ملک کے سیاسی حالات ٹھیک نہیں،موجودہ ماحول سے جمہوری اقدار اور سیکولرازم کو خطرہ

دہلی کے پادری پادری نے خصوصی دعا اور روزے کا اہتمام کرنے کی ضرورت پردیازور، پادری نے تمام چرچ کے پادریوں سے کی اپیل ،بی جے پی نے جتایااعتراض،بی جے پی کے ذریعہ آرک بشپ کے خط کی مخالفت کے خلاف دہلی کے عیسائی رہنما ہوئے متحد

نئی دہلی،22۔مئی :ملک کے سیاسی حالات کو لے کر عوام میں تشویش اور بے چینی ہے اسی بے چینی کو لے کر دہلی کے آرک بشپ (پادری ) انل کاوٹو نے دہلی کے تمام چرچوں کے پادریوں کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات ٹھیک نہیں ہیں اور ان حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ خصوصی عبادت کی جائے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 2019 کے عام انتخابات کے پیش نظر پادریوں کو عبادت کرنی چاہئے اور ہر جمعہ کو روزہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ آرک بشپ نے لکھا ہے کہ موجودہ غیر مستحکم سیاسی ماحول ہمارے حقوق کے ساتھ جمہوری اقدار اور ملک کے سیکولر تانے بانے کےلئے خطرہ بن گیا ہے۔
آرک بشپ نے کہا کہ ”اپنے ملک اور اس کے رہنماو¿ں کےلئے ہر وقت عبادت کرنا ہماری مقدس روایت ہے، لیکن جب ہم عام انتخابات کی طرف بڑھتے ہیں تو عبادت کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ “ انہوں نے لکھا کہ اگر ہم 2019 کی طرف دیکھیں تو ہمارے ملک میں ایک نئی حکومت ہوگی۔ انہوں نے تمام پادریوں سے اپیل کی ہے کہ اپنے ملک کے لئے دعا کریں۔آرک بشپ کاوٹو کے خط پر آرک بشپ سکریٹری فادر ’رابنسن راڈریگز ‘ کا کہنا ہے کہ ہر انتخابات سے قبل پرسکون اور غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کے لئے دعا کے لئے اپیل کی جاتی ہے اور ایسا 2014 سے قبل بھی ہوا تھا۔ اس بار کچھ لوگوں کی طرف سے جان بوجھ کرا سے سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ملک میں بدامنی والے سیاسی ماحول کا ذکر کرنے پر آرک بشپ آفس نےواضح کیا ہے کہ موجودہ حالات یقینی طور پر تشویش کے باعث ہیں لیکن یہ بات کسی خاص حکمرانی یا پارٹی کے حوالہ سے نہیں کہی گئی ہے۔
فادر روڈرگز نے کہا کہ لیٹر میں ’نئی حکومت ‘ لفظ کے استعمال کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد ایک نئی حکومت وجود میں آتی ہے۔ چاہے نئی پارٹی حکومت بنائے یا پچھلی پارٹی ہی حکومت میں واپسی کرے ، حکومت ہر حال میں نئی ہی بنتی ہے۔آرک بشپ کے اس خط پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ ”میں نے خط نہیں دیکھا لیکن ہندوستان وہ ملک ہے جہاں اقلیتیں محفوظ ہیں اور یہاں ذات اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاتی“۔
اس کے برعکس مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے گجرات فساد کے بعد جو جملہ نریندر مودی نے استعمال کیا تھا اس کو دہراتے ہوئے کہا ”ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاوں گا جس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہو لیکن اگر چرچ یہ دعا کرنے کےلئے کہے گا کہ آگے مودی کی حکومت نہ بنے تو ملک کے لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ دوسرے مذہب کے لوگ کیرتن پوجا کریں گے“۔گری راج کے اس بیان میں واضح دھمکی نظر آ رہی ہے۔
آرک بشپ کا یہ خط 8 مئی کا ہے، اس میں ہدایت دی گئی تھی کہ 13 مئی بروز اتوار کو عام عبادت میں اسے پڑھا جائے۔ خط میں جمعہ کو کم از کم ایک وقت کا کھانا چھوڑنے اور ملک کے لئے دعا کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ خط میں دعا کی اپیل کرتے ہوئے آر ک بشپ نے اپنے آباو اجداد اور آئین کی حفاظت، مساوات اور بھائی چارے کو بالاتر رکھنے کی اپیل کی ہے۔آرک بشپ کے اس خط پر بی جے پی نے اعترا ض ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کی رہنما شائنا این سی نے کہا کہ ذاتوں اور طبقوں کو اکسانا اور ایسی کوشش کرنا غلط ہے۔ شائنا این سی نے آرک بشپ کی اپیل پر کہا کہ آپ کسی کو صحیح امیدوار یا پارٹی چننے کی صلاح دےسکتے ہیں لیکن کسی مخصوص پارٹی کو ہی ووٹ ڈالنے کے لئے کہنا غلط ہے۔ ایسا کرتے ہوئے خود کو سیکولر کہنا افسوسناک صورت حال ہے۔
دوسری جانب دہلی کے آرک بشپ انل جوزف تھامس کاو¿نٹوکے ذریعہ عیسائیوں کے لئے لکھے گئے کھلے خط کو لے کر حکمراں بی جے پی کے لیڈران کی طرف سے کی جارہی شدید مخالفت کے بعد دہلی کے عیسائی رہنماوں نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے آرک بشپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کا اعلان کیا ہے۔ عیسائی رہنماوں کا کہنا ہے کہ آرک بشپ نے دہلی کے عیسائیوں کو ایک مذہبی رہنما کی حیثیت سے ملک کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے خاص عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔ اس میں کسی طرح کی کوئی بھی سیاست نہیں ہے۔ چرچیز آف نارتھ انڈیا دہلی ڈائسیس کے سینئر پادری فادر سلیمن جارج کا کہنا ہے کہ آرک بشپ نے ملک کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عیسائی طبقہ کے لوگوں سے خاص عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے جوموجودہ حالات ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ مرکز کی حکمراں جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دلتوں اور اقلیتی طبقوں کے لوگوں کے ساتھ ظلم وزیادتی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جگہ جگہ انہیں بغیر کسی وجہ کے مارا پیٹا جارہا ہے۔ چرچوں اور مسجدوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آرک بشپ کے خط کو سیاست سے جوڑنا ٹھیک نہیںہے۔
سلوم ارادھنالیہ کے پاسٹر بیجامن جیمس کا کہنا ہے کہ آرک بشپ کے عیسائیو ں کے خاص عبادت کرنے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی اپیل ایک عام بات ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خط میں کہیں پر بھی موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو کچھ بھی رونما ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے آرک بشپ نے عام عیسائیوں کے لئے خط لکھا ہے۔2019کے عام انتخابات کے لئے اگر بشپ نے عیسائیوں سے خاص عبادت کرنے کی اپیل کی ہے تو اس میں حکمراں جماعت سے جڑے لوگوں کو کیا اعتراض ہے۔ترکمان گیٹ میں واقع ہولی ٹرینٹی چرچ کے پادری جیکب جیمس نے کہا ہے کہ آرک بشپ کے خط میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس کی بی جے پی کے لوگ مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبادت کرنے کی اپیل ہمیشہ سے مذہبی رہنما کرتے رہے ہیں۔ اس میں بی جے پی کے لوگوں کو اتنا آگ بگولہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ آل انڈیامائنارٹی فنڈامنٹل رائٹ اینڈ پروٹیکشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری سیمسن فیڈرک جوزف نے کہا ہے کہ مرکز کی حکمراں جماعت کو آر ک بشپ کے خط پر اتنا اعتراض کیوں ہورہا ہے ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ہم نے خط پڑھا ہے اس میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی ہے جس پر اس کی مخالفت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزراء اس خط کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ اس خط میں 2019میں ملک میں ایک اچھی ،صاف ستھری اور امن پسند حکومت بنے اس کے لئے آرک بشپ نے عیسائیوں سے چرچوں میں خاص عباد ت کرنے اور روزہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ