بڑھتی تیل قیمتوں کی مار پڑ رہی ہے لیکن مودی حکومت کوئی جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
وہیں کانگریس رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن احمد پٹیل نے کہا کہ حالانکہ ایسا سوچنا بے معنی ہے، پھر بھی امید ہے کہ موجود مرکزی حکومت عام لوگوں کو اس لئے سزا نہیں دے گی کہ انہوں نے اس حکومت کو منتخب کیا۔
’کرنٹ اکاونٹ خسارہ 2.5 فیصد جانے کا خدشہ‘اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے پیر کے روز کہا کہ کچے تیل کی قیمتوں میں حال ہی میں ہوئے اضافے سے ملک کی درآمد پر اثر پڑے گا اور کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ (سی اے ڈی) بڑھ کر جی ڈی پی کا 2.5 فیصد پہنچ چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”خام تیل کی قیمت میں 10 ڈالر فی بیرل (159 لیٹر) کے اضافے سے برآمد بل میں 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے جس سے جی ڈی پی میں 16 بنیادی ہندسوں (بی پی ایس) کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے قومی خزانے کے خسارے میں 8 بی پی ایس، کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 27 بی پی ایس اور مہنگائی میں 30 بی پی ایس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ “وہیں ریزرو بینک (آر بی آئی) نے اپریل میں رواں مالی سال کے پہلے جائزے میں اہم شرح سود کو لگاتار چوتھی بار 6 فیصد پر برقرار رکھا ہے اور کہا تھا کہ تیل قیمتوں میں اضافے سے مہنائی میں اضافے کا خطرہ ہے جو آر بی آئی کے متوسط ہدف 4 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ